اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

فوج حقانی نہیں پاکستانی طالبان کا پیچھا کررہی ہے

جنرل کیانی نے امریکی ایڈمرل کو بتادیا ڈرون حملے دہشت گردی کیخلاف کوششوں پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کی کامیابیاں منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے۔

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق جنرل کیانی نے اس منفی پروپیگنڈا کو بھی رد کیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید کرنا چاہیے اور یہ کہ پاکستانی فوج کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح حکمت عملی نہیں ہے۔

یہ بیان رات گئے آئی ایس پی آر کی جانب سے امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کی جنرل کیانی سے ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کیمطابق جنرل کیانی نے ایڈمرل مولن کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے ڈرون حملوں کے موقف کو دہرایا اور کہا کہ یہ حملے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے باعث عوامی رائے فوجی کارروائی کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی اور جنرل شمیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے اسٹریٹیجک تعلقات دونوں ممالک کی سکیورٹی کے لیے اہم ہیں۔

اس سے قبل امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات ہیں۔ یہ بات پاکستان کے دورے پر آئے ایڈمرل مولن نے انگریزی اخبار ڈان کو انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک موجود ہے اور حقانی نیٹ ورک افغانستان میں کارروائیاں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ روابط ہیں۔اور پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن پر لیت ولعل سے کام لے رہی ہے اور یہی پاک امریکہ تعلقات کا ’سب سے مشکل حصہ‘ ہے۔

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ آئی ایس آئی کے کافی عرصے سے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات ہیں۔ افغانستان میں جاری مزاحمت میں حقانی طالبان کی مدد کر رہا ہے اور مالی امداد بھی کر رہا ہے۔ اور اس کے تربیت یافتہ جنگجو افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ یہ میرا فرض ہے کہ حقانی کی امداد کو روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کروں۔

پاکستان فوج کی اس مختصر پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ ملاقات جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کواٹرز، راولپنڈی میں ہوئی۔ دونوں فوجی رہنماؤں نے علاقائی سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

اس سے قبل ایڈمرل مولن جب ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ان کا اعلی فوجی حکام نے استقبال کیا۔ یہ ان کا اب تک کا پاکستان کا بائیسواں دورہ بتایا جا رہا ہے۔

تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی انٹیلیجنس کے سینیئر اہلکار نے کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ مولن کن تعلقات کی بات کر رہے ہیں۔ اگر ان کا مطلب ہے کہ ہم حقانی کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور ان کی مدد کر رہے ہیں تو یہ درست نہیں ہے۔ اگر آپ دشمن بھی ہیں تو تعلق تو روابط تو ہوتے ہیں۔

پاکستانی اہلکار نے مزید کہا کہ حقانی کے ٹھکانوں پر کئی بار حملے کیے گئے ہیں اور ان کے زیر انتظام مساجد پر دھاوے بولے گئے ہیں۔ ’اس وقت ہم حقانی کے پیچھے نہیں جا رہے کیونکہ ہم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی میں لگے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایڈمرل مائیک مولن نے پاکستان دورے سے قبل افغانستان میں اپنے قیام کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے افغانستان میں حقانی گروپ سے تعلقات ہیں۔

مائیک مولن نے اعتراف کیا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کافی دشوار ہیں لیکن ان کا کہنا تھا ’ہم تعلقات خراب ہونے کے شدید خطرے کے قریب سے واپس آئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے امریکی فوجی ٹرینرز میں کمی کرنے کے حوالے سے ایڈمرل مولن نے کہا مستقبل میں بھی فوجی تربیتی پروگرام جاری رہیں گے۔

افغانستان کے حالات کے بارے میں مولن کا کہنا تھا ’میں نے امریکی عوام کو افغانستان کے حالات کے بارے میں صاف صاف بتایا ہے۔ افغانستان میں ہمیں پچھلے سال کافی نقصان ہوا اور وہ اس سال بھی ہو گا۔ لیکن طالبان کے لیے پچھلا سال مشکل تھا اور یہ سال اس سے بھی زیادہ مشکل ہوگا۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor