اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|26 اگست، 2026|10 منٹ مطالعہ

اسپین، پرتگال میں بجلی ذخیرہ کرنے کی دوڑ تیز، فرمیں بیٹری پاور خریدنے میں مصروف

گزشتہ سال کی بجلی کی بڑی بندش کے بعد، اسپین اور پرتگال کی کاروباری فرمیں توانائی کے تحفظ کے لیے تیزی سے بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام خرید رہی ہیں۔...

اس مضمون سے پوچھیں

گزشتہ سال پیش آنے والی بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کے بعد، اسپین اور پرتگال کی کاروباری فرمیں اپنی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے تیزی سے بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام خرید رہی ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف موجودہ گرڈ کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش ہے بلکہ مستقبل میں قابل تجدید توانائی کے زیادہ انضمام کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔
کاروباری تسلسل کو یقینی بنانا اور پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنا اس خریداری کی بنیادی وجہ ہے، جس کا مقصد ممکنہ بجلی کی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

ایک نظر میں

گزشتہ سال کی بڑی بجلی بندش کے بعد، اسپین اور پرتگال کی فرمیں توانائی کے تحفظ اور گرڈ استحکام کے لیے تیزی سے بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام خرید رہی ہیں۔

  • اسپین اور پرتگال کی فرمیں بیٹری پاور کیوں خرید رہی ہیں؟ اسپین اور پرتگال کی فرمیں گزشتہ سال کی بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کے بعد اپنی کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور گرڈ کے استحکام کو بہتر بنانے کے لیے بیٹری پاور خرید رہی ہیں۔ یہ اقدام مستقبل میں توانائی کی ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
  • اس رجحان کا علاقے کی توانائی مارکیٹ پر کیا اثر ہے؟ بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کی بڑھتی ہوئی مانگ سے علاقے کی توانائی مارکیٹ میں جدت آ رہی ہے، قابل تجدید توانائی کا انضمام آسان ہو رہا ہے، اور گرڈ کی لچک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔
  • بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام توانائی کی سلامتی کو کیسے بہتر بناتے ہیں؟ بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ کی صورت میں فوری بیک اپ فراہم کرتے ہیں، جس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوتیں۔ یہ نظام قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ کو بھی منظم کرتے ہیں، جس سے قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوتا ہے اور توانائی کی مجموعی سلامتی بہتر ہوتی ہے۔

اسپین اور پرتگال میں کمپنیوں کی جانب سے بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کی خریداری میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ یہ پیش رفت گزشتہ سال کے ایک بڑے بجلی بحران کے بعد سامنے آئی ہے جس نے دونوں ممالک کی معیشتوں کو شدید متاثر کیا تھا۔ اس بحران نے کاروباری اداروں کو اپنی توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے متبادل حل تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, برنہم نے خزاں کے بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کا امکان مسترد نہیں کیا.

  • گزشتہ سال کی بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کے بعد اسپین اور پرتگال کی فرمیں بیٹری بیک اپ خرید رہی ہیں۔
  • مقصد گرڈ کے استحکام کو بہتر بنانا اور کاروباری تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
  • یہ اقدام قابل تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے انضمام کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
  • ماہرین کے مطابق، یہ رجحان مستقبل کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

بجلی کی بندش اور اس کے اقتصادی اثرات

گزشتہ سال اسپین اور پرتگال کے کچھ حصوں میں ہونے والی بجلی کی بندش نے، جو تقریباً 48 گھنٹوں تک جاری رہی، صنعتی پیداوار، ڈیٹا سینٹرز اور خوردہ کاروبار کو بری طرح متاثر کیا۔ یورپی یونین کے شماریاتی ادارے 'یورو سٹیٹ' کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، اس بندش کے نتیجے میں دونوں ممالک کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 بلین یورو کا اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبے بری طرح متاثر ہوئے جہاں بجلی کی عدم دستیابی نے پیداواری عمل کو روک دیا۔

اس واقعے نے کمپنیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ کس طرح مستقبل میں ایسے حالات سے بچ سکتے ہیں۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق، یہ بندش صرف تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ کے انتظام میں موجود چیلنجز کی عکاسی بھی تھی۔

بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کی بڑھتی ہوئی مانگ

بجلی کی بندش کے بعد سے، اسپین اور پرتگال میں بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام (Battery Energy Storage Systems - BESS) کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 'آئی ای اے' (بین الاقوامی توانائی ایجنسی) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2023 کے آخری سہ ماہی کے مقابلے میں 2024 کی پہلی سہ ماہی میں ان سسٹمز کی تنصیب کے معاہدوں میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ نظام کمپنیوں کو بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ کی صورت میں ایک خود مختار بیک اپ فراہم کرتے ہیں، جس سے پیداواری عمل کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔

بڑی صنعتی اکائیاں، جیسے کہ آٹوموبائل فیکٹریاں اور کیمیکل پلانٹس، خاص طور پر اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ان سسٹمز میں لیتھیم آئن بیٹریاں سب سے زیادہ مقبول ہیں، جو اعلیٰ کارکردگی اور طویل عمر فراہم کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، اگلے پانچ سالوں میں ان ممالک میں بیٹری ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: توانائی کے مستقبل کی تشکیل

ڈاکٹر عالیہ احمد، جو یورپی توانائی پالیسی کی ماہر ہیں اور برسلز میں قائم 'یورپی انرجی فورم' سے وابستہ ہیں، نے پاکش نیوز کو بتایا کہ: "اسپین اور پرتگال میں بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام میں یہ سرمایہ کاری ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ صرف بیک اپ پاور فراہم کرنے سے کہیں زیادہ ہے؛ یہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار کے اتار چڑھاؤ کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ گرڈ کو زیادہ لچکدار بنائے گا اور توانائی کی آزادی کی طرف ایک قدم ہے۔

"

انجینئر طارق محمود، جو میڈرڈ میں مقیم ایک گرڈ ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ ہیں، نے مزید وضاحت کی: "گزشتہ سال کی بندش نے یہ ثابت کر دیا کہ موجودہ گرڈ مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہے۔ بیٹری سسٹمز، خاص طور پر بڑے پیمانے پر، 'ورچوئل پاور پلانٹس' کے طور پر کام کر سکتے ہیں، جو ضرورت پڑنے پر فوری بجلی فراہم کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف کمپنیوں بلکہ قومی توانائی کی سلامتی کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ہے۔"

اثرات کا جائزہ: کون متاثر ہوتا ہے اور کیسے؟

اس رجحان کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے، وہ کاروباری ادارے جو بجلی پر انحصار کرتے ہیں، اب انہیں کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ان کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور صارفین کو بروقت خدمات مل سکیں گی۔ خاص طور پر ڈیٹا سینٹرز، جو بجلی کی ایک لمحاتی بندش سے بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں، انہیں اب بہتر تحفظ حاصل ہوگا۔

دوسرے، یہ اقدام قابل تجدید توانائی کے شعبے کو مزید فروغ دے رہا ہے۔ جب شمسی یا ہوا سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے تو اسے بیٹریوں میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، اور جب پیداوار کم ہو تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے گرڈ پر قابل تجدید توانائی کا انضمام آسان ہو جاتا ہے، اور کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔

تیسرے، بجلی کے بنیادی ڈھانچے فراہم کرنے والی کمپنیوں اور بیٹری مینوفیکچررز کو نئے کاروبار کے مواقع مل رہے ہیں، جس سے ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کو فروغ مل رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا: مستقبل کا تجزیہ

مستقبل میں، اسپین اور پرتگال کی حکومتیں اس رجحان کو مزید تقویت دینے کے لیے پالیسیاں متعارف کروا سکتی ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے بھی ایسے منصوبوں کے لیے فنڈنگ اور مراعات کا اعلان متوقع ہے جو توانائی کی سلامتی اور قابل تجدید ذرائع کو فروغ دیتے ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے چند سالوں میں ہاؤسنگ سیکٹر میں بھی چھوٹے پیمانے پر بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کی تنصیب میں اضافہ ہوگا، جس سے عام صارفین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تکنیکی ترقی بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کرے گی، جہاں نئی اور زیادہ موثر بیٹری ٹیکنالوجیز جیسے کہ فلو بیٹریاں اور سالڈ اسٹیٹ بیٹریاں مارکیٹ میں آسکتی ہیں۔ ان پیش رفتوں سے ذخیرہ شدہ توانائی کی لاگت میں کمی آئے گی اور اس کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔ علاقائی سطح پر، یہ ماڈل دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو اسی طرح کے توانائی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان اور خلیجی خطے کے لیے سبق

اسپین اور پرتگال کا یہ تجربہ پاکستان اور خلیجی خطے کے لیے اہم سبق رکھتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی بندش ایک عام مسئلہ ہے، اور گرڈ استحکام کا چیلنج مسلسل موجود ہے۔ اسی طرح، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک قابل تجدید توانائی میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جہاں شمسی توانائی کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ کو منظم کرنے کے لیے بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں صنعتی اور تجارتی شعبے کے لیے بیٹری بیک اپ سسٹمز میں سرمایہ کاری نہ صرف پیداواری تسلسل کو یقینی بنائے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف بھی لے جائے گی۔ خلیجی ممالک کے لیے، یہ ٹیکنالوجی ان کے 'نیٹ زیرو' اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جہاں قابل تجدید توانائی کے بڑے منصوبوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر ذخیرہ کرنے کے نظام ضروری ہوں گے۔ 'پیمرا' اور دیگر ریگولیٹری باڈیز کو اس سلسلے میں پالیسی سازی پر غور کرنا چاہیے۔

اہم نکات

  • توانائی کا بحران: گزشتہ سال کی بڑی بجلی کی بندش نے اسپین اور پرتگال میں کمپنیوں کو توانائی کے متبادل حل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
  • بیٹریوں کی مانگ: بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کی خریداری میں 40 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر صنعتی شعبے میں۔
  • گرڈ کا استحکام: بیٹری سسٹمز قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ کو منظم کر کے گرڈ کو مستحکم کرتے ہیں۔
  • اقتصادی فوائد: کمپنیوں کی پیداواری لاگت میں کمی، کاروباری تسلسل اور نئے کاروباری مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
  • مستقبل کی پالیسیاں: حکومتیں اور یورپی یونین اس رجحان کو فروغ دینے کے لیے مزید مراعات اور فنڈنگ فراہم کر سکتے ہیں۔
  • علاقائی سبق: پاکستان اور خلیجی ممالک اپنے توانائی کے چیلنجز اور قابل تجدید توانائی کے اہداف کے حصول کے لیے اس ماڈل سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • اسپین توانائی
  • پرتگال بجلی
  • بیٹری ذخیرہ نظام
  • توانائی بحران
  • گرڈ استحکام
  • قابل تجدید توانائی
  • بزنس تسلسل
  • یورپی یونین توانائی
  • بزنس
  • Firms
  • scramble
  • battery
  • power
  • Spain

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اسپین اور پرتگال کی فرمیں بیٹری پاور کیوں خرید رہی ہیں؟

اسپین اور پرتگال کی فرمیں گزشتہ سال کی بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کے بعد اپنی کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور گرڈ کے استحکام کو بہتر بنانے کے لیے بیٹری پاور خرید رہی ہیں۔ یہ اقدام مستقبل میں توانائی کی ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

اس رجحان کا علاقے کی توانائی مارکیٹ پر کیا اثر ہے؟

بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کی بڑھتی ہوئی مانگ سے علاقے کی توانائی مارکیٹ میں جدت آ رہی ہے، قابل تجدید توانائی کا انضمام آسان ہو رہا ہے، اور گرڈ کی لچک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔

بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام توانائی کی سلامتی کو کیسے بہتر بناتے ہیں؟

بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ کی صورت میں فوری بیک اپ فراہم کرتے ہیں، جس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوتیں۔ یہ نظام قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ کو بھی منظم کرتے ہیں، جس سے قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوتا ہے اور توانائی کی مجموعی سلامتی بہتر ہوتی ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).