کرم ایجنسی: شاہراہ کھلواو،فوج تعینات کرو
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سڑکوں کی بندش اور مغویوں کی بازیابی کےلیے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔جمعہ کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک مظاہرے میں مظاہرین نے شاہراہوں کو محفوظ بنانے کےلیے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرے کی قیادت کرم ایجنسی سے رکنِ قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے کی جس میں علاقے کے نوجوانوں، عمائدین اور طوری قبیلے سے تعلق رکھنے والے مشاہیرِ ملت نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرم ایجنسی میں شاہراہوں کو محفوظ بنانے کےلیے فوجی اہلکاروں کو تعینات کی جائے۔
کرم ایجنسی کی شعیہ سنی قبائلی امن جرگہ نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں ٹل پارہ چنار شاہراہ کھولنے اور مغویوں کی فوری بازیابی پر اتفاق کرلیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بگن کے علاقے سے اغواء ہونے والے مغویوں کو بھی فوری طورپر بازیاب کرایا جائے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جن قبیلوں نے مری امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ کرم ایجنسی کے نوجوان اور طوری قبیلے کے افراد پچھلے ایک ہفتہ سے اسلام آباد میں کرم ایجنسی کی سڑکوں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔اس سے چند ہفتے قبل کرم ایجنسی کے علاقے بگن میں مسل
ح افراد کی جانب سے دو مسافر گاڑیوں پر حملے کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
مسلح افراد نے مسافر گاڑیوں میں پارہ چنار جانے والے پینتیس کے قریب مسافروں کو بھی اغوا کر لیا تھا تاہم بعد میں ان میں سے چند خواتین اور بچوں کو آزاد کردیا گیا تھا۔
اطلاعات کیمطابق کچھ دن قبل ان مغویوں میں سے چند افراد کی لاشیں بھی ملی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے مغویوں کی بازیابی کےلیے کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔