اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

قائم علیشاہ کی رہاشگاہ کےقریب گداگروں کی بستی میں آگ

متاثرین کا کہنا ہے کہ آگ حادثہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے،آگ کسی شخص نے لگائی ہے راکھ سے 3بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔

خیرپور (نیوزڈیسک) خیرپور میں گدا گروں کی بستی میں آگ لگنے سے 300جھگیاں جل گئیں، جھگیوں کی راکھ سے 3بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔

وزیراعلٰی سندھ قائم علی شاہ کی رہائش گاہ کے قریب ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی اراضی پر گدا گروں نے بستی بنا رکھی ہے، چار سو سے زائد جھگیوں پر مشتمل بستی پر سہ پہر سوا تین بجے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گدا گر بے بسی سے اپنے آشیانوں اور سامان کو راکھ کا ڈھیر بنتا ہوا دیکھتے رہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ آگ حادثہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے، آگ کسی شخص نے لگائی ہے۔ متاثرہ ایک خاتون کا کہنا تھا ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی ہمارے سامنے راکھ ہو گئی۔

متاثرہ افراد کے مطابق آگ سوا تین بجے لگی جبکہ فائر بریگیڈ کا عملہ بروقت اطلاع کے باوجود پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے موقع پر پہنچا حالانکہ فاصلہ صرف 5 منٹ کا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم او محمد علی بلوچ کا کہنا ہے کہ فائربریگیڈ کا گاڑی کسی دوسرے مقام پر ریسکیو آپریشن میں مصروف تھی جس کے باعث تاخیر ہوئی۔

آگ جب تھمی تو جھگیوں کی راکھ سے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جن میں 6سالہ سائرہ، 7سالہ ثریا اور 9 سالہ نامعلوم لڑکا شامل ہیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ہم نے سال بھر کا راشن جھگیوں میں جمع کر رکھا تھا، حکومت ہماری مدد کرے

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor