اُسامہ قتل آپریشن:پاک فورسز شامل نہیں تھیں
پاکستانیوں کے پاس القاعدہ سے نفرت کی کسی بھی قوم سے زیادہ وجوہات ہیں،صدر آصف علی ذرداری عسکری حکام کی خاموشی حیران کن
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس خیال کو رد کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کا پاکستان میں ہلاک کیا جانا پاکستان کی دہشتگردی
سے نمٹنے میں ناکامی کی نشانی ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں پاکستانی صدر نے کہا ہے کہ ان کا ملک تو دنیا میں دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے۔
اسامہ بن لادن کو اتوار کی شب پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی دستے نے ایک کارروائی کے دوران چار دیگر افراد کے ہمراہ ہلاک کر دیا تھا۔
تاہم اپنے مضمون میں صدر زرداری نے ان خیالات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ذرائع ابلاغ میں پیش کی جانے والی تصویر کے برعکس پاکستان نہ کبھی انتہاپسندی کا مرکز تھا اور نہ کبھی ہوگا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے بے بنیاد اندازے سنسنی خیز خبر تو بن سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت کے عکاس نہیں۔
صدر زرداری نے لکھا کہ ’ پاکستانیوں کے پاس القاعدہ سے نفرت کی کسی بھی قوم سے زیادہ وجوہات ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ اتنی ہی پاکستان کی ہے جتنی امریکہ کی اورپاکستان نےدہشتگردی کےخلاف کھڑے رہنے کی بڑی قیمت ادا کی ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اتوار کے روز ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی میں پاکستانی فورسز شامل نہیں تھیں اور یہ پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ آپریشن نہیں تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں صدرِ پاکستان نے لکھا ہے کہ اس مخصوص کارروائی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز تو شامل نہیں تھیں لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دہائی پر محیط تعاون القاعدہ رہنما کی ہلاکت کا باعث بنا ہے۔
پاکستانی صدر نے لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن جس جگہ پائے گئے اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی لیکن بہرحال وہ اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ صدر زرداری نے اس مضمون میں صدر براک اوبامہ کی جانب سے اس آپریشن میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت پاکستانی حکومت شدید مشکل کا شکار ہے اورجہاں اندرونی طور پر عوام اس سے ناراض ہیں وہیں امریکی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کہیں اور کوئی اہم رہنما تو یہاں چھپا ہوا تو نہیں۔اور اس صورتحال میں پاکستان کے عسکری حکام کی جانب سے خاموشی سب سے حیران کن چیز ہے۔