اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

اُسامہ قتل:پاک افغان امریکہ مشترکہ کامیابی

امریکہ کو اُمید ہے کہ اب دہشت گردی ختم ہوجائے گی،مارک گراسمین پاکستان نے دہشت گردی کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے،سلمان بشیر

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان اور افغانستان کےلیے امریکی صدر کے نمائندہِ خصوصی مارک گراسمین نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت پاکستان، افغانستان اور امریکہ کی مشترکہ کامیابی ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے شہری دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں اور اسے ختم کرنے کےلیے دنوں ممالک مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت تینوں ممالک کےلیے اہمیت کی حامل ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اب دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں کئی سازشی نظریات سامنے آ رہے ہیں تو انہوں نے کہا،میں تمام سازشی نظریات کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں، میں بتا سکتا ہوں کہ اسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے ہیں، انہیں امریکہ کے خصوصی دستوں نے مارا۔ صدر اوباما نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی، پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی بیان جا ری کیا۔

انہوں نے مزید کہا،اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا، وہ مارے جا چکے ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف لڑتے رہیں گے اور پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سے بھی یہی کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے شہری دہشت گردی اور انتہاپسندی کا شکار ہوئے ہیں اور اس کو ختم کرنے کےلیے دونوں ممالک پر عزم ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعاون جاری رہے گا۔

مارک گراسمین نے بتایا کہ پاکستان کے ہزاروں شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اور ہزاروں فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ امریکہ کا تعاون کافی مضبوط ہے اور پاکستانی، امریکی اور دوسرے ممالک کے شہریوں کی حفاظت کرنا بنیادی مقصد ہے۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے اس موقع پر کہا کہ اور اس میں بڑی کامیابیاں بھی ملی ہیں۔

ایک صحافی کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت آپریشن میں الجھنا ٹھیک نہیں ہے کہ کیا ہوا اورکیوں ہوا؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ مستقبل میں دہشت گردی کے خلاف کس طرح مقابلہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ، پاکستان اور افغانستان نے سہ فریقی مذاکرات میں نئے دور کی شروعات کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف تینوں ممالک تعاون جاری رہے گا اور اس کے سوا تینوں ممالک کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں ہیں۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor