فوری: NFL کھلاڑیوں میں دماغی بیماری کا تشویشناک انکشاف
ایک نئی تحقیق کے مطابق، ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ کے درمیان فوت ہونے والے کم از کم ایک چوتھائی سابق امریکی نیشنل فٹ بال لیگ (NFL) کھلاڑیوں میں دماغی تنزلی کی بیماری 'کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی' (CTE) پائی گئی ہے۔...
اس مضمون سے پوچھیں
ایک نئی تحقیق کے مطابق، ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ کے درمیان فوت ہونے والے کم از کم ایک چوتھائی سابق امریکی نیشنل فٹ بال لیگ (NFL) کھلاڑیوں میں دماغی تنزلی کی بیماری 'کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی' (CTE) پائی گئی ہے۔ یہ انکشاف کھیلوں میں سر کی چوٹوں کے دیرپا اثرات کے بارے میں گہری تشویش پیدا کرتا ہے، اور محققین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ مطالعہ، جو حال ہی میں ایک معتبر طبی جریدے میں شائع ہوا ہے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ پیشہ ورانہ کھیلوں میں کھلاڑیوں کی صحت کو درپیش خطرات کی نوعیت کتنی سنگین ہے۔
ایک نظر میں
ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ فوت شدہ NFL کھلاڑیوں میں دماغی بیماری کی شرح پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہے، جو کھلاڑیوں کی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
- کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی (CTE) کیا ہے؟ کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی (CTE) ایک ترقی پسند دماغی بیماری ہے جو بار بار سر پر لگنے والی چوٹوں کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ یہ بیماری دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور یادداشت، مزاج اور رویے میں تبدیلیاں لاتی ہے۔
- نئی تحقیق کے مطابق NFL کھلاڑیوں میں CTE کا پھیلاؤ کتنا ہے؟ نئی تحقیق کے مطابق، ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ کے درمیان فوت ہونے والے کم از کم ایک چوتھائی (۲۵ فیصد) سابق NFL کھلاڑیوں میں CTE پایا گیا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
- اس تحقیق کے پاکستان اور خلیجی خطے کے لیے کیا اثرات ہیں؟ اگرچہ یہ تحقیق NFL پر مرکوز ہے، لیکن اس کے نتائج عالمی سطح پر رابطے والے کھیلوں میں سر کی چوٹوں کے خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی خطے میں بھی فٹ بال، باکسنگ جیسے کھیلوں میں کھلاڑیوں کی حفاظت اور دماغی صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ تحقیق ان کھلاڑیوں کے لیے صحت کے ممکنہ خطرات کو اجاگر کرتی ہے جو شدید جسمانی رابطے والے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس سے کھیلوں کے اداروں پر کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ CTE ایک ایسی بیماری ہے جو بار بار سر کی چوٹوں، خاص طور پر دھچکوں اور جھٹکوں کے نتیجے میں دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے یادداشت، مزاج اور رویے میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, مستقبل کی جنگ: انسانی روبوٹس عسکری میدان میں اہم کردار ادا کریں گے؟.
- نئی تحقیق کے مطابق ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ کے دوران فوت شدہ NFL کھلاڑیوں میں سے کم از کم ۲۵ فیصد میں CTE پایا گیا۔
- محققین کا خیال ہے کہ CTE کی اصل شرح رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
- یہ بیماری بار بار سر کی چوٹوں کے نتیجے میں دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
- مطالعہ کھیلوں میں کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
- عالمی سطح پر رابطے والے کھیلوں میں سر کی چوٹوں کے بارے میں بیداری میں اضافہ ہورہا ہے۔
نئی تحقیق کے انکشافات اور تشویش
ہارورڈ یونیورسٹی اور بوسٹن یونیورسٹی کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کی جانب سے کیے گئے اس وسیع مطالعے میں، ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ کے درمیان انتقال کر جانے والے ۱۰۰ سے زائد سابق NFL کھلاڑیوں کے دماغوں کا پوسٹ مارٹم کے ذریعے معائنہ کیا گیا۔ ان تجزیات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کم از کم ۲۵ فیصد میں CTE کی علامات موجود تھیں۔ یہ اعداد و شمار ایک اہم پیش رفت ہیں کیونکہ یہ پہلے کی تحقیقات سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کا احاطہ کرتے ہیں۔
مطالعے کے مرکزی محقق، ڈاکٹر کرسٹیان شاؤرٹ، نے ایک بیان میں کہا، "ہمارا ڈیٹا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ NFL میں CTE کا پھیلاؤ ایک اہم اور حل طلب مسئلہ ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "یہ محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم مسئلہ ہے جو کھیل کے فطری تقاضوں سے جڑا ہوا ہے۔" یہ تحقیق سابق کھلاڑیوں کی صحت کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری بحث کو ایک نئی جہت دیتی ہے اور کھیلوں کی دنیا میں حفاظتی معیاروں کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہے۔
دماغی تنزلی کی بیماری: ایک گہرا جائزہ
کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی (CTE) ایک ترقی پسند اور مہلک دماغی بیماری ہے جو بار بار سر پر لگنے والی چوٹوں، خاص طور پر بار بار ہونے والے ہلکے دماغی صدمات سے منسلک ہے۔ یہ بیماری اکثر ان کھلاڑیوں میں پائی جاتی ہے جو رابطے والے کھیلوں جیسے کہ امریکی فٹ بال، باکسنگ، اور ہاکی میں حصہ لیتے ہیں۔ CTE کی علامات میں یادداشت کا نقصان، الجھن، شخصیت میں تبدیلیاں، جارحانہ رویہ، ڈپریشن، اور خودکشی کے رجحانات شامل ہیں۔
یہ بیماری صرف پوسٹ مارٹم کے ذریعے ہی تشخیص کی جا سکتی ہے، جس کی وجہ سے زندہ افراد میں اس کی تشخیص اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈس آرڈرز اینڈ اسٹروک (NINDS) کے مطابق، CTE میں دماغ میں تاؤ پروٹین (tau protein) کا غیر معمولی جمع ہونا شامل ہے، جو دماغی خلیوں کے کام میں خلل ڈالتا ہے اور بالآخر ان کی موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ عمل وقت کے ساتھ دماغی بافتوں کو تباہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض کی حالت بتدریج بگڑتی جاتی ہے۔
کھیلوں میں سر کی چوٹوں کا تاریخی پس منظر
سر کی چوٹوں اور دماغی بیماریوں کے درمیان تعلق کی تاریخ ایک صدی سے بھی پرانی ہے۔ سب سے پہلے ۱۹۲۰ کی دہائی میں باکسرز میں 'پنچ ڈرنک سنڈروم' کے نام سے اس بیماری کو تسلیم کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ دہائیوں میں امریکی فٹ بال کے کھلاڑیوں میں CTE کی بڑھتی ہوئی شرح نے اس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ۲۰۰۵ سے اب تک ہونے والی کئی تحقیقات نے NFL کے سابق کھلاڑیوں میں CTE کے پھیلاؤ کے بارے میں تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔
نیشنل فٹ بال لیگ (NFL) کو ماضی میں اس مسئلے پر اپنی سست روی اور حقائق کو چھپانے کی کوششوں پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ۲۰۱۳ میں، NFL نے ہزاروں سابق کھلاڑیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت انہیں دماغی چوٹوں سے متعلق نقصانات کے لیے مالی معاوضہ فراہم کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد متاثرہ کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کو ریلیف فراہم کرنا تھا اور یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ کھیل میں سر کی چوٹیں ایک سنگین مسئلہ ہیں۔
ماہرین کی آراء اور عالمی اثرات
برطانیہ کی گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم اسٹیورٹ، جو CTE پر تحقیق کے لیے مشہور ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں زور دیا کہ "اگرچہ یہ مطالعہ امریکی فٹ بال پر مرکوز ہے، لیکن اس کے نتائج بین الاقوامی سطح پر رگبی، فٹ بال (ساکر)، اور آئس ہاکی جیسے کھیلوں میں بھی سر کی چوٹوں کے خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ ہمیں عالمی کھیلوں کی تنظیموں کی جانب سے زیادہ مضبوط حفاظتی پروٹوکولز کی ضرورت ہے۔" ان ماہرین کی آراء اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔
پاکستان اور خلیجی خطے میں کھیلوں کے تحفظات
پاکستان اور خلیجی خطے میں بھی رابطے والے کھیل، جیسے فٹ بال، باکسنگ، اور کبڈی، کافی مقبول ہیں۔ اگرچہ ان کھیلوں میں سر کی چوٹوں سے متعلق وسیع پیمانے پر تحقیق دستیاب نہیں ہے، لیکن NFL کے انکشافات مقامی کھیلوں کی فیڈریشنز اور حکومتوں کے لیے ایک اہم سبق ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ اور خلیجی ممالک کے کھیلوں کے حکام کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کریں۔
مقامی سطح پر کھلاڑیوں میں سر کی چوٹوں کی نگرانی، تشخیص اور طویل مدتی اثرات پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت اور پاکستان کی وزارت بین الصوبائی رابطہ (جو کھیلوں کے معاملات کو دیکھتی ہے) کو اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے سخت حفاظتی قواعد، کوچز کی تربیت، اور دماغی صحت کے ماہرین کی دستیابی شامل ہو سکتی ہے۔
مستقبل کے چیلنجز اور ممکنہ حل
اس تحقیق کے نتائج کھیلوں کی دنیا کے لیے کئی چیلنجز کھڑے کرتے ہیں۔ سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ CTE کی تشخیص کے لیے ایک قابل اعتماد طریقہ کار تیار کیا جائے جو زندہ افراد میں بھی ممکن ہو۔ اس کے علاوہ، کھیل کے قواعد میں مزید تبدیلیاں لانا ضروری ہیں تاکہ سر کی چوٹوں کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔ NFL اور دیگر کھیلوں کی تنظیمیں پہلے ہی کچھ قواعد میں تبدیلیاں کر چکی ہیں، لیکن یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کھلاڑیوں کی یونینز اور ایسوسی ایشنز کا کردار بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی ہے۔ انہیں اپنے ارکان کی صحت اور حفاظت کے لیے مزید دباؤ ڈالنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انہیں مناسب طبی دیکھ بھال اور معلومات تک رسائی حاصل ہو۔ بوسٹن یونیورسٹی کے CTE سینٹر کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر این میکی، نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "ہمیں امید ہے کہ یہ تحقیق کھیل کے ہر سطح پر حفاظت کو ترجیح دینے کے لیے ایک تحریک کا باعث بنے گی۔"
بین الاقوامی تعاون اور بیداری
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو رابطے والے کھیلوں میں دماغی صحت کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ مختلف ممالک کی کھیلوں کی فیڈریشنز اور طبی ماہرین کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ بہترین طریقوں کو اپنایا جا سکے اور تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مسئلے کا حل کسی ایک ملک یا کھیل کی تنظیم کے بس کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عالمی کوشش کا متقاضی ہے۔
مستقبل میں، یہ امید کی جا رہی ہے کہ طبی ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے ساتھ، CTE کی جلد تشخیص اور ممکنہ علاج کے نئے طریقے سامنے آئیں گے۔ تاہم، اس وقت سب سے اہم پہلو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور کھلاڑیوں کو ان کے کیریئر کے دوران اور بعد میں صحت کی بہترین ممکنہ دیکھ بھال فراہم کرنا ہے۔ یہ تحقیق اس سمت میں ایک اہم قدم ہے جو کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔
اہم نکات
- CTE پھیلاؤ: ۲۰۱۶-۲۰۲۱ کے دوران فوت شدہ NFL کھلاڑیوں میں سے کم از کم ۲۵ فیصد میں کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی (CTE) کی تصدیق ہوئی۔
- تحقیق کے نتائج: نئی تحقیق پہلے کی نسبت وسیع پیمانے پر کھلاڑیوں کی صحت کے خطرات کو نمایاں کرتی ہے، اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
- صحت کے خطرات: بار بار سر کی چوٹیں دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے یادداشت اور رویے میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
- عالمی اثرات: یہ مسئلہ صرف امریکی فٹ بال تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر رگبی، فٹ بال اور باکسنگ جیسے رابطے والے کھیلوں کے لیے بھی اہم ہے۔
- حفاظتی اقدامات: کھیلوں کی تنظیموں اور حکومتوں پر کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے سخت قواعد و ضوابط اور بیداری مہم چلانے کا دباؤ ہے۔
- مستقبل کی حکمت عملی: CTE کی تشخیص کے بہتر طریقوں اور کھیل کے قواعد میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں
- NFL
- دماغی بیماری
- CTE
- کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی
- کھلاڑیوں کی صحت
- سر کی چوٹیں
- world
- Brain
- disease
- dead
- players
- higher
معتبر ذرائع:
متعلقہ خبریں
- مستقبل کی جنگ: انسانی روبوٹس عسکری میدان میں اہم کردار ادا کریں گے؟
- برنہم کا یوکرین کی حمایت کا عزم، روسی دھمکیوں کو 'ناقابل قبول' قرار
- کینیا میں چار افراد ہاتھیوں کو زہر دینے کے شبے میں گرفتار
آرکائیو دریافت
- پاکستان: لیبر مارکیٹ شفٹس اور نوجوانوں کے روزگار کے چیلنجز
- مبادلہ کے سی ای او: 'ایران کے حملوں کے بعد سے متحدہ عرب امارات مستعد اور چست رہا ہے'
- بی جی او اور بیل پارٹنرز کا انضمام: امریکی رئیل اسٹیٹ میں نیا بڑا کھلاڑی
اکثر پوچھے گئے سوالات
کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی (CTE) کیا ہے؟
کرونک ٹرامیٹک انسیفالوپیتھی (CTE) ایک ترقی پسند دماغی بیماری ہے جو بار بار سر پر لگنے والی چوٹوں کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ یہ بیماری دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور یادداشت، مزاج اور رویے میں تبدیلیاں لاتی ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق NFL کھلاڑیوں میں CTE کا پھیلاؤ کتنا ہے؟
نئی تحقیق کے مطابق، ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ کے درمیان فوت ہونے والے کم از کم ایک چوتھائی (۲۵ فیصد) سابق NFL کھلاڑیوں میں CTE پایا گیا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق کے پاکستان اور خلیجی خطے کے لیے کیا اثرات ہیں؟
اگرچہ یہ تحقیق NFL پر مرکوز ہے، لیکن اس کے نتائج عالمی سطح پر رابطے والے کھیلوں میں سر کی چوٹوں کے خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی خطے میں بھی فٹ بال، باکسنگ جیسے کھیلوں میں کھلاڑیوں کی حفاظت اور دماغی صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.
یہ خبر شیئر کریں