پاکستان کے گلی کوچوں میں موٹر سائیکل پر سوار ڈیلیوری رائڈرز کا ہجوم عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی معمول سے زیادہ نظر آ رہا ہے۔ یہ محنتی افراد دن رات ایک کر کے اضافی آرڈرز مکمل کرنے اور اپنے گھر والوں کے لیے عید کی خوشیاں سمیٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ لیکن، ان کی اس دوڑ پر عالمی سطح پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سایہ منڈلا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں بھی ایندھن مہنگا ہو گیا ہے۔ اس غیر متوقع صورتحال نے ڈیلیوری رائڈرز کی محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بری طرح نچوڑ دیا ہے، جس سے ان کے عید کے مالی اہداف خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

ایک نظر میں

پاکستان کے گلی کوچوں میں موٹر سائیکل پر سوار ڈیلیوری رائڈرز کا ہجوم عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی معمول سے زیادہ نظر آ رہا ہے۔ یہ محنتی افراد دن رات ایک کر کے اضافی آرڈرز مکمل کرنے اور اپنے گھر والوں کے لیے عید کی خوشیاں سمیٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ لیکن، ان کی اس دوڑ پر عالمی سطح پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھ

ایک نظر میں

  • عید الاضحیٰ کی آمد پر ڈیلیوری سروسز کی طلب میں نمایاں اضافہ۔
  • ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 10 فیصد کا اضافہ۔
  • پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں ایک ماہ کے دوران تقریباً 10 سے 15 روپے فی لیٹر بڑھیں۔
  • ڈیلیوری رائڈرز کی یومیہ آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن کے اخراجات کی نذر، خالص منافع میں کمی۔
  • مہنگائی کے بوجھ تلے دبے رائڈرز کے لیے عید کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل۔

پس منظر: عالمی منڈیوں کا مقامی اثر

پاکستان کی معیشت کا عالمی تیل کی قیمتوں سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ ملک اپنی ایندھن کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اپریل ۲۰۲۴ کے آغاز سے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس نے مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں خلل کے خدشات کو جنم دیا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں، جو مارچ ۲۰۲۴ میں تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تھیں، اپریل کے وسط تک 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جو تقریباً 10 سے 12 فیصد کا اضافہ ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال نے ان ممالک کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جو تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, پاکستان کی شاہراہوں پر ٹرکرز کا افطار: عید کی تیاریوں میں گھر سے دوری کیسے….

اس سے قبل بھی پاکستان کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں بارہا اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2023-24 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کا تیل درآمدی بل 8.5 بلین ڈالر رہا، جو ملکی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس پس منظر میں، ایران-اسرائیل کشیدگی نے موجودہ اقتصادی چیلنجز کو مزید بڑھا دیا ہے، خصوصاً ان طبقات کے لیے جن کی آمدنی براہ راست ایندھن کی قیمتوں سے وابستہ ہے۔

عید کی دوڑ اور بڑھتے اخراجات کا بوجھ

عید الاضحیٰ کے موقع پر، فوڈ ڈیلیوری، گروسری اور دیگر آن لائن سروسز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ روایتی طور پر، یہ ڈیلیوری رائڈرز کے لیے سال کا وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اضافی شفٹیں لگا کر اور زیادہ آرڈرز مکمل کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق، ۲۰۲۳ میں آن لائن ڈیلیوری سروسز کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد بڑھا ہے، جس سے اس شعبے میں رائڈرز کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں، پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کی آمدنی کے ایک بڑے حصے کو نگل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، اپریل ۲۰۲۴ کے اوائل میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 279 روپے فی لیٹر تھی، جو مئی کے وسط تک بڑھ کر 288 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، تقریباً 9 روپے فی لیٹر کا اضافہ۔ یہ اضافہ بظاہر کم لگ سکتا ہے، لیکن ایک ڈیلیوری رائڈر جو یومیہ 80 سے 100 کلومیٹر کا سفر کرتا ہے، اس کے لیے یہ ماہانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں روپے کا اضافی بوجھ بن جاتا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: معاشی دباؤ کی بڑھتی شدت

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ افراط زر کو بھی بڑھاتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی، ایک نامور پاکستانی ماہر اقتصادیات، نے ایک حالیہ سیمینار میں کہا، "جب عالمی تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو پاکستان میں ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈیلیوری رائڈرز جیسے محنت کش طبقے پر اس کا سب سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے، جو پہلے ہی کم اجرت پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔" ان کے مطابق، مہنگائی کی موجودہ شرح، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مئی ۲۰۲۴ میں تقریباً 11.8 فیصد تھی، عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

لیبر یونین کے نمائندے اور سماجی کارکن، حیدر علی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہمارے ڈیلیوری رائڈرز پہلے ہی انتہائی مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ان کی رہی سہی آمدنی کو بھی ختم کر رہا ہے۔ وہ دن میں 10 سے 12 گھنٹے کام کر کے بھی اپنے گھر کا خرچ پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔ حکومت اور ڈیلیوری کمپنیوں کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے رائڈرز قرض لے کر اپنی موٹر سائیکلوں میں پیٹرول ڈلواتے ہیں اور پھر دن کے اختتام پر بمشکل اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پاتے ہیں۔

علاقائی کشیدگی ڈیلیوری رائڈرز کی آمدنی کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟

علاقائی کشیدگی ڈیلیوری رائڈرز کی آمدنی کو کئی طریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔ سب سے پہلے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ڈیلیوری رائڈرز کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 30 سے 40 فیصد، ایندھن پر خرچ ہوتا ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ان کا خالص منافع کم ہو جاتا ہے۔ دوسرے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے ان کی قوت خرید مزید کم ہو جاتی ہے۔ تیسرے، کچھ ڈیلیوری پلیٹ فارمز نے کرایوں میں معمولی اضافہ کیا ہے، لیکن وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے بہت کم ہے، اور بعض اوقات صارفین کی جانب سے آرڈرز میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے، جو بالآخر رائڈرز کے لیے کم آرڈرز اور کم آمدنی کا سبب بنتا ہے۔

اثرات کا جائزہ: کون متاثر ہوتا ہے اور کیسے

اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ڈیلیوری رائڈرز اور ان کے خاندان ہو رہے ہیں۔ ایک عام ڈیلیوری رائڈر، جو ماہانہ اوسطاً 40,000 سے 50,000 روپے کماتا ہے، اس میں سے 12,000 سے 15,000 روپے صرف ایندھن پر خرچ کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یہ خرچ مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے اس کے پاس اپنے خاندان کی کفالت کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے۔ عید کے موقع پر، جہاں ہر شخص اپنے پیاروں کے لیے نئے کپڑے، تحفے اور خاص کھانے کا بندوبست کرنا چاہتا ہے، وہیں یہ رائڈرز بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ بہت سے رائڈرز نے بتایا کہ وہ عید کے لیے اپنے بچوں کو نئے جوتے بھی خرید کر نہیں دے پائیں گے کیونکہ ان کی ساری کمائی ایندھن پر خرچ ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ، یہ صورتحال ڈیلیوری پلیٹ فارمز کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ صارفین پر بڑھتے ہوئے ڈیلیوری چارجز کے بوجھ سے آرڈرز کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے، جس سے ڈیلیوری کمپنیوں کے کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔ طویل مدتی میں، یہ صورتحال آن لائن ڈیلیوری کے شعبے کی ترقی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جو پاکستان میں حال ہی میں تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا: غیر یقینی کی صورتحال اور ممکنہ حل

مستقبل میں، اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے، تو عالمی تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے پاکستان پر مزید گہرے معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھے، خاص طور پر جب ملک پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ مالیاتی اصلاحات کے پروگرام میں شامل ہے۔ ممکنہ طور پر، حکومت کو عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کمی یا محدود سبسڈی جیسے اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم مالیاتی گنجائش انتہائی محدود ہے۔

ڈیلیوری پلیٹ فارمز کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ انہیں رائڈرز کی کمائی کو بہتر بنانے کے لیے نئے ماڈلز اپنانے ہوں گے، جیسے کہ ایندھن سرچارج کا نفاذ یا کمیشن کے ڈھانچے میں ایڈجسٹمنٹ۔ بصورت دیگر، رائڈرز کی جانب سے کام چھوڑنے یا اجرتوں میں اضافے کے لیے احتجاج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں عید کی خوشیاں منانے کے بجائے، پاکستانی ڈیلیوری رائڈرز اپنے مستقبل اور اپنے خاندانوں کے مالی تحفظ کے لیے فکرمند نظر آتے ہیں۔ عالمی کشیدگی کا یہ مقامی اثر اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بین الاقوامی واقعات براہ راست عام پاکستانی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

پاکستان کے گلی کوچوں میں موٹر سائیکل پر سوار ڈیلیوری رائڈرز کا ہجوم عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی معمول سے زیادہ نظر آ رہا ہے۔ یہ محنتی افراد دن رات ایک کر کے اضافی آرڈرز مکمل کرنے اور اپنے گھر والوں کے لیے عید کی خوشیاں سمیٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ لیکن، ان کی اس دوڑ پر عالمی سطح پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھ

یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔