سابق امریکی رکن کانگریس اور صدارتی امیدوار ٹلسی گبارڈ نے ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران پاکستان کے میزائل پروگرام کو مستقبل میں امریکہ کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم بین الاقوامی امور اور دفاعی پالیسی کے ماہرین نے اس دعوے کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دفاعی پروگرام خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت (Credible Minimum Deterrence) کے اصول پر مبنی ہے۔

ایک نظر میں

سابق امریکی رکن کانگریس اور صدارتی امیدوار ٹلسی گبارڈ نے ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران پاکستان کے میزائل پروگرام کو مستقبل میں امریکہ کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم بین الاقوامی امور اور دفاعی پالیسی کے ماہرین نے اس دعوے کو حقائق کے منافی قر

ایک نظر میں

  • سابق امریکی رکن کانگریس ٹلسی گبارڈ نے پاکستان کے میزائلوں کو امریکہ کے لیے مستقبل کا خطرہ قرار دیا۔
  • بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس دعوے کو پاکستان کی دفاعی پالیسی اور ذمہ دارانہ جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تناظر میں مسترد کر دیا۔
  • پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام خطے میں توازنِ طاقت برقرار رکھنے اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
  • اس طرح کے بیانات امریکہ-پاکستان تعلقات میں کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں اور پاکستان کے عالمی تشخص پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
  • ماہرین کا زور ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو علاقائی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں سمجھا جائے۔

پس منظر: پاکستان کا دفاعی پروگرام اور امریکی خدشات

پاکستان نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربات کیے تھے، جس کے بعد اس نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے میزائل پروگرام پر توجہ مرکوز کی۔ پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام ہمیشہ سے 'قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت' کے اصول پر مبنی رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مؤثر دفاع فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام خاص طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان نے مختلف رینج کے بیلسٹک اور کروز میزائل تیار کیے ہیں جو زمینی، سمندری اور فضائی پلیٹ فارمز سے لانچ کیے جا سکتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے جوہری پھیلاؤ اور جنوبی ایشیا میں اس کے ممکنہ اثرات پر خدشات کا اظہار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی امریکی حکام اور تھنک ٹینکس کی جانب سے پاکستان اور بھارت دونوں کے جوہری پروگراموں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری کو اپنے جوہری اور میزائل اثاثوں کے محفوظ اور ذمہ دارانہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہے۔ عالمی جوہری نگہبانی ادارے (IAEA) کے مطابق، پاکستان نے جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی ہے اور اپنے جوہری اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات اپنائے ہیں۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, لیونل میسی کا ۹۰۰ واں گول: ایک تاریخی سنگ میل، مگر انٹر میامی کی شکست کے….

ماہرین کا تجزیہ: حقیقت کیا ہے؟

ٹلسی گبارڈ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے، معروف دفاعی تجزیہ کار اور سابق سفارت کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ "پاکستان کے میزائل پروگرام کا بنیادی مقصد بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنا ہے، نہ کہ امریکہ کو نشانہ بنانا۔" ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد صرف اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ ڈاکٹر رضوی نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے جوہری اور میزائل اثاثوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی ہے اور اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی مؤثر ہیں۔

اسلام آباد میں قائم سٹریٹیجک سٹڈیز انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو، ڈاکٹر طلعت مسعود نے اس بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ "ٹلسی گبارڈ کا بیان زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان نے کبھی بھی کسی غیر علاقائی طاقت کے خلاف اپنے میزائلوں کے استعمال کا اشارہ نہیں دیا، خاص طور پر امریکہ کے خلاف۔" ان کے مطابق، ایسے بیانات اکثر سیاسی مقاصد کے لیے دیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد سٹریٹیجک حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہوتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں طویل المدتی تعاون رہا ہے، اور ایسے بیانات اس تعاون کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک اور دفاعی ماہر، ڈاکٹر عائشہ صدیقہ، جو جنوبی ایشیا کے دفاعی امور پر گہری نظر رکھتی ہیں، نے زور دیا کہ "پاکستان کے میزائل پروگرام کی نگرانی ایک انتہائی منظم اور ذمہ دارانہ نظام کے تحت کی جاتی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کی دھمکی نہیں دی، بلکہ اس کی پالیسی 'نو فرسٹ یوز' کے قریب تر ہے۔" ان کے بقول، گبارڈ کا بیان اس حقیقت سے صرف نظر کرتا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار صرف ایک ڈیٹرنس کے طور پر موجود ہیں۔

اثرات کا جائزہ: امریکہ-پاکستان تعلقات اور علاقائی سفارت کاری

ٹلسی گبارڈ جیسے امریکی رہنماؤں کے بیانات امریکہ-پاکستان تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹلسی گبارڈ اب کسی حکومتی عہدے پر فائز نہیں ہیں، لیکن ان کے بیانات امریکی عوامی رائے اور پالیسی سازوں کے ایک حصے کی سوچ کی عکاسی کر سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کے عالمی تشخص کو بھی متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر خلیجی خطے اور متحدہ عرب امارات جیسے اس کے اہم اتحادیوں کے درمیان، جہاں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو علاقائی استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کے بیانات پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی دفاعی پوزیشن کی وضاحت اور اپنے ذمہ دارانہ رویے کو اجاگر کرنے کے لیے مزید سفارتی کوششوں کا تقاضا کریں گے۔

خطے میں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک، پاکستان کے ساتھ اپنے سٹریٹیجک تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہ ممالک پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو علاقائی سلامتی کے وسیع تر فریم ورک میں دیکھتے ہیں، جہاں یہ قوتیں کسی بھی علاقائی عدم استحکام کے خلاف ایک ڈھال کا کام کر سکتی ہیں۔ ٹلسی گبارڈ کا بیان ان ممالک میں پاکستان کے سٹریٹیجک کردار کے بارے میں سوالات اٹھا سکتا ہے، حالانکہ یہ امکان کم ہے کہ اس سے ان کے باہمی تعلقات پر کوئی فوری اور بڑا منفی اثر پڑے۔ تاہم، یہ بیان پاکستان کو اپنے دفاعی موقف کی مزید وضاحت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

پاکستان کا دفاعی موقف اور عالمی برادری

پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ اس کا جوہری اور میزائل پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ پاکستان کے حکام نے متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے دفاعی اثاثے ایک مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت محفوظ ہیں، جو کسی بھی غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے سابق وزیر خارجہ، شاہ محمود قریشی، نے ۲۰۲۱ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام انتہائی محفوظ ہے اور اس پر کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بیانات عالمی سطح پر پاکستان کے ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس خطے میں طاقت کے توازن کو سمجھنا چاہیے اور پاکستان کے دفاعی پروگرام کو ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ امریکی پالیسی سازوں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی سٹریٹیجک شراکت داری کو نقصان پہنچا سکیں۔ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون جاری ہے۔

آگے کیا ہوگا: مستقبل کے ممکنہ پیش رفت، اثرات اور نتائج

ٹلسی گبارڈ کے اس بیان کے بعد، توقع ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اور دفاعی حکام بین الاقوامی فورمز پر اپنے دفاعی موقف کی مزید وضاحت کریں گے۔ پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت کی پالیسی کو اجاگر کرتا رہے گا۔ امریکہ-پاکستان تعلقات میں، یہ بیان ممکنہ طور پر کچھ سفارتی بات چیت کا باعث بن سکتا ہے، جہاں پاکستان اپنی سٹریٹیجک پوزیشن کو واضح کرے گا۔ امریکی حکام کی جانب سے اس بیان سے خود کو دور رکھنے یا اس کی وضاحت کرنے کا امکان بھی موجود ہے، تاکہ تعلقات میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

اس طرح کے بیانات کا ایک طویل مدتی اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک خاص بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کریں، خاص طور پر امریکہ میں، جہاں عوامی رائے پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے اپنی سٹریٹیجک خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کے چیلنجز کو مزید بڑھا دے گی۔ تاہم، پاکستان نے ماضی میں بھی ایسے چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی ذمہ دارانہ سٹریٹیجک پالیسی پر کاربند رہے گا، جبکہ سفارتی سطح پر اپنے موقف کا مؤثر دفاع کرے گا۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو علاقائی توازن کے تناظر میں دیکھا جائے اور غیر ضروری خدشات کو ہوا نہ دی جائے۔

سوال و جواب (FAQs)

ٹلسی گبارڈ نے پاکستان کے بارے میں کیا بیان دیا؟

سابق امریکی رکن کانگریس ٹلسی گبارڈ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے میزائلوں کو مستقبل میں امریکہ کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے، جس پر بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اختلاف کیا ہے۔

ماہرین اس بیان سے کیوں اختلاف کرتے ہیں؟

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے، نہ کہ امریکہ کو نشانہ بنانا۔ پاکستان کے جوہری اثاثے ایک ذمہ دارانہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں۔

پاکستان کے میزائل پروگرام کی نوعیت کیا ہے؟

پاکستان کا میزائل پروگرام 'قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت' کے اصول پر مبنی ہے، جو بیرونی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

سابق امریکی رکن کانگریس اور صدارتی امیدوار ٹلسی گبارڈ نے ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران پاکستان کے میزائل پروگرام کو مستقبل میں امریکہ کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم بین الاقوامی امور اور دفاعی پالیسی کے ماہرین نے اس دعوے کو حقائق کے منافی قر

یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔