پاک بھارت تجارت: ویزا قوانین میں نرمی کافیصلہ
دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس اسی سال جون میں ہوگا
اسلام آباد (نیوزڈیسک) بھارت اور پاکستان نے تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی معاملات کو حل کرنے کےلیے جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو تجارت سے متعلق تمام معاملات جائزہ لےگا۔ دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ
تجارتی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں تجارت سے متعلق تمام معاملات پر بات چیت ہوئی اور نجی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنا دونوں ممالک کی ترجیح میں شامل ہے۔ دونوں ممالک نے نان ٹیرف بیریئر کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کےلیے پہلے دونوں ممالک کے معاشی ماہرین ان بیریئرز کی نشادہی کریں گے جس کے بعد ستمبر دو ہزار گیارہ میں ہونے والے ورکنگ گروپ کے اجلاس فیصلہ کا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس ورکنگ گروپ کا اجلاس اسی سال جون میں ہوگا اور بتایا کہ اس گروپ کی مسلسل نگرانی کی جائے گی جس مقصد کےلیےدونوں ممالک کے سیکریٹری تجارت سال میں دو بار ملاقات کریں گے۔
مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ تجارت کے فروغ کےلیے ضروری ہے کہ تاجروں کو ویزا ملنے میں دشواری نہ ہو اس لیے ویزا قوانین میں نرمی کافیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے سیکریٹری داخلہ نے بھی بات چیت کی تھی۔
ظفر محمود کے مطابق واگھا بارڈر پر تجارت کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے اور اس حوالے سے کسٹم قوانین میں نرمی کا جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موناباؤ کھوکھراپار راستے کو کھولنے پر بھی مذاکرات کیے جائیں۔
سیکریٹری سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ اسی سال جولائی میں دلی میں ملاقات کریں گے۔