اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

لاہور میں ایم کیوایم کےجلسےپر بی بی سی کا تبصرہ

جلسے میں شریک زیادہ تر لوگ پنجاب کے تھے جبکہ شکل و صورت سے ایسے لوگ بھی جلسہ گاہ کے اندر دکھائی دیئے جن کا تعلق پنجاب سے نہیں تھا۔

کراچی۔۔۔۔۔۔۔۔ متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم نے لاہور میں ایک جلسہ عام کا انقعاد کر کے پنجاب کی سیاست میں خود متعارف کروانے کی ایک اور کوشش کی ہے ۔ایم کیو ایم کا یہ جلسہ لاہور میں قذافی سٹیڈیم کے قریب فٹبال گروانڈ میں ہوا جس سے جماعت کے قائد الطاف حسین نے خطاب کیا ۔ایم کیو ایم کی قیادت لاہور میں جلسہ کے لیے ایک ماہ سے اس تیاریوں میں مصروف تھیں اور اس مقصد کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی جلسے میں شرکت کی دعوت دی گئی ۔

پنجاب میں حکمران جماعت نے ایم کیو ایم کو قذافی سٹیڈیم کے باہر جلسہ عام کرنے کی اجازت دی تھی تاہم جلسے سے ایک رات قبل یہ جگہ تبدیل کردی گئی اور ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔

جلسے میں شرکت کے لیے زیادہ تر لوگ پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے تھے جبکہ شکل و صورت اور حلیہ کے اعتبار سے ایسے لوگ بھی جلسہ گاہ کے اندر دکھائی دیئے جن کا تعلق پنجاب سے نہیں تھا۔ایم کیو ایم نے لاہور میں اپنے جلسے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی لیکن اس جلسے میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری ظہیر الدین خان اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے عہدیداروں کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار نے شرکت نہیں کی ۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے جلسے کے شرکا سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو پنجاب میں اپنی جگہ بنانے میں وقت لگے گا لیکن ایم کیوایم تو پنجاب میں چھاگئی ہے ۔

ایم کیو ایم کئی برسوں سے جنوبی پنجاب کے علاقوں ملتان اور بہاولپور میں مہاجر آبادی میں سرگرم ہے اور اب گزشتہ چند برسوں سے لاہور میں تنظیم سازی کے لیے کام کررہی ہے ۔

تیرہ اگست سنہ دوہزار چھ میں بھی ایم کیو ایم نے لاہور میں مینار پاکستان میں ایک جلسہ کیا تھا جبکہ گزشتہ برس اپریل میں پنجاب کے تین مختلف شہروں لاہور ، راولپنڈی اور ملتان میں بیک الطاف حسین میں ٹیلی فونک خطاب کیا تھا ۔

ایم کیو ایم کے لاہور میں جلسے کے بارے میں سیاسی مبصر ڈاکٹر حسن عکسری رضوی کہتے ہیں کہ یہ جلسہ ایم کیو ایم کی خود کو دوبارہ سے متعارف کروانے کی کوشش کی ہے تاہم بقول ان کے ہجوم کے اعتبار سے یہ ایک درمیانہ جلسہ تھا ۔

ڈاکٹر حسن عکسری رضوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم کیو ایک ناراض ووٹرز کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے تاہم پنجاب میں مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی موجودگی میں ایم کیو ایم ایک موثر جماعت کے طور پر سامنے آتی دکھائی نہیں دے رہی ۔

ادھر ایم کیو ایم نے لاہور میں ہونے والے جلسے کو ایک کامیابی قرار دیا ہے جبکہ پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا جلسہ ناکام رہا ہے ۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor