راہول گاندھی کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل، "تہذیب کے خاتمے" کی زبان پر سخت اعتراض
نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ سخت بیان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی ماحول میں ایسی گفتگو قابلِ قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔ راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی قوم یا تہذیب کو مٹانے جیسے الفاظ نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر خطرناک مثال بھی قائم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو ایسے جملوں سے گریز کرنا چاہیے جو تنازعات کو مزید بھڑکا دیں۔ انہوں
نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ سخت بیان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی ماحول میں ایسی گفتگو قابلِ قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔
راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی قوم یا تہذیب کو مٹانے جیسے الفاظ نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر خطرناک مثال بھی قائم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو ایسے جملوں سے گریز کرنا چاہیے جو تنازعات کو مزید بھڑکا دیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ اپنی نوعیت میں ایک انسانی سانحہ ہوتی ہے، تاہم جنگی حالات کے باوجود تہذیبوں کے خاتمے یا تباہی کی سوچ کو معمول کا حصہ بنانا کسی صورت درست نہیں۔ راہول گاندھی کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا تصور بھی ناقابلِ دفاع ہے۔
https://x.com/RahulGandhi
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک سخت پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایک بڑی تاریخی تبدیلی قریب ہے اور خطے میں کئی دہائیوں سے جاری خونریزی اور بدعنوانی کا باب بند ہونے جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں اس صورتِ حال کو عالمی تاریخ کے اہم ترین موڑوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ایران کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا، تاہم ان کے بیان کے لب و لہجے نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی زبان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے غیر یقینی کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ بڑے رہنما بیانات میں احتیاط اختیار کریں اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اپنائیں۔