Photo by Craig Melville on Unsplash

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، بحیرہ احمر میں ایک امریکی ملکیت بحری جہاز کو مبینہ طور پر ایرانی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، جس سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حملے کے وقت جہاز پر بھارتی ملاح بھی سوار تھے، جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔ یہ واقعہ بحیرہ احمر میں جاری کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے، جس نے عالمی تجارتی راستوں کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، حملے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جو اس واقعے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں پہلے ہی یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے باعث غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

**ایک نظر میں** * بحر احمر میں ایک امریکی ملکیت تجارتی بحری جہاز پر مبینہ ایرانی حملہ۔ * حملے کے وقت جہاز پر کئی بھارتی ملاح سوار تھے، جو تمام محفوظ رہے۔ * این ڈی ٹی وی نے حملے کی ویڈیو جاری کی، جس سے واقعے کی تصدیق ہوئی۔ * یہ واقعہ بحیرہ احمر میں عالمی شپنگ کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا عکاس ہے۔ * علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات۔

**اہم نکتہ:** بحیرہ احمر میں امریکی ملکیت بحری جہاز پر مبینہ ایرانی حملے نے عالمی شپنگ اور علاقائی استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, جہازوں پر ایرانی حملوں میں شدت: تیل کی قیمتوں میں ہولناک اضافہ.

**پس منظر اور سیاق و سباق** بحیرہ احمر، نہر سویز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کو ملانے والا ایک اہم ترین سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ۱۲ فیصد عالمی تجارت اور تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے یہ خطہ شدید کشیدگی کا شکار ہے، خاص طور پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل سے منسلک یا اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل حملوں کے بعد۔ یہ حملے غزہ میں جاری جنگ کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں، اور حوثی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مقصد فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 'آپریشن پراسپیریٹی گارڈین' شروع کیا ہے، جس کے تحت بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے باوجود حملوں میں کمی نہیں آ سکی، بلکہ ان میں مزید شدت آنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ تازہ ترین واقعہ، جس میں مبینہ طور پر براہ راست ایران کو ملوث کیا جا رہا ہے، خطے میں کشیدگی کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی مختلف علاقائی معاملات پر شدید اختلافات اور تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایران پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کرتا ہے، جس سے وہ بحیرہ احمر میں حملے کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس سے قبل بھی خطے میں متعدد بحری واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں بھی کئی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی شپنگ کمپنیاں بحیرہ احمر کے بجائے افریقہ کے گرد طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں۔ اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ پیدا کیا ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحیرہ احمر اب عالمی جیو پولیٹکس کا ایک انتہائی حساس اور خطرناک مرکز بن چکا ہے۔

**حملے کی تفصیلات اور عالمی ردعمل** این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، جس امریکی ملکیت بحری جہاز پر حملہ کیا گیا، وہ ایک تجارتی مال بردار جہاز تھا اور اس پر بھارتی ملاحوں کا عملہ موجود تھا۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ کس نوعیت کا تھا (مثلاً میزائل، ڈرون یا کسی اور ذریعے سے) تاہم یہ تصدیق کی گئی ہے کہ جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور اس حملے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ خوش قسمتی سے، جہاز پر سوار تمام بھارتی ملاح محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے یا تردید کرنے کا کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی اس حملے کا الزام ایران پر عائد کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ یہ براہ راست تنازع میں ایران کی مبینہ شمولیت کو ظاہر کرتی ہے۔

**پاکستان پر ممکنہ اثرات** پاکستان بھی بحیرہ احمر کے ذریعے اپنی بیشتر تجارت کرتا ہے، خاص طور پر تیل اور دیگر درآمدات کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم ہے۔ بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملے پاکستان کی معیشت پر براہ راست منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ شپنگ لاگت میں اضافہ، بیمہ کے اخراجات میں بڑھوتری، اور سپلائی چین میں تاخیر سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک کی درآمدات و برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، عالمی تجارتی راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ملکی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، خطے میں بڑھتا ہوا تناؤ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بھی بالواسطہ خطرات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ علاقائی عدم استحکام کو فروغ دے گا، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس صورتحال میں اپنے تجارتی راستوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

**ماہرین کا تجزیہ** بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کار اس واقعے کو خطے میں کشیدگی کی ایک نئی خطرناک سطح قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی، ایک معروف دفاعی تجزیہ کار، کے مطابق: "اگر ایران براہ راست بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے تو یہ بحیرہ احمر کے بحران کو ایک مکمل علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ حملہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح ایران کو مزید جارحانہ اقدامات سے روکتے ہیں۔" مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک اور ماہر، پروفیسر سارہ خان، نے کہا: "یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ حوثی باغیوں کی پشت پناہی کے ذریعے ایران اپنی علاقائی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی تجارتی راستوں پر پڑ رہا ہے۔ اس سے بین الاقوامی برادری پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ ایک جامع سفارتی حل تلاش کرے۔"

**علاقائی اور عالمی اثرات** اس حملے کے علاقائی اور عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی شپنگ کی صنعت کو پہلے ہی بحیرہ احمر کے خطرے کے باعث شدید مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ بحری جہازوں کے راستوں کی تبدیلی سے سفر کا دورانیہ ۱۰ سے ۱۵ دن بڑھ گیا ہے اور فی جہاز فی سفر ۱۰ لاکھ ڈالر تک کا اضافی خرچ آ رہا ہے۔ یہ اضافی لاگت بالآخر صارفین تک پہنچے گی، جس سے عالمی مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی بھی اس سے متاثر ہوگی، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے یورپ اور ایشیا کو تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ اس کے علاوہ، یہ واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے خطے میں ایک وسیع تر فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی اس صورتحال سے متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی اقتصادی سلامتی اور استحکام براہ راست خطے کے امن سے وابستہ ہے۔

**آگے کیا ہوگا؟** اس واقعے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے ایران پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بحیرہ احمر میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں اور حوثی ٹھکانوں کے خلاف مزید کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران، جو علاقائی مسائل میں اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، ممکنہ طور پر اپنی پالیسیوں پر قائم رہ سکتا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ سفارتی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فریقین کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز کر سکتے ہیں، لیکن فی الحال کسی فوری حل کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ عالمی شپنگ کمپنیاں بحیرہ احمر کے راستے سے مکمل طور پر گریز کرنا شروع کر دیں، جس کے عالمی تجارت اور سپلائی چین پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ مارچ ۲۰۲۶ تک اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

**بحر احمر میں بڑھتے حملوں کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟** بحر احمر میں حملوں کی بنیادی وجہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں ہیں، جس کے ردعمل میں یمن کے حوثی باغی اسرائیلی مفادات سے وابستہ یا اس کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں یہ اقدامات کر رہے ہیں۔ ان حملوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے، جس سے خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ تنازع کو مزید تقویت ملتی ہے۔ یہ جیو پولیٹیکل کشیدگی، علاقائی طاقتوں کے مفادات اور عالمی تجارتی راستوں پر کنٹرول کی خواہش ان حملوں کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

**نتیجہ** بحیرہ احمر میں امریکی ملکیت بحری جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کا واقعہ ایک سنگین پیش رفت ہے جو علاقائی تناؤ کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔ بھارتی ملاحوں کی موجودگی نے اس واقعے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ یہ واقعہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان سمیت خلیجی ممالک اور عالمی برادری کو اس صورتحال کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کو مزید کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ بصورت دیگر، یہ بحران عالمی معیشت اور امن کے لیے ایک طویل المدتی چیلنج بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں