عراق کی قومی فٹ بال ٹیم، جو عالمی کپ 2026 میں شرکت کا خواب دیکھ رہی ہے، کو خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے جڑے حالات کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ "چینل 3000" کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان حالات نے ٹیم کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کو "بے خواب راتوں" میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ انہیں اپنی کوالیفائنگ مہم کے مستقبل پر گہرے خدشات لاحق ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف کھیلوں کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عراق کے بین الاقوامی کھیل کے منظرنامے پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، جس سے اس کے ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کے امکانات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

عراق، جو فٹ بال کے حوالے سے ایک بھرپور تاریخ رکھتا ہے اور 2007 کا ایشین کپ جیت چکا ہے، طویل عرصے سے عالمی کپ میں اپنی جگہ بنانے کا خواہاں ہے۔ 1986 کے بعد سے عراق عالمی کپ کے فائنل راؤنڈز میں جگہ نہیں بنا سکا ہے، اور 2026 کا ورلڈ کپ، جس میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، عراقی فٹ بال کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا جا رہا تھا۔ ٹیم نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے اور ایشین کوالیفائرز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، لیکن خطے میں بڑھتا ہوا عدم استحکام، خاص طور پر ایران سے منسلک جغرافیائی سیاسی کشمکش اور اس کے سکیورٹی پر پڑنے والے اثرات، اس خواب کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ کشیدگی صرف سیاسی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرتی، معاشی اور کھیلوں کے شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جس سے ایک عام ملک کے برعکس عراقی ٹیم کو دوہری جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔

عراقی فٹ بال کی عالمی کپ میں شرکت کے خواب کو لاحق خطرات

خطے میں جاری کشیدگی کے عراقی فٹ بال ٹیم پر کئی جہتوں سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے، بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں فیفا (FIFA) اور ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (AFC) کو عراق میں میچز منعقد کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ سکیورٹی کی تازہ ترین رپورٹس اور سفری انتباہات کی وجہ سے کئی بار عراقی ٹیم کو اپنے "ہوم میچز" پڑوسی ممالک جیسے اردن یا متحدہ عرب امارات میں کھیلنے پڑتے ہیں، جس میں سفر کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہوم گراؤنڈ پر شائقین کی پرجوش حمایت سے محرومی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی صورت میں ممکن نہیں، کیونکہ فٹ بال میں ہوم کراؤڈ کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو کھلاڑیوں کی ذہنی حالت اور حوصلے پر پڑنے والا گہرا اثر ہے۔ ایک معروف سپورٹس ماہر نفسیات کے مطابق، "کھلاڑیوں کے لیے ایسے ماحول میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے جہاں ان کے ملک کی سکیورٹی اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت پر سوالیہ نشان ہو۔ انہیں میدان میں توجہ مرکوز رکھنے کی بجائے، اپنے پیاروں کی خیریت اور ملک کے حالات کی فکر لاحق رہتی ہے۔" یہ بے چینی ان کی نیند، خوراک اور تربیت کے معمولات کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے براہ راست اثرات میدان میں ان کی جسمانی اور ذہنی کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے "بے خواب راتیں" صرف ایک محاورہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے، جب وہ اپنی ٹیم اور ملک کے لیے عالمی کپ میں جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں جبکہ پس منظر میں عدم استحکام کی تلوار لٹک رہی ہے۔

کشیدگی کے میدان سے فٹ بال کے میدان تک اثرات

فٹ بال صرف میدان میں کھیلے جانے والے 90 منٹ کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم ڈھانچہ، طویل المدتی منصوبہ بندی، اور بین الاقوامی تعلقات کا جال ہوتا ہے۔ خطے کی کشیدگی اس پورے ڈھانچے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ بین الاقوامی ٹیمیں اور کلب عراق کا دورہ کرنے سے کتراتے ہیں، جس سے عراقی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایکسپوژر اور تجربہ حاصل کرنے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ دوستانہ میچز اور ٹورنامنٹس کا انعقاد مشکل ہو جاتا ہے، جس سے ٹیم کی تیاری اور صلاحیتوں کو پرکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ، غیر ملکی کوچز اور تکنیکی ماہرین بھی عراق میں کام کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں، جس سے مقامی فٹ بال کے معیار اور اس کی طویل المدتی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ صورتحال عراق کو عالمی فٹ بال کے دھارے سے الگ تھلگ کرنے کا باعث بن سکتی ہے، جو کہ کسی بھی ملک کے کھیل کی ترقی کے لیے زہر قاتل ہے۔

مالیاتی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، غیر جانبدار مقامات پر میچز کے انعقاد کی لاگت اور بین الاقوامی سپانسرز کی ہچکچ