اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

بزنس
پاکش نیوز|1 اپریل، 2,026|8 منٹ مطالعہ

ابوظبی گلوبل مارکیٹ کے اثاثوں میں ۳۶ فیصد نمایاں اضافہ

ابوظبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) نے ۲۰۲۶ میں اپنے زیر انتظام اثاثوں (AUM) میں ۳۶ فیصد کا نمایاں اضافہ اور عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد کی ریکارڈ ترقی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیشرفت ابوظبی کو عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر مستحکم کر رہی ہے، جس سے نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پورے خلیجی خطے میں اقتصادی سرگرمیاں ب...

ابوظبی گلوبل مارکیٹ کی شاندار ترقی: اثاثوں میں ۳۶ فیصد اضافہ

ابوظبی گلوبل مارکیٹ (ADGM)، جو ابوظبی کا بین الاقوامی مالیاتی مرکز (IFC) ہے، نے یکم اپریل ۲۰۲۶ کو ایک اہم اعلان کیا ہے جس کے مطابق اس کے زیر انتظام اثاثوں (AUM) میں ۳۶ فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی عرصے میں عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جبکہ ۲۰۲۵ تک ۱۲,۰۰۰ سے زائد نئے لائسنس جاری کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت ADGM کی خطے میں ایک نمایاں مالیاتی مرکز کے طور پر ابھرنے کی تصدیق کرتی ہے اور متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کو تقویت دیتی ہے۔

ایک نظر میں

ابوظبی گلوبل مارکیٹ نے اثاثوں میں ۳۶ فیصد اضافے اور عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد اضافے کا اعلان کیا، جو خطے کے لیے ایک اہم اقتصادی پیشرفت ہے۔

  • ابوظبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) میں حال ہی میں کیا اہم ترقی ہوئی ہے؟ ADGM نے حال ہی میں اپنے زیر انتظام اثاثوں میں ۳۶ فیصد کا نمایاں اضافہ اور عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد کی ریکارڈ ترقی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیشرفت ADGM کی عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
  • ADGM کی یہ ترقی متحدہ عرب امارات کی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟ یہ ترقی متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا اور نالج بیسڈ اکانومی کو فروغ دینا ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
  • ADGM کی ترقی پاکستان کے کاروباری شعبے پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے؟ ADGM کی ترقی پاکستانی ٹیکسٹائل، زرعی اور آئی ٹی سروسز کی صنعتوں کے لیے خلیجی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ابوظبی میں کاروبار قائم کرنے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔

یہ مضبوط ترقی ADGM کے مستحکم ریگولیٹری فریم ورک، سرمایہ کار دوست ماحول اور وسیع تر اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس اعلان سے خطے کے سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری برادری میں اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جو ابوظبی کو مستقبل کی مالیاتی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, رنچو مشن ویجو: رینڈا ولیج میں ۲۳۲ نئے گھروں کا آخری مرحلہ ۲۰۲۶ میں مکمل ہوگا.

  • اثاثوں میں اضافہ: ADGM کے زیر انتظام اثاثوں میں ۳۶ فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔
  • عملے میں ترقی: ADGM کے عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔
  • لائسنس کا ہدف: ۲۰۲۵ تک ۱۲,۰۰۰ سے زائد نئے لائسنس جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
  • عالمی مرکز: ابوظبی عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔
  • اقتصادی اثرات: متحدہ عرب امارات اور خلیجی خطے میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔

پس منظر اور سیاق و سباق: ابوظبی کی مالیاتی حکمت عملی

ابوظبی گلوبل مارکیٹ کا قیام ۲۰۰۴ میں عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد ابوظبی کو ایک عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر فروغ دینا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک، ADGM نے عالمی معیار کے قوانین اور ایک آزاد عدالتی نظام کے ذریعے سرمایہ کاروں کو راغب کیا ہے۔ یہ مالیاتی مرکز نہ صرف روایتی بینکنگ اور سرمایہ کاری کی خدمات فراہم کرتا ہے بلکہ فن ٹیک، گرین فنانس اور ڈیجیٹل اثاثوں جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اپنی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور نالج بیسڈ اکانومی کو فروغ دینے پر زور دیا ہے، جس میں ADGM کا کردار کلیدی ہے۔

حالیہ برسوں میں، ADGM نے اپنی ریگولیٹری صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا ہے تاکہ عالمی سطح پر بہترین طریقوں کو اپنایا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور شفاف ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کی ترقی کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے مستحکم اقتصادی پالیسیوں، پرکشش ٹیکس نظام اور بہترین انفراسٹرکچر کی حمایت حاصل ہے۔ ان عوامل نے ADGM کو خطے اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے لیے ایک ترجیحی مقام بنا دیا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: ترقی کے محرکات اور مستقبل کے امکانات

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، ADGM کی یہ شاندار کارکردگی کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ دبئی میں مقیم مالیاتی تجزیہ کار، جناب احمد فاروقی نے پاکش نیوز کو بتایا، "ADGM کا لچکدار اور جدید ریگولیٹری فریم ورک اسے خطے کے دیگر مالیاتی مراکز پر برتری دلاتا ہے۔ خاص طور پر فن ٹیک اور گرین فنانس جیسے شعبوں میں اس کی سرمایہ کاری نے اسے مستقبل کی مالیاتی ضروریات کے لیے تیار کیا ہے۔

" انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سرمایہ کار متحدہ عرب امارات کے سیاسی استحکام اور اقتصادی مواقع کو سراہتے ہیں۔

ابوظبی چیمبر آف کامرس کے ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد کا اضافہ براہ راست ملازمت کے نئے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے، جو ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کے ہنر مند افراد کو راغب کرے گا۔ یہ نہ صرف مالیاتی شعبے کو تقویت دے گا بلکہ متعلقہ صنعتوں جیسے رئیل اسٹیٹ، مہمان نوازی اور خدمات کو بھی فروغ دے گا۔" ان ماہرین کا خیال ہے کہ ADGM کی یہ ترقی متحدہ عرب امارات کو عالمی مالیاتی نقشے پر ایک اہم مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو گی۔

اثرات کا جائزہ: خطے اور پاکستان پر ممکنہ اثرات

ADGM کی یہ ترقی متحدہ عرب امارات کے لیے اقتصادی تنوع اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرے گی۔ مزید مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کی آمد سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ ہوگا اور غیر تیل کی آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ ابوظبی کو عالمی تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورک میں ایک کلیدی مرکز بنا دے گا۔

پاکستان کے نقطہ نظر سے، ADGM کی ترقی کئی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل، زرعی اور آئی ٹی سروسز کی صنعتیں ADGM کے ذریعے خلیجی اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ابوظبی میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے، جو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو فروغ دے گا۔

اس کے علاوہ، پاکستان کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے اور علاقائی اقتصادی بلاکس میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ مثال کے طور پر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، خلیجی ممالک پاکستانی برآمدات کے لیے اہم منڈیاں ہیں اور ADGM کا بڑھتا ہوا مالیاتی حجم پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے مزید مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا: مستقبل کی راہیں اور چیلنجز

ADGM کا مقصد ۲۰۲۵ تک ۱۲,۰۰۰ سے زائد نئے لائسنس جاری کرنا ہے، جو اس کی توسیع پسندی کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ مستقبل میں، ADGM فن ٹیک اور گرین فنانس کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کرے گا تاکہ عالمی سطح پر اپنی مسابقت کو برقرار رکھ سکے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل اثاثوں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو مالیاتی خدمات میں ضم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

توقع ہے کہ ADGM مالیاتی تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کرے گا تاکہ مقامی اور علاقائی ٹیلنٹ کو عالمی مالیاتی صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

تاہم، ADGM کو کچھ چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں عالمی اقتصادی اتار چڑھاؤ، علاقائی مسابقت (خاص طور پر دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر - DIFC سے)، اور تیزی سے بدلتے ہوئے ریگولیٹری تقاضے شامل ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ADGM کو اپنی پالیسیوں میں لچک اور جدت برقرار رکھنی ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، ADGM کی قیادت ان چیلنجز سے بخوبی واقف ہے اور اس نے طویل مدتی ترقی کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

اہم نکات

  • ADGM کی ترقی: ابوظبی گلوبل مارکیٹ نے زیر انتظام اثاثوں میں ۳۶ فیصد اور عملے میں ۵۱ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
  • مستقبل کا ہدف: ۲۰۲۵ تک ۱۲,۰۰۰ سے زائد نئے کاروباری لائسنس جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
  • اقتصادی تنوع: یہ پیشرفت متحدہ عرب امارات کی تیل پر انحصار کم کرنے اور نالج بیسڈ اکانومی کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
  • ماہرین کی رائے: تجزیہ کاروں کے مطابق، ADGM کا جدید ریگولیٹری فریم ورک اور سرمایہ کاری دوست ماحول اس کی کامیابی کی کلید ہے۔
  • پاکستان پر اثرات: پاکستانی کاروباروں کے لیے خلیجی مارکیٹ تک رسائی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
  • مستقبل کے چیلنجز: عالمی اقتصادی اتار چڑھاؤ اور علاقائی مسابقت ADGM کے لیے مستقبل کے اہم چیلنجز میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

ابوظبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) میں حال ہی میں کیا اہم ترقی ہوئی ہے؟

ADGM نے حال ہی میں اپنے زیر انتظام اثاثوں میں ۳۶ فیصد کا نمایاں اضافہ اور عملے کی تعداد میں ۵۱ فیصد کی ریکارڈ ترقی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیشرفت ADGM کی عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔

ADGM کی یہ ترقی متحدہ عرب امارات کی معیشت کے لیے کیوں اہم ہے؟

یہ ترقی متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا اور نالج بیسڈ اکانومی کو فروغ دینا ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

ADGM کی ترقی پاکستان کے کاروباری شعبے پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے؟

ADGM کی ترقی پاکستانی ٹیکسٹائل، زرعی اور آئی ٹی سروسز کی صنعتوں کے لیے خلیجی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ابوظبی میں کاروبار قائم کرنے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔

Source: PR Newswire via پاکش نیوز Research.