نواز اور شہباز قوم سے معافی مانگیں،ہاشمی
سرائیکی علاقے میں لوگ کہتے ہیں جب رائےونڈ کی ایک سڑک پر دس دس ارب روپے خرچ ہوں گے تو دوسرے علاقوں کا کیا بنے گا؟۔
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے سرائیکی، بہاولپور اور ہزارہ سمیت مزید صوبے بنائیں اور میاں نواز شریف کو
ضیاءالحق سے تعاون اور پرویز مشرف سے معافی مانگ کر ملک سے باہر جانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق کی کابینہ میں شمولیت پر وہ آج تک شرمندہ ہیں اور وہ اس غلطی پر پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے قائد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ضیاءالحق سے سیاسی تعاون اور پرویز مشرف سے سزا معاف کرواکر دس برس کے لیے باہر چلے جانے پر قوم سے معافی مانگیں۔
جاوید ہاشمی کے اس مطالبے پر اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان جو اپنے چیمبر میں بیٹھے تھے وہ تیز تیز چلتے ہوئے ایوان میں آئے اور اپنی جماعت کے خواجہ آصف اور سردار مہتاب عباسی سے کھسر پسر کی اور ایوان سے باہر چلے گئے۔ بظاہر ایسا لگا کہ وہ شہباز شریف کو رپورٹ دینے گئے ہیں۔
جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران پارٹی کو سنبھالا اور پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی وجہ سے بغاوت کے مقدمے میں جیل چلے گئے۔ اس دوران چوہدری نثار علی خان اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ جب سنہ دو ہزار آٹھ میں انتخابات ہوئے تو جاوید ہاشمی کے بجائے پارٹی میں چوہدری نثار کی اہمیت بڑھ گئی اور ہاشمی پیچھے چلے گئے۔ ان کے بعض ساتھیوں کے بقول پارٹی میں نظر انداز کئے جانے پر انہیں گزشتہ برس برین ہیمرج ہوگیا۔
جاوید ہاشمی جو آج کل بھی کافی کمزور ہیں انہوں نے اپنی لرزتی آواز میں چوہدری نثار اور خواجہ آصف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے اپنی پارٹی نے کہا کہ مشرف سے حلف لیں اور وزیر بنیں، میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں مر جاؤں گا مشرف سے حلف نہیں لوں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرائیکی علاقے میں لوگ کہتے ہیں کہ جب رائےونڈ (شریف برادران کی رہائش گاہ) کی ایک سڑک پر دس دس ارب روپے خرچ ہوں گے تو دوسرے علاقوں کا کیا بنے گا؟۔
ملتان کے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ جس بھی سیاسی جماعت کے رہنما کی بیرون ملک ملکیت اور بینک اکاؤنٹ ہیں وہ پاکستان میں لائیں یا پھر پاکستان کی قیادت چھوڑ دیں۔ ان کی تقریر کے دوران ایوان کی دونوں جانب تمام جماعتوں کے ارکان ڈیسک بجاتے رہے۔
اپنی جماعت کی قیادت پر ہلکی پھلکی تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ پہلے کبھی پارٹی کو ٹکٹ کے لیے کہا اور نہ اب کہیں گے۔