اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

پاکستانی طلبہ ایجنٹ کےانتخاب میں احتیاط کریں،برطانیہ

بدنیت پاکستانی ایجنٹس معصوم طلباء کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نئے نظام کے بارے میں انہیں گمراہ کرتے ہیں۔

حکومتِ برطانیہ نے ایک بیان میں پاکستانی طلباء کو برطانوی ویزے کے حصول کے لیے پاکستانی ایجنٹس کے انتخاب کے معاملے میں احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکام نے حال ہی میں طلباء کے لیے ویزا کے عمل میں کچھ اصلاحات کیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد برطانیہ میں تعلیمی ویزے پر آ کر کام کرنے والے افراد کی طرف سے امیگریشن سسٹم کے غلط استعمال کا تدارک کرنے کے علاوہ کم تر درجے کے کچھ تعلیمی اداروں کے ہاتھوں مستحق طلباء کو گمراہ ہونے سے محفوظ کرنا بھی ہے۔

امیدواروں کو ویزے کے حصول کے لیے کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ کسی اضافی رہنمائی کی اشد ضرورت کے لیے امیدوار اپنے ایجنٹ کے انتخاب میں محتاط رہیں

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق کچھ بدنیت پاکستانی ایجنٹس معصوم طلباء کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نئے نظام کے بارے میں انہیں گمراہ کرتے ہوئے طلباء کو بھاری معاوضے پر جعلی ویزا کی پیشکش کر رہے ہیں۔

ایسے ایجنٹس کی مشاورت کے نتیجے میں جمع کرائی گئی ویزا درخواست نامکمل یا غلط ہونے کی وجہ سے نہ صرف عمل میں تاخیر بلکہ مسترد ہونے کا باعث بنتی ہے۔ ان ایجنٹس کی وجہ سے جمع کرائے گئے جعلی دستاویزات امیدوار کے لیے برطانیہ کے سفر پر دس سالہ پابندی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق برطانوی ویزے کے امیدواروں کو ویزے کے حصول کے لیے کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ ’کسی اضافی رہنمائی کی اشد ضرورت کے لیے امیدوار اپنے ایجنٹ کے انتخاب میں محتاط رہیں۔

ایجنٹس مناسب فیس کے عوض یہ کام کریں اور ویزے کی درخواست کے بارے میں کسی قسم کی یقین دہانی نہ کرائیں کیونکہ اس عمل اور فیصلے میں ان کا کوئی کردار یا اختیار نہیں ہے۔ ہم امیدواروں سے بدنیت ایجنٹس کے بارے میں پولیس کو مطلع کرنے کی بھی درخواست کرتے ہیں۔

طلباء ویزے کے بارے میں موجودہ اور پیش آئندہ پوائنٹس بیسڈ سسٹم ٹائر فور کے قوانین یوکے بارڈر ایجنسی کی ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں

http://www.ukba.homeoffice.gov.uk

ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں برطانوی امیگریشن نظام مِیں گزشتہ سال کے دوران کافی بہتری آئی ہے۔ سنہ دو ہزار دس کے اوائل میں ویزا جاری کیے جانے کی اوسط مدت آٹھ سے بارہ ہفتے تھی۔ آج پندرہ یوم کے کسٹمر سروس ہدف کے دوران ویزا جاری کئے جا رہے ہیں

بیان کے مطابق برطانوی حکومت پاکستانی طلباء کے کردار کو سراہتے ہوئے مستحق طلباء کے برطانیہ میں حصول تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں برطانوی امیگریشن نظام میں گزشتہ سال کے دوران کافی بہتری آئی ہے۔ سنہ دو ہزار دس کے اوائل میں ویزا جاری کیے جانے کی اوسط مدت آٹھ سے بارہ ہفتے تھی۔ آج پندرہ یوم کے کسٹمر سروس ہدف کے دوران ویزا جاری کئے جا رہے ہیں۔

ہائی کمیشن نے طلباء سے درخواست کی ہے کہ اپنی ویزا درخواست کے عمل کے تیز ترین نتائج کے لیے درخواست پُر کرتے وقت مناسب رہنمائی سے استفادہ کرِیں۔ درخواست فارم میں پوچھی گئی معلومات مکمل اور موزوں فراہم کرِیں۔

تاخیر سے بچنے کے لیے امیدوار اپنے ممکنہ سفر سے تین ماہ قبل ویزے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ ویزے کی درخواست کے بارے اضافی معلومات ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor