پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کے روز ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ رواں ہفتے کابل میں کیے گئے فضائی حملے کا ہدف گولہ بارود کا ایک گودام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی انٹیلی جنس معلومات درست ثابت ہوئیں اور یہ کارروائی 'آپریشن غضب الحق' کے وسیع تناظر میں کی گئی ہے۔ اس بیان نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے بلکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
ایک نظر میں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کے روز ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ رواں ہفتے کابل میں کیے گئے فضائی حملے کا ہدف گولہ بارود کا ایک گودام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی انٹیلی جنس معلومات درست ثابت ہوئیں اور یہ کارروائی 'آپریشن غضب الحق' کے وسیع تناظ
**اہم نکتہ:** **ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کو مزید واضح کیا ہے، جس کے علاقائی امن پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔**
### ایک نظر میں * ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کابل میں گولہ بارود کے گودام کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی۔ * انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام 'کیپیٹل ٹاک' میں گفتگو کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔ * یہ کارروائی پاکستان کی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جو درست ثابت ہوئیں۔ * 'آپریشن غضب الحق' کو افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں شروع کیا گیا۔ * اس بیان سے پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کے خلاف سخت موقف کی عکاسی ہوتی ہے۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, افغانستان کا پاکستان کے خلاف ’400 ہلاکتوں‘ کے دعوے پر جوابی کارروائی کا اعلان:….
### پس منظر اور علاقائی کشیدگی پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، جس نے دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے یہ کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کر دیا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغان عبوری حکومت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں، 'آپریشن غضب الحق' کا آغاز پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف ایک ٹھوس اور فیصلہ کن ردعمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ آپریشن محض ایک جوابی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرحد پار سے ہونے والے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جن میں سے بیشتر کا تعلق افغان سرحد سے تھا۔ اس صورتحال نے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیا تھا کہ وہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرے۔ کابل حملے سے قبل بھی پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے بارہا مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ تاہم، جب یہ مطالبات پورے نہیں ہوئے، تو پاکستان نے اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع میں یہ کارروائی کی، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز سمجھی جاتی ہے اگر کوئی ملک اپنی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کا سامنا کر رہا ہو اور میزبان ملک تعاون نہ کرے۔
### آپریشن غضب الحق: ایک جامع تناظر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ 'آپریشن غضب الحق' کوئی "سٹینڈالون" یا اکیلی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں دہشت گردی کی لہر کو روکنا ہے۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد سرحد پار سے آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی کیمپوں اور گولہ بارود کے ڈپو کو غیر فعال کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو پاکستان کی مسلح افواج کی اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر ملکی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور خاص طور پر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ حکام نے بتایا کہ اس آپریشن کا ہدف صرف دہشت گرد ہیں اور اس کا مقصد افغان عوام یا عبوری حکومت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنا ہے۔
**سوال و جواب: پاکستان کابل میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کیوں کر رہا ہے؟**
**جواب:** پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ جب افغان عبوری حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی، تو پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ اقدام پاکستان کی خودمختاری کے دفاع اور اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
### ماہرین کا تجزیہ سلامتی امور کے ماہرین نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان کو پاکستان کی جانب سے واضح اور دو ٹوک پیغام قرار دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) طلعت مسعود نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ بیان پاکستان کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ کابل میں گولہ بارود کے گودام کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کو یہ پیغام ہے کہ ان کے ٹھکانے محفوظ نہیں رہیں گے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کی انٹیلی جنس کی برتری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
فارن پالیسی کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس طرح کی کارروائیاں علاقائی سطح پر تناؤ کو بڑھا سکتی ہیں، لیکن پاکستان کے پاس اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے محدود اختیارات رہ گئے تھے۔ یہ اقدام افغان عبوری حکومت پر دباؤ بڑھائے گا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف زیادہ فعال کردار ادا کرے۔" انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ بین الاقوامی برادری کو اپنے اقدامات کی توجیہ پیش کی جا سکے۔
### اثرات کا جائزہ اس حملے کے فوری اثرات پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر مرتب ہوں گے۔ افغان عبوری حکومت نے اس حملے کی مذمت کی ہے، تاہم پاکستان نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورتحال سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید متاثر ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی کافی کمزور ہے۔ تاہم، پاکستان کا یہ اقدام اندرونی طور پر عوام میں یہ پیغام دے گا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ اس کے علاوہ، یہ کارروائی دہشت گرد گروہوں کے حوصلے پست کرنے اور انہیں یہ پیغام دینے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے کہ ان کی پناہ گاہیں اب محفوظ نہیں ہیں۔
علاقائی سطح پر، اس کارروائی کے اثرات وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران پر بھی پڑ سکتے ہیں، جو افغانستان کی عدم استحکام سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ممالک بھی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون پر زور دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام ان ممالک کے لیے ایک نظیر قائم کر سکتا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے خطرات لاحق ہوں تو خود دفاعی کارروائیاں ضروری ہو سکتی ہیں۔ تاہم، یہ بھی خدشہ ہے کہ اس سے خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اگر دونوں ممالک سفارتی حل کی طرف نہیں جاتے۔
### آگے کیا ہوگا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت پر دباؤ برقرار رہے گا کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنی پوزیشن کو مزید واضح کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ اس کے اقدامات کو خود دفاع کے حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
یہ ممکن ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں پر سیکیورٹی کو مزید سخت کرے اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے۔ اس صورتحال میں، افغان عبوری حکومت کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، یا پھر مزید کشیدگی کا سامنا کرے۔ **اس سارے تناظر میں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ انکشاف کہ کابل حملے میں گولہ بارود کے گودام کو نشانہ بنایا گیا، علاقائی تعلقات اور خاص طور پر پاکستان-افغانستان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کی سیکیورٹی حکمت عملی میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے جو خطے میں امن کی نئی راہ ہموار کرنے کی بجائے، فی الحال، مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہے، جب تک کہ دونوں فریقین سفارتی سطح پر کوئی مشترکہ حل تلاش نہ کر لیں۔** پاکستان کا یہ سخت موقف علاقائی امن کے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی، اگر اسے دانشمندی سے سنبھالا جائے۔
متعلقہ خبریں
- افغانستان کا پاکستان کے خلاف ’400 ہلاکتوں‘ کے دعوے پر جوابی کارروائی کا اعلان: کیا خطے میں کشیدگی…
- پاکستان اور چین کے جوہری میزائلوں کی عالمی رپورٹس، مگر خطے میں بڑھتی کشیدگی میں پاکستان کا اصل…
- پاکستان نے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی، مگر خطے کے…
آرکائیو دریافت
- پیپلزپارٹی اور ق لیگ کا اتحاد ممکن ہوگیا
- پاکستان : کروز میزائل حتف آٹھ کا کامیاب تجربہ
- کرم ایجنسی: شاہراہ کھلواو،فوج تعینات کرو
اکثر پوچھے گئے سوالات
اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کے روز ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ رواں ہفتے کابل میں کیے گئے فضائی حملے کا ہدف گولہ بارود کا ایک گودام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی انٹیلی جنس معلومات درست ثابت ہوئیں اور یہ کارروائی 'آپریشن غضب الحق' کے وسیع تناظ
یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟
یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔
قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔