اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

عالمی حالت کےتناظرکہنے پرفصل الرحمٰن بپھرگئے

مولانا صاحب سے ازراہِ تفنن پوچھا کہ ’یہ آپ نے کیا کروا دیا ہے۔ جواب میں مولانا صاحب نے مسکرا کر کہا ’ہم نے کچھ نہیں کیا۔

جرمنی (نیوزڈیسک) اسامہ بن لادن کی امریکی آپریشن میں ہلاکت کے بعد مولانا فضل الرحمان جو کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حثیت سے برسلز کے دورے پر تھے سب سے زیادہ پریشان رہے۔

سوموار کو ہوٹل میں ناشتے کی میز پر شیری رحمان نے مولانا صاحب سے ازراہِ تفنن پوچھا کہ ’یہ آپ نے کیا کروا دیا ہے۔ جواب میں مولانا صاحب نے مسکرا کر کہا ’ہم نے کچھ نہیں کیا۔

یورپی پارلیمنٹ میں جب تقریب کا آغاز ہوا تو کئی مقررین نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ذکر کیا اور جنوبی ایشاء میں جاری تشدد اور عسکریت پسندی پر اس کے ممکنہ اثرات پر بات کی۔ کھانے کے وقفے کے دوران کئی صحافیوں نے مولانا صاحب کو گھیر لیا اور ان کا ردعمل جاننا چاہا۔ مولانا صاحب نے شروع میں تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ پاکستان سے بہت دور بیٹھے ہیں اور انہیں صورتِ حال کا علم نہیں ہے۔

صحافیوں نے پھر اصرار کیا اور کہ آپ کا تبصرہ عالمی حالت کے تناظر میں ہوسکتا ہے۔ اس پر مولانا صاحب بپھر گئے اور انہوں نے انتہائی طیش کے عالم میں کہا کہ ’جب میں نے آپ سےکہہ دیا ہے کہ میں اس مسئلے پر کچھ نہیں کہنا چاہتا تو آپ مجھے مجبور کیوں کر رہے ہیں؟ میں واپس جاؤں گا، صورتِ حال دیکھوں گا اور پھر اپنی رائے دوں گا۔

مولانا صاحب غصے میں تھے مگر پھر بھی ایک صحافی نے کہا کہ اگر آپ بیان دینے سے گھبرا رہے ہیں تو پھر تو کوئی بھی نہیں بولے گا، جس پر مولانا صاحب نے صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے کہا کہ ’جناب بات یہ ہے کہ اس وقت ماحول بہت جذباتی ہے ، اوردونوں جانب سےجذباتی ہے، اس لیے جب جذبات ذرا ٹھنڈے ہو جائیں گے تو پھر میں اس پر کچھ بولوں گا۔‘

کھانے کے ہال میں میڈیا کے لوگوں کو اپنا ریکارڈنگ کا سامان لے جانے کی اجازت نہیں مگر وہاں کئی یورپی افراد نے مولانا صاحب سے ایک بار پھر اسامہ کے بارے میں سوال کیا جس پر انہوں نے ایک بار پھر اس کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ’جو بھی ہوا وہ اچھا نہیں ہوا۔‘

اپنے خطاب کے بعد مولانا صاحب نے ہال سے چلے گئے اور وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ ہال سے باہر بھی بیلجیم کے مقامی میڈیا کے نمائندے موجود تھے مگر مولانا فضل الرحمان نے کسی سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کی اور ہر درخواست کو سختی بلکہ درشتگی سے رد کرتے ہوئے بہت تیزی سے میڈٰیا کے ہجوم سے نکل گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کے وہ پیر کی شب ہی پاکستان واپس روانہ ہوگئے ہیں حالانکہ یہ کانفرنس دو دن کی تھی۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor