بحرین میں چارمظاہرین کو پھانسی کی سزا
فوجی عدالت نے اسی معاملے میں تین مزید افراد کو عمر قید کی سزا بھی دی ہے۔ ساتوں ملزمان کی عدالتی کارروائی مخفی رکھی گئی
منامہ (نیوزڈیسک) بحرین میں ایک فوجی عدالت نے چار افراد کو مظاہروں کے دوران دو پولیس کیساتھ تصادم کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔ فوجی عدالت نے اسی معاملے میں تین مزید افراد کو عمر قید کی سزا بھی دی ہے۔
ساتوں ملزمان کی عدالتی کارروائی مخفی رکھی گئی تھی جن پر حکومت کے ملازمین کو قتل کرنے کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔ مبینہ طور پر ان افراد نے دوپولیس اہلکاروں کو کار سے کچل دیا تھا۔ لیکن ان افراد نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو قانونی مدد حاصل نہیں تھی اور انہیں ان کے اہل خانہ سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مظاہروں کے دوران سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بعض اپنے خاندان کے ساتھ بھی رابطہ نہیں کرسکتے۔
تیونس اور مصر میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد بحرین میں بھی فروری میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے جن کے خلاف حکام نے سخت رویہ اپنایا ہوا ہے۔
مارچ میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد اس مقدمے کا اعلان پہلی بار ہوا تھا۔ احتجاجی مظاہروں کے بعد سے اب تک بحرین میں تقریبا تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں چار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پولیس کی حراست میں ہلاک ہوئے۔