اقوام متحدہ کے سربراہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں پر شدید فکرمند
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کے خلاف حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قومی سلامتی کے وزیر کے بیانات کی مذمت کرے جو فلسطینیوں کے خلاف "ظالمانہ جرائم" پر اکساتے ہیں۔...
اس مضمون سے پوچھیں
اقوام متحدہ کے سربراہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں پر شدید فکرمند، فلسطینیوں پر حملوں کی مذمت
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قومی سلامتی کے وزیر کے ان بیانات کی مذمت کرے جو فلسطینیوں کے خلاف "ظالمانہ جرائم" پر اکسانے کے مترادف ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال عالمی برادری کے لیے فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
ایک نظر میں
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں اور فلسطینیوں پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، فوری کارروائی کا مطالبہ۔
- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کن اسرائیلی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی اطلاعات اور فلسطینیوں کے خلاف حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
- اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے کیا مطالبہ کیا ہے؟ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قومی سلامتی کے وزیر کے ان بیانات کی مذمت کرے جو فلسطینیوں کے خلاف "ظالمانہ جرائم" پر اکسانے کے مترادف ہیں۔ ان بیانات کو تشدد کو ہوا دینے والا قرار دیا گیا ہے۔
- اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قانون کے تحت کیوں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے؟ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت، ایک قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے میں اپنی آبادی منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اقوام متحدہ اسی بنیاد پر مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے اور اسے دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں پر حملوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا دفتر اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے قومی سلامتی کے وزیر کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرے، جنہیں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, پی ٹی اے اور گوگل کا بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے تاریخی معاہدہ.
- شدید تشویش: اقوام متحدہ کے سربراہ نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر پر گہرا دکھ اور تشویش ظاہر کی ہے۔
- انسانی حقوق: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیلی وزیر کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔
- بین الاقوامی قانون: اقوام متحدہ کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
- پالیسی کی تبدیلی: عالمی اداروں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی ترک کرے۔
پس منظر اور تاریخی سیاق
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر ایک دیرینہ اور متنازعہ مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت، جن میں چوتھا جنیوا کنونشن بھی شامل ہے، ایک قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے میں اپنی آبادی منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اور اسی بنیاد پر اقوام متحدہ ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ اس کے باوجود، اسرائیل نے ۱۹۶۷ کی جنگ کے بعد سے ان بستیوں کی توسیع جاری رکھی ہے، جو فلسطینی ریاست کے قیام کے دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مغربی کنارے میں اس وقت تقریباً ۷۰۰،۰۰۰ سے زیادہ اسرائیلی آباد کار رہائش پذیر ہیں، جو تقریباً ۱۵۰ سے زائد بستیوں اور ۱۲۸ سے زائد غیر قانونی چوکیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان بستیوں کی توسیع نہ صرف فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کا باعث بنتی ہے بلکہ ان کے روزمرہ کے معمولات، نقل و حرکت اور بنیادی حقوق کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد قراردادوں میں ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جن میں قرارداد ۲۳۳۴ (۲۰۱۶) بھی شامل ہے، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم میں بستیوں کی تمام سرگرمیاں فوری اور مکمل طور پر بند کرے۔
اقوام متحدہ کا مؤقف اور ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی چوکیوں کی رپورٹس سے "شدید پریشان" ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور یہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق، بستیوں کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے بھی اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ OHCHR کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر کے الفاظ فلسطینیوں کے خلاف "ظالمانہ جرائم" پر اکسانے کے مترادف ہیں اور عالمی برادری کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ ان بیانات کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرے۔
ماہرین کا تجزیہ
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع کا عمل مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس سے منسلک مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار ڈاکٹر احمد رضوی کے مطابق، "یہ بستیوں کی تعمیر محض زمین پر قبضہ نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینیوں کی قومی شناخت اور خود ارادیت کے حق پر براہ راست حملہ ہے۔ ہر نئی بستی دو ریاستی حل کے امکان کو ایک اور قدم پیچھے دھکیل دیتی ہے۔"
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو سارہ خان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، "اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کے بیانات، جن میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، نہ صرف سفارتی طور پر نقصان دہ ہیں بلکہ یہ خطے میں مزید تشدد کو بھڑکا سکتے ہیں۔ ایسے بیانات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان کی فوری مذمت ضروری ہے۔" ماہرین کے مطابق، عالمی طاقتوں کو صرف مذمت تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔
اثرات کا جائزہ
مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر کے گہرے اثرات فلسطینی آبادی پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان بستیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کی زمینوں تک رسائی محدود ہو جاتی ہے، ان کے زرعی علاقے چھین لیے جاتے ہیں، اور ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال فلسطینیوں کی معاشی اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔
فلسطینی دیہاتوں اور شہروں کے درمیان رابطے منقطع ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے سماجی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کے اشتعال انگیز بیانات فلسطینیوں میں بے چینی اور غصے کو بڑھاوا دیتے ہیں، جس سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر حملوں میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور ایسے بیانات ان حملوں کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر، یہ صورتحال اقوام متحدہ کی ساکھ اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر جب سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
مستقبل قریب میں، اقوام متحدہ کی جانب سے اس مسئلے پر مزید سفارتی دباؤ ڈالنے کا امکان ہے۔ سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث ہو سکتی ہے، اور عالمی طاقتیں اسرائیل سے بستیوں کی توسیع روکنے کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔ تاہم، عالمی برادری کے اندر اس مسئلے پر اتفاق رائے کی کمی عملی اقدامات میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی بین الاقوامی عدالتوں اور اداروں سے رجوع کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ بستیوں کی تعمیر کو روکا جا سکے اور فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
اگر بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے دو ریاستی حل کے امکانات مزید دھندلے پڑ جائیں گے اور ایک طویل المدتی امن معاہدے تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑیوں کو اس مسئلے پر مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اہم نکات
- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل: انتونیو گوتیرس نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر پر "شدید تشویش" کا اظہار کیا ہے۔
- انسانی حقوق کا دفتر: OHCHR نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: اقوام متحدہ بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتا ہے اور اسے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
- فلسطینیوں پر اثرات: بستیوں کی توسیع فلسطینیوں کی زمینوں، نقل و حرکت اور بنیادی حقوق کو محدود کرتی ہے، جبکہ تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
- عالمی برادری کا کردار: اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
- امن کے امکانات: بستیوں کی مسلسل توسیع اور اشتعال انگیز بیانات خطے میں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں
- اقوام متحدہ
- اسرائیل
- فلسطین
- مغربی کنارہ
- اسرائیلی بستیاں
- انتونیو گوتیرس
- انسانی حقوق
- بین الاقوامی قانون
- pakistan
معتبر ذرائع:
متعلقہ خبریں
- پی ٹی اے اور گوگل کا بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے تاریخی معاہدہ
- بلوچستان کے پنجگور میں خفیہ اطلاعات پر ۵ دہشت گرد ہلاک
- پاکستانی ملاح بحفاظت وطن واپس، حوثی حملے میں زخمی ہوئے تھے
آرکائیو دریافت
- پاکستان میں مہنگائی کا رجحان: گھرانوں پر شدید اقتصادی دباؤ
- سی پیک فیز ٹو: پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات اور آئندہ چیلنجز
- پاکستان میں آبی تحفظ اور ڈیم پالیسی: بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی
اکثر پوچھے گئے سوالات
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کن اسرائیلی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے؟
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی اطلاعات اور فلسطینیوں کے خلاف حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قومی سلامتی کے وزیر کے ان بیانات کی مذمت کرے جو فلسطینیوں کے خلاف "ظالمانہ جرائم" پر اکسانے کے مترادف ہیں۔ ان بیانات کو تشدد کو ہوا دینے والا قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قانون کے تحت کیوں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے؟
بین الاقوامی قانون، خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت، ایک قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے میں اپنی آبادی منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اقوام متحدہ اسی بنیاد پر مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے اور اسے دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.
یہ خبر شیئر کریں