اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

جنوبی وزیرستان:اُسامہ کے حق میں مظاہرہ

مظاہرے میں عام شہریوں کےعلاوہ علماءاورملا نذیر گروپ کے طالبان کمانڈروں نے بھی حصہ لیا،پاکستان کیخلاف نعرےلگائے گئے

پشاور(میزان ڈیسک) پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے خلاف پہلی مرتبہ ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے برطانوی ابلاغی ادارے کو تصدیق کی ہے کہ پیر کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پہلی مرتبہ اسامہ کی ہلاکت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں پانچ سو سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

اہلکار نے بتایا کہ مظاہرے میں عام شہریوں کے علاوہ مقامی علماء اور ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے چند کمانڈروں نے بھی حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرہ وانا بازار کےمشرقی حصے سے شروع ہوا اور کنوڑہ چینہ میں ایک اسلامی مدرسے کے قریب ایک جلسے کی شکل اختیار گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ’امریکہ مردہ باد، پاکستان مردہ باد اور اسامہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘ کے نعرے درج تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرے میں ایک پک اپ گاڑی پر لاوڈ سپیکر لگایا گیا تھا جس کے ذریعے مختلف قسم کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مظاہرے کے دوران وانا بازار مکمل طور پر بند تھا البتہ مظاہرہ ختم ہوتے ہی بازار دوبارہ کھول دیاگیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ مظاہرہ ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے کہنے پر ہوا ہے تاھم ملا نذیر گروپ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں وزیر قبائل اور حکومت کے درمیان ایک امن معاہدہ موجود ہے۔ جس کی وجہ سے وانا میں گزشتہ ایک عرصے سے امن و امان قائم ہے جبکہ محسود قبائل کا علاقہ بیت اللہ گروپ کے خلاف ایک فوجی آپریشن کے بعد خالی ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor