اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

بلوچستان :مغوی صحافی کی لاش برآمد

صدیق عیدو حب سے شائع ہونیوالے روزنامہ ’ایگل‘ کے لیے مکران میں رپورٹنگ کرتے اور گوادر میں انسانی حقوق کمیشن کےرکن تھے

گوادر (نیوزڈیسک) بلوچستان کے علاقے اورماڑہ سے مذید دو لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں مقامی صحافی اور انسانی حقوق کمیشن کے رکن صدیق عیدو کی لاش بھی شامل ہے۔ان افراد کو چار ماہ قبل گوادر سے پسنی جاتے ہوئے اغواء کیا گیا تھا۔ بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ کراس کے قریب جمعرات کی صبح مقامی لیویز کو مزید دو لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں شناخت کے لیے سول ہسپتال پسنی منتقل کیا گیا تھا جہاں ورثاء نے ان کی شناخت صدیق عیدو اور یوسف نظر کے نام سے کی ہے۔ صدیق عیدو حب سے شائع ہونے والے روزنامہ ’ایگل‘ کے لیے مکران میں رپورٹنگ کرتے تھے اس کے علاوہ وہ گوادر میں انسانی حقوق کمیشن کے سرگرم رکن بھی تھے۔

صدیق عیدو اور یوسف نظرگزشتہ سال اکیس دسمبر کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہوئے تھے جب وہ گوادر میں ایک عدالت میں پیشی کے بعد پولیس کی تحویل میں واپس پسنی جارہے تھے۔

تربت سے مقامی صحافی اسلم جہانگیر کے مطابق واقعہ کے بعد مقامی انتظامیہ نے چار پولیس اہلکاورں کو غفلت برتنے اورصحافی صدیق عیدو کو نامعلوم مسلح افراد کے حوالے کرنے کے الزام میں معطل کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

اسلم جہانگیر کے مطابق گزشتہ سال نومبر سے اب تک مکران ڈویژن سے پانچ صحافیوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں صدیق عیدو، ظریف فراز، عبدوت، لالاحمید اور الیاس نظر شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چار روز قبل خضدار شہر سے دس کلومیٹر دور سوگز کے مقام پر مقامی لیویز کو تین افراد عبدالحفیظ، غلام مرتضی اور محمد ایوب بلوچ کی لاشیں ملی تھیں۔

اس سے قبل تربت شہر کے نواحی علاقے پدراک سے ظریف فراز اور شمیم آمین کی لاشیں ملی تھیں جس کے خلاف مختلف قوم پرست سیاسی جماعتوں کی جانب سے تین دن تک صوبے کے اکثر بڑے شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال رہی۔

دوسری جانب ایچ آر سی پی نے بلوچستان کے علاقے پسنی میں کمیشن کے کوآرڈینیٹر صدیق عیدو کے پراسرار قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے پر حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صدیق عیدو کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor