اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

دہشت گردوں کیخلاف فوجی عدالتیں قائم کی جائیں

گرفتارطالبان فوری سزائیں دلوانے کیلئے سواتی جرگے کا مطالبہ،ماورائےعدالت قتل کےحوالے سےعاصمہ جیلانی کے بیان کی مذمت

پشاور (نیوزڈیسک)  پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں بااثر جرگہ نے پہلی مرتبہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سوات میں آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے عسکریت پسندوں کے مقدمات فوری نمٹانے کےلیے فوجی عدالتیں قائم کئے جائیں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلیے انہی فوجی عدالتوں سے سزائیں دی جائے۔

بدھ کو سوات پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین سوات کے نام سے موسوم جرگہ ممبران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوات میں دہشتگردی کے الزامات کے تحت گرفتار ہونے والے افراد کے مقدمات فوری طورپر نمٹائے جائیں اور اس کےلیے فوجی عدالتوں سے بہتر اور کوئی عدالت نہیں ہوسکتی۔

جرگہ کے ایک رکن اور تحصیل مٹہ کے سابق ناظم عبد الجبار خان نے بتایا کہ عسکریت پسندی کے دوران پکڑے جانے والے افراد ویسے بھی عام عدالتوں کو نہیں مانتے اور نہ ان کو ان عدالتوں پر اعتبار ہے لہذا اس سے بہتر تو یہ ہے کہ فوجی عدالتیں قائم کی جائے تاکہ ان کے کیسوں کو فوری اور جلد نمٹایا جایا۔ ان کے مطابق پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی عدالتیں پہلے ہی کام کررہی ہے۔

انہوں نے پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے سوات میں وکلاء کنونشن کے دوران دیئے گئے اس بیان کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی جس میں کہاگیا ہے کہ سوات میں ماورائے عدالت قتل ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ جب میں سوات میں طالبان، عام لوگوں کے سرقلم کرکے ان کی لاشیں کئی دنوں تک سرعام لٹکایا کر تے تھے تو اس وقت انسانی حقوق کے نمائندے کہاں تھے ، اس وقت انہوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔ ’ ان کے بقول عاصمہ جہانگیر کے بیانات سے سوات کے عوام کو دکھ پہنچ رہا ہے۔

عبد الجبار خان کے مطابق یہ سوات کے عوام کا مطالبہ ہے کہ فوجی عدالتیں قائم ہونی چاہیے تاکہ جن لوگوں نے عوام کے ساتھ ظلم کیا اور خواتین کو سرعام کوڑے لگائے ان کو کیفرکردار تک پہنچانا جائے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سوات میں پہلی مرتبہ کسی مقامی جرگہ نے فوجی عدالتوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کےدیگر اضلاع میں اس وقت ہزاروں افراد دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے الزامات کے تحت پابند سلاسل ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق ان میں بیشتر افراد کو ابھی تک عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ خیال رہے سواتی طالبان کے کمانڈر محمود اور ترجمان مسلم خان بھی حراست میں ہیں۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor