بلوچستان: فوج نکالنےکا اعلان بلوچ لیڈرخوش نہیں ہوئے
جنرل کیانی نےایک روز قبل بلوچستان سے فوج نکالنے آپریشن بند کرنےاور پانچ ہزار بلوچوں کوفوج میں بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا
کوئٹہ (نیوزڈیسک) بلوچستان سے فوج نکالنےاور چھانیوں میں بھیجنے کے جنرل کیان
ی کے اعلان پر نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بلوچستان کا ایشو یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے فوج نکال لیں یا فورس نکال لیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پیرکو گوادر میں ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان سے فوج نکالنے آپریشن بند کرنےاور پانچ ہزار بلوچوں کوفوج میں بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا
حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ آج کا ایشو یہ ہے کہ مسخ شدہ لاشیں نہ آئیں۔ لوگ اٹھائے نہ جائیں جو لوگ اٹھا لیے گئے ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کریں اور عام آدمی کو شکایت ہے کہ جو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات ہورہی ہے اس میں اصل کردار فرنٹئیر کانسٹیبلری یا ایف سی کا ہے۔
خود آرمی چیف نے کہا ہے کہ جو کردار سوئی میں فوج کا تھا، وہ ہم ایف سی کو دے رہے ہیں۔ تو فوج تو تھی ہی صرف سوئی میں۔ باقی جگہوں پر تو ایف سی ہی کام کررہی ہے۔ جہاں لوگ مررہے ہیں جہاں خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ خود بلوچستان کی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو لکھ کر سرکاری طور پر بتایا ہے کہ صوبے بھر میں جو کارروائی کرتی ہے، ایف سی کرتی ہے، سنگین خلاف ورزیوں، لاپتہ سیاسی کارکنوں اور دیگر نوعیت کے تمام الزامات بھی ایف سی پر ہیں اور صوبائی حکومت سرکاری طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے کہہ چکی ہے کہ ایف سی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ تو جب تک ایف سی کو مکمل طور پر بلوچستان کے مکمل طور پر ماتحت نہیں کیا جائے گا کوئی فائدہ نہیں ہوسکے گا۔ بلوچ رہنماء کا کہنا ہے کہ جب تک بلوچستان کے اصل ایشوز پر بات نہیں ہوتی، اعلان کسی بھی نوعیت کا ہو اور کوئی بھی، اس سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔