اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

مارکیٹس اور بزنس
پاکش نیوز|3 اپریل، 2,026|8 منٹ مطالعہ

یونین پے نے ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک متعارف کرا دیا: سمارٹ ادائیگیوں میں نیا دور

یونین پے نے اپنے جدید ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے محفوظ اور شفاف ادائیگیوں کا ایک نیا دور شروع کرنا ہے۔ ہانگ کانگ میں ایک کامیاب ٹیکسی بکنگ کے ذریعے اس کی افادیت کا مظاہرہ کیا گیا۔...

شنگھائی میں 3 اپریل 2,026 کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق، یونین پے انٹرنیشنل نے باضابطہ طور پر اپنے جدید ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ایک کھلا، قابل اعتماد اور سمارٹ ادائیگیوں کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے، جس سے ڈیجیٹل لین دین کو مزید محفوظ اور صارف دوست بنایا جا سکے۔ اس اہم اقدام کا مظاہرہ 2 اپریل کو ہانگ کانگ، چین میں ایک خصوصی ٹیکسی بکنگ کے کامیاب لین دین کے ذریعے کیا گیا۔

ایک نظر میں

شنگھائی میں 3 اپریل 2,026 کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق، یونین پے انٹرنیشنل نے باضابطہ طور پر اپنے جدید ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ایک کھلا، قابل اعتماد اور سمارٹ ادائیگیوں کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے، جس سے ڈیجیٹل لین دین

اس مظاہرے کے دوران، ایک ٹیکنالوجی کمپنی ایوونیٹ (Evonet) کے تیار کردہ اے آئی اسسٹنٹ میں بکنگ کی معلومات داخل کرنے کے بعد، ٹیسٹر کو دستیاب ٹیکسیوں کی فہرست فوری طور پر موصول ہو گئی۔ یونین پے کے حکام کے مطابق، یہ فریم ورک اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مالیاتی خدمات میں ضم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جس سے صارفین کے لیے ادائیگیوں کا عمل نہ صرف تیز بلکہ زیادہ موثر ہو جائے گا۔

  • آغاز: یونین پے نے ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک متعارف کرایا ہے۔
  • مقصد: اے آئی کے ذریعے محفوظ اور شفاف سمارٹ ادائیگیوں کا ایک کھلا ماحولیاتی نظام بنانا۔
  • مظاہرہ: ہانگ کانگ میں اے آئی اسسٹنٹ کے ذریعے کامیاب ٹیکسی بکنگ کے لین دین سے افادیت ثابت ہوئی۔
  • فائدہ: صارفین کے لیے ادائیگیوں کو تیز، محفوظ اور زیادہ موثر بنانا۔
  • ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اوپن پروٹوکول کا استعمال۔

یونین پے کا جدید فریم ورک: ایک جائزہ

یونین پے کا یہ نیا فریم ورک ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ڈیجیٹل ادائیگیوں اور فن ٹیک کے شعبے میں تیزی سے جدت آ رہی ہے۔ یہ فریم ورک بنیادی طور پر اے آئی اسسٹنٹس کو ادائیگیوں کے عمل میں براہ راست شامل کرنے پر مرکوز ہے، جس سے صارفین کو روایتی طریقہ کار کے بجائے ایک زیادہ خودکار اور مربوط تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ یونین پے کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف مالیاتی لین دین کی رفتار بڑھے گی بلکہ سکیورٹی کے معیار کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, بیک پیک ایکسچینج نے سابق کوائن بیس رہنما نیتھن اسمتھ کو سی او او مقرر کر دیا.

ایجنٹک پیمنٹ کیا ہے؟

ایجنٹک پیمنٹ سے مراد ایسے ادائیگی کے نظام ہیں جہاں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ یا اسسٹنٹ صارفین کی جانب سے ادائیگیوں کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ ایجنٹ نہ صرف ادائیگیوں کو مکمل کرتے ہیں بلکہ صارفین کی ترجیحات، استعمال کے پیٹرن اور دستیاب آپشنز کی بنیاد پر بہترین مالیاتی فیصلے کرنے میں بھی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس سے صارفین کو بار بار معلومات داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور لین دین کا عمل ہموار ہو جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا مقصد صارف کے تجربے کو بہتر بنانا اور مالیاتی خدمات کو مزید قابل رسائی بنانا ہے۔

علاقائی اثرات اور پاکستان کے لیے مواقع

یونین پے کے اس فریم ورک کے عالمی مالیاتی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے جہاں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں، یہ ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد بڑھا ہے، اور یونین پے کا یہ نظام اس نمو کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

مقامی فن ٹیک کمپنیوں اور بینکوں کے لیے یہ فریم ورک نئے کاروباری ماڈلز اور اختراعی حل پیش کرنے کے مواقع پیدا کرے گا۔

پاکستان میں موبائل والٹس اور آن لائن بینکنگ کا استعمال بڑھ رہا ہے، ایسے میں اے آئی پر مبنی ادائیگی کے نظام سے صارفین کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ اس سے نہ صرف شہری علاقوں میں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی جہاں بینکنگ کی سہولیات محدود ہیں، ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کو فروغ مل سکتا ہے۔ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں کم لاگت اور زیادہ محفوظ طریقے سے ادائیگیوں کو قبول کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

خلیجی خطے میں ڈیجیٹل تبدیلی

متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک، جو ٹیکنالوجی اور جدت میں پیش پیش ہیں، یونین پے کے اس اقدام سے نمایاں طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ دبئی اور ریاض جیسے شہر سمارٹ سٹی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جہاں اے آئی پر مبنی ادائیگی کے حل روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ خلیجی خطے میں صارفین کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنا چکی ہے، اور یہ فریم ورک انہیں مزید سہولت اور سکیورٹی فراہم کرے گا۔

اس سے علاقائی اقتصادی ترقی کو بھی تقویت ملے گی، کیونکہ یہ سرحد پار ادائیگیوں کو مزید ہموار بنا سکتا ہے۔

ماہرین کی آراء اور مستقبل کا لائحہ عمل

صنعت کے ماہرین نے یونین پے کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی مشاورتی فرم 'گلوبل فن ٹیک انسائٹس' کے سینئر تجزیہ کار، ڈاکٹر عائشہ خان نے پاکش نیوز کو بتایا، "یونین پے کا ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک سمارٹ ادائیگیوں کے مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نہ صرف صارف کے تجربے کو بہتر بنائے گا بلکہ فن ٹیک شعبے میں جدت کی نئی راہیں بھی کھولے گا۔ اے آئی کی شمولیت سے مالیاتی لین دین میں انسانی غلطی کا عنصر کم ہوگا اور سکیورٹی بڑھے گی۔"

ایک اور ماہر، 'مڈل ایسٹ فن ٹیک فورم' کے صدر، احمد الرشید نے کہا، "یہ فریم ورک خلیجی خطے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسی معیشتیں جو اے آئی اور بلاک چین جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپنا رہی ہیں، یونین پے کے اس نظام سے بہت فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ یہ علاقائی سطح پر ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔

" ان ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس کے اوپن سورس ماڈل پر ہوگا، جو ڈویلپرز کو نئے حل تیار کرنے کی ترغیب دے گا۔

آگے کیا ہوگا؟

یونین پے کا ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک کا آغاز ڈیجیٹل ادائیگیوں کی دنیا میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند سالوں میں مزید مالیاتی ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کے اے آئی پر مبنی حل اپنائیں گی۔ اس فریم ورک کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ کتنا وسیع پیمانے پر اپنایا جاتا ہے اور ڈویلپرز اس پر کتنے نئے ایپلی کیشنز تیار کرتے ہیں۔

یونین پے کے حکام نے مزید کہا کہ وہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس نظام کو وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

سکیورٹی اور اعتماد کے چیلنجز

کسی بھی نئے ادائیگی کے نظام کی طرح، ایجنٹک پیمنٹ فریم ورک کو بھی سکیورٹی اور اعتماد کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سائبر حملوں اور ڈیٹا کی خلاف ورزیوں سے بچاؤ کے لیے انتہائی مضبوط حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔ یونین پے کے حکام کے مطابق، یہ فریم ورک جدید ترین انکرپشن اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرے گا تاکہ لین دین کی سکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

صارفین کا اعتماد حاصل کرنا اس کی طویل مدتی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اہم نکات

  • یونین پے: نے ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک کا آغاز کیا، جو اے آئی پر مبنی سمارٹ ادائیگیوں کا نیا دور ہے۔
  • اے آئی اسسٹنٹس: اس فریم ورک میں مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس صارفین کی جانب سے ادائیگیوں کا انتظام کریں گے، جس سے عمل تیز اور محفوظ ہوگا۔
  • ہانگ کانگ مظاہرہ: ہانگ کانگ میں ایک اے آئی اسسٹنٹ کے ذریعے ٹیکسی بکنگ کا کامیاب لین دین اس ٹیکنالوجی کی افادیت کا عملی مظاہرہ تھا۔
  • پاکستان اور خلیجی خطہ: یہ فریم ورک پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت اور خلیجی ممالک میں سمارٹ سٹی منصوبوں کے لیے اہم مواقع فراہم کرے گا۔
  • ماہرین کی آراء: ماہرین نے اسے فن ٹیک میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے جو سکیورٹی اور صارف کے تجربے کو بہتر بنائے گا۔
  • مستقبل کے چیلنجز: سکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی اور وسیع پیمانے پر اپنایا جانا اس نظام کے لیے آئندہ کے اہم چیلنجز ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

شنگھائی میں 3 اپریل 2,026 کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق، یونین پے انٹرنیشنل نے باضابطہ طور پر اپنے جدید ایجنٹک پیمنٹ اوپن پروٹوکول فریم ورک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ایک کھلا، قابل اعتماد اور سمارٹ ادائیگیوں کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے، جس سے ڈیجیٹل لین دین

یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔

Source: PR Newswire via پاکش نیوز Research.