پاکستان: ایشیائی بینک نےمزید مہنگائی کامژدہ سنا دیا
افراط زر میں اضافہ اس وقت پاکستان کے غریب اور محدود آمدن والے طبقے کا سے بڑا دشمن ہے۔ شرح نمو کا ہدف 2.5 ہونے کی توقع ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہےکہ پاکستان میں
رواں مالی سال کے دوران توقع سے کم شرح نمو اور افراط زر کی شرح میں مزید اضافے کا امکان ہےجس سے آنے والے دنوں میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبےعوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔
بدھ کو اسلام آباد میں جاری ہونے والے بینک کےسالانہ اقتصادی جائزے کے مطابق پاکستان کو تباہ کن سیلاب سے دس ارب ڈالر کا نقصان ہوا جس کی وجہ سے حکومت نے 4.5 فیصد کی شرح نمو کا جو ہدف مقررہ کیا تھا وہ اب 2.5 ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو 3.7 فیصد کی پیش گوئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سےگفتگو میں پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے سربراہ روُنے اسٹروم نے کہا کہ ملک میں افراط زر سب سے زیادہ پریشان کن امر ہے۔افراط زر میں اضافہ اس وقت پاکستان کے غریب اور محدود آمدن والے طبقے کا سے بڑا دشمن ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ مالی سال میں افراط زر کی شرح گیارہ فیصد تھی جو اس سال بڑھ کر پندرہ فیصد تک پہنچ چکی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں آئندہ مالی سال کے دوران اس میں مزید اضافہ ممکن ہے،جس کا پاکستانی عوام پر شدید بوجھہ پڑ سکتا ہے۔
اسٹروم کی رائے میں عوام کو ان مشکلات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سوشل سیفٹی نیٹ‘ ترتیب دے، سماجی شعبے پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے اور اقتصادی ترقی کے تمام منصوبوں میں اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے نتائج صرف پیداوار میں اضافےکی صورت میں برآمد نا ہوں بلکہ پاکستانی عوام بھی اس سے مستفید ہوں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی معشیت کی ترقی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کی طرف سے ’لارج اسکیل مینوفیکچرنگ‘، تیل و گیس سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی کا رخ موڑے جو 2006 میں مجموعی ملکی پیداوار کا 20.5 فیصد تھی اور 2010 میں کم ہوکر پندرہ فیصد رہ گئی ہے۔
بینک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے بعد حکومت کو پبلک سیکٹرڈویلوپمنٹ پروگرام میں مجبوراً جو کٹوتی کرنا پڑی اس کے عوام کی فلاح و بہبود پر منفی اثرات ناگزیر ہیں۔ دوسری طرف سیلاب ذدگان کا حال یہ ہے کہ جس سے پوچھو وہ حکومت کی بےحسی کا رونا رو رہا ہے،یہ حقیقت کتنی تکلیف دے ہے کہ ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں آئی جبکہ پارلیمنٹرینز کی مراعات میں 2006ء کے بعد کئی گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔