امریکہ کیساتھ تعاون کاازسرنوجائزہ لیاجائیگا
امریکی کارروائی کی مذمت،پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کا احترام سب سے مقدم ہے دو طرفہ تعاون کی ضرورت بھی اہم ہے۔
اسلام آباد(میزان نیوز) ملکی دفاع سے متعلق پاکستان کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے
یعنی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے لیے کیے جانے والے تعاون کو ملکی مفاد اور عوامی خواہشات کے مطابق از سرنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے طے کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کے جائزے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ یہ بات جمعرات کی شام کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی زیرسربراہی ہونے والے کابینہ کی اس خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان، دفاعی پیداوار، خارجہ، داخلہ، خزانہ اور اطلاعات کے محکموں کے وزرا اور بعض دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان کے مطابق کابینہ کی اس کمیٹی نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے ہونے والی کارروائی سے پیدا شدہ صورتحال پر تفصیلی بحث کے بعد طے کیا کہ پاکستان کی سالمیت اور حاکمیت اعلیٰ کا دفاع ایک مقدس فریضہ ہے جسے ہر حال میں انجام دیا جائے گا۔ بیان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور اس کے لیے ہونے والی عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
اجلاس میں امریکی کارروائی کی مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے امریکہ کو فراہم کیے جانے والے تعاون کا قومی مفاد اور عوامی خواہشات کے تحت جائزہ لیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے مختلف ریاستی اداروں کے درمیان مشاورتی عمل شروع کیا جائے گا۔
پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کا احترام سب سے مقدم ہے اور اس کے پیش نظر دو طرفہ تعاون کی ضرورت بھی اہم ہے تاہم یہ تعاون باہمی عزت اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہوگا اور اس ضمن میں یکطرفہ کارروائیوں اور فیصلوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔
ان نکات پر اتفاق سے قبل کابینہ کمیٹی کے اجلاس سے افتتاحی خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ دو مئی کے واقعات کے بعد پاکستان کی دفاعی صلاحیت، اپنے ملک کے دفاع کے لیے اس کی انٹیلی جنس کی تیاری اور اس طرح کے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کے امکانات کے بارے میں کئی سوالات اور عوام میں خدشات کو جنم دیا ہے۔