ڈرون حملوں کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے
اگر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے نہ رکے تو وہ نیٹو افواج کےلیے افغانستان جانے والی رسد کو روک دیں گے،قبائلی رہنما کی دھمکی
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنماء اجمل خان وزیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا زیادہ تر شکار عام لوگ ہو رہے ہیں اور حکومت کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے امریکی ڈرون
حملوں کی شدید مذمت کی اور موجودہ حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ بات اسلام آباد پریس کلب ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر قبائلی علاقوں کے کچھ رہنماء بھی پریس کانفرنس میں شریک تھے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے نہ رکے تو وہ نیٹو افواج کےلیے افغانستان جانے والی رسد کو روک دیں گے،ان کے مطابق گزشتہ برس جتنے ڈرون حملے ہوئے اس سے کہیں زیادہ دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور کئی بےگناہ افراد خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا شکار بنے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ ذہنی مریض بن گئے ہیں اور ہر وقت انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں جاسوس طیارہ ان کے گھر پر نہ حملہ کر دے۔
اجمل خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ رہی ہے اور ان حملوں کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف مل کر آواز اٹھائیں اور اس حوالے سے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ مزید ڈرون حملے نہ ہو سکیں۔
قبائلی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلے کو اٹھائے اور ڈرون حملے بند کروانے کےلیے فوری طور پر امریکہ سے بات کرے۔