اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

مارکیٹس اور بزنس
پاکش نیوز|7 اپریل، 2,026|8 منٹ مطالعہ

عالمی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک ۱۵ کھرب ڈالر، مورڈور انٹیلیجنس کا تخمینہ

مورڈور انٹیلیجنس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ۲۰۲۶ میں ۱۱.۶ کھرب ڈالر تھی۔ اس نمایاں ترقی میں اپارٹمنٹس اور کنڈومینیمز کا ۵۹ فیصد حصہ ہو گا۔...

مورڈور انٹیلیجنس کی تازہ رپورٹ کے مطابق، عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک نمایاں ترقی کرتے ہوئے ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ۲۰۲۶ میں ۱۱.۶ کھرب ڈالر تھی۔ یہ غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر جاری ہاؤسنگ توسیع اور اپارٹمنٹس و کنڈومینیمز کے بڑھتے ہوئے ۵۹ فیصد حصے کی وجہ سے ممکن ہو گا۔ یہ پیش گوئی عالمی معیشت اور شہری ترقی کے رجحانات کا گہرا اشارہ دیتی ہے۔

ایک نظر میں

  • رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ۲۰۳۱ تک کیا بڑی تبدیلی متوقع ہے؟ مورڈور انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق، عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ ۲۰۲۶ کے ۱۱.۶ کھرب ڈالر سے نمایاں اضافہ ہے۔ اس ترقی میں اپارٹمنٹس اور کنڈومینیمز کا حصہ ۵۹ فیصد ہو گا۔
  • اس عالمی ترقی کے پاکستان اور خلیجی ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ پاکستان میں شہری علاقوں میں اپارٹمنٹس کی مانگ بڑھنے سے عمودی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب غیر ملکی سرمایہ کاری اور شہری توسیع کے ذریعے اس عالمی رجحان سے فائدہ اٹھائیں گے۔
  • مستقبل میں رہائشی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے اہم رجحانات کیا ہوں گے؟ مستقبل میں پائیدار تعمیرات، سمارٹ ہوم ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال، اور ماحول دوست رہائشی حل کلیدی رجحانات ہوں گے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی بھی اس سیکٹر میں شفافیت اور سہولت کو فروغ دے گی۔
  • ۲۰۳۱ تک عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا حجم ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
  • ۲۰۲۶ میں مارکیٹ کا حجم ۱۱.۶ کھرب ڈالر تھا، جو سالانہ ۶.۰۵ فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔
  • اپارٹمنٹس اور کنڈومینیمز اس ترقی میں ۵۹ فیصد حصہ ڈالیں گے۔
  • مورڈور انٹیلیجنس کی رپورٹ عالمی ہاؤسنگ سیکٹر میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہے۔

حالیہ برسوں میں، عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ نے آبادی میں اضافے، شہری کاری، اور بہتر معیارِ زندگی کی خواہش کے باعث مسلسل ترقی دیکھی ہے۔ خصوصاً ابھرتی ہوئی معیشتوں میں متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی قوت خرید نے رہائش کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی مشاہدہ کیا جا رہا ہے، جہاں سرمایہ کاری کے محفوظ ذریعے کے طور پر ریئل اسٹیٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مورڈور انٹیلیجنس، جو کہ مارکیٹ ریسرچ میں ایک معروف ادارہ ہے، نے اپنی حالیہ رپورٹ میں ان رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق عالمی اقتصادی منظرنامے، آبادیاتی تبدیلیوں، اور حکومتی پالیسیوں کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر اثرات کو مدنظر رکھتی ہے۔ یہ رپورٹ سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں، اور عام صارفین کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, بلوراک ہائی انکم فنڈ: ۲۰۲۶ کی پہلی سہ ماہی میں ۸.۷۵ فیصد تقسیم کا اعلان.

عالمی رہائشی مارکیٹ کا حجم اور ترقی

مورڈور انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۶ میں عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا حجم ۱۱.۶ کھرب امریکی ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو کہ ۶.۰۵ فیصد کی سالانہ مرکب شرح نمو (CAGR) کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ شرح عالمی اقتصادی ترقی اور مضبوط سرمایہ کاری کے ماحول کو ظاہر کرتی ہے۔

اس ترقی میں اپارٹمنٹس اور کنڈومینیمز کا حصہ نمایاں طور پر ۵۹ فیصد رہنے کی توقع ہے، جو شہری علاقوں میں محدود جگہ اور سستی رہائش کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں ان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ شہروں کی طرف نقل مکانی اور چھوٹے خاندانی یونٹس کا رجحان بھی اس قسم کی رہائش کو فروغ دے رہا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ

اس پیش گوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے، عالمی اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر فاطمہ احمد نے کہا، 'یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریئل اسٹیٹ، خاص طور پر رہائشی شعبہ، آئندہ دہائی میں عالمی معیشت کی ترقی کا ایک اہم ستون رہے گا۔ سرمایہ کاروں کو شہری علاقوں میں جدید اور پائیدار رہائشی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔'

دوسری جانب، پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے معروف ماہر، جناب اسلم چوہدری کا کہنا ہے، 'عالمی رجحانات کا اثر پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑے گا۔ ہمیں اپنی شہری منصوبہ بندی اور تعمیراتی صنعت کو ان عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ اپارٹمنٹس کی مانگ میں اضافہ پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ عمودی ترقی کی طرف گامزن ہوں۔'

پاکستان اور خلیجی خطے پر اثرات

عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ہونے والی یہ ترقی پاکستان اور خلیجی خطے کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک، جو پہلے ہی ریئل اسٹیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، اس عالمی ترقی سے براہ راست مستفید ہوں گے۔ ان ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور سیاحت و کاروبار کے فروغ نے رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں کو متحرک کیا ہے۔

خصوصاً سعودی عرب کا ویژن ۲۰۳۰ اور متحدہ عرب امارات کی عالمی مرکز بننے کی خواہش، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر شہری ترقیاتی منصوبوں کو جنم دے رہی ہے، جس میں رہائشی یونٹس کی تعمیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

پاکستان میں بھی، ریئل اسٹیٹ سیکٹر ملکی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ اس عالمی رجحان کے پیش نظر، پاکستان میں بھی اپارٹمنٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ترقی میں تیزی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں عمودی ترقی کی ضرورت بڑھ جائے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسیاں، جیسے کہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے آسان شرائط، اور حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کو دی جانے والی مراعات اس ترقی کو مزید تقویت دے سکتی ہیں۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ دیگر صنعتیں، جیسے سیمنٹ، سٹیل اور مزدوری، بھی اس سے مستفید ہوں گی، جس سے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

مستقبل کے رجحانات اور چیلنجز

آئندہ برسوں میں، پائیدار تعمیرات، سمارٹ ہوم ٹیکنالوجی، اور ماحول دوست رہائشی حل عالمی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کے اہم رجحانات ہوں گے۔ توانائی کی بچت والے گھر، شمسی توانائی کا استعمال، اور جدید سکیورٹی سسٹم جیسے فیچرز صارفین کی ترجیحات میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو ان ابھرتے ہوئے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کر سکیں۔

تاہم، اس ترقی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی سپلائی چین میں خلل کے باعث تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ، اور شہری علاقوں میں زمین کی دستیابی کے مسائل اس ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کو بھی سستی اور معیاری رہائش کی فراہمی ممکن ہو سکے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔

آگے کیا ہوگا

۲۰۳۱ تک عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی پیش گوئی نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور روزگار کے مواقع پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی شہری آبادی کے لیے جدید اور پائیدار رہائشی حل فراہم کریں اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کریں۔

ماہرین کے مطابق، آئندہ دہائی میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی کا استعمال مزید بڑھے گا۔ ورچوئل ٹورز، آن لائن پراپرٹی مینجمنٹ، اور بلاک چین پر مبنی ٹرانزیکشنز معمول بن جائیں گی۔ یہ تبدیلیاں شفافیت کو فروغ دیں گی اور سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنائیں گی۔

اہم نکات

  • عالمی ترقی: مورڈور انٹیلیجنس کے مطابق، عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچے گی۔
  • اہم کردار: اپارٹمنٹس اور کنڈومینیمز اس ترقی میں ۵۹ فیصد حصہ ڈالیں گے، جو شہری علاقوں میں بڑھتی مانگ کی عکاسی ہے۔
  • پاکستان پر اثرات: پاکستان میں عمودی ترقی اور جدید رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
  • خلیجی سرمایہ کاری: متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک اس عالمی رجحان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
  • مستقبل کے رجحانات: پائیدار تعمیرات، سمارٹ ہوم ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹلائزیشن ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا مستقبل ہیں۔
  • چیلنجز: مہنگائی اور تعمیراتی لاگت میں اضافہ مستقبل کی ترقی کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ۲۰۳۱ تک کیا بڑی تبدیلی متوقع ہے؟

مورڈور انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق، عالمی رہائشی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۲۰۳۱ تک ۱۵.۵۳ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ ۲۰۲۶ کے ۱۱.۶ کھرب ڈالر سے نمایاں اضافہ ہے۔ اس ترقی میں اپارٹمنٹس اور کنڈومینیمز کا حصہ ۵۹ فیصد ہو گا۔

اس عالمی ترقی کے پاکستان اور خلیجی ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

پاکستان میں شہری علاقوں میں اپارٹمنٹس کی مانگ بڑھنے سے عمودی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب غیر ملکی سرمایہ کاری اور شہری توسیع کے ذریعے اس عالمی رجحان سے فائدہ اٹھائیں گے۔

مستقبل میں رہائشی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے اہم رجحانات کیا ہوں گے؟

مستقبل میں پائیدار تعمیرات، سمارٹ ہوم ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال، اور ماحول دوست رہائشی حل کلیدی رجحانات ہوں گے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی بھی اس سیکٹر میں شفافیت اور سہولت کو فروغ دے گی۔

Source: PR Newswire via پاکش نیوز Research.