اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|24 جولائی، 2026|10 منٹ مطالعہ

فوری: اسرائیلی وزیر بن گویر کا مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخلہ، علاقائی کشیدگی میں اضافہ

اسرائیلی قومی سلامتی کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتمار بن گویر نے سینکڑوں اسرائیلی یہودیوں کے ہمراہ جمعرات کو بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر اس مقام کی کئی دہائیوں پرانی حیثیت کو پامال کیا۔...

اس مضمون سے پوچھیں

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کا داخلہ، علاقائی کشیدگی میں اضافہ

اسرائیلی قومی سلامتی کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتمار بن گویر نے سینکڑوں اسرائیلی یہودیوں کے ہمراہ جمعرات کو بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر اس مقام کی کئی دہائیوں پرانی حیثیت کو پامال کیا۔ یہ واقعہ یہودی یوم سوگ، تیشہ بآو کے موقع پر پیش آیا، جس سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور وسیع تر خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ فلسطینی حکام اور بین الاقوامی مبصرین نے اس اقدام کو اشتعال انگیز اور مذہبی مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایک نظر میں

اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ، دیرینہ حیثیت کی خلاف ورزی، جس سے بیت المقدس میں کشیدگی بڑھ گئی۔

  • اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ میں کیا کیا؟ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے سینکڑوں اسرائیلی یہودیوں کے ہمراہ جمعرات کو بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر اس مقام کے دیرینہ سٹیٹس کو کی خلاف ورزی کی۔ یہ دورہ یہودی یوم سوگ تیشہ بآو کے موقع پر کیا گیا۔
  • مسجد اقصیٰ کا 'سٹیٹس کو' کیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کے کیا معنی ہیں؟ مسجد اقصیٰ کا 'سٹیٹس کو' ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کے تحت غیر مسلموں کو احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بن گویر کا داخلہ اور ان کے ساتھ یہودیوں کی موجودگی کو اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، جو مذہبی مقامات کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔
  • اس واقعے کے علاقائی سطح پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اس واقعے سے بیت المقدس، مقبوضہ مغربی کنارے اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں سیاسی و مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینیوں میں غم و غصہ بڑھا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

بن گویر کا یہ دورہ، جسے اسرائیلی ذرائع نے ایک مذہبی زیارت قرار دیا ہے، مسجد اقصیٰ کے تاریخی سٹیٹس کو کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت غیر مسلموں کو اس احاطے میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس اقدام نے فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے اور عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اقوام متحدہ اور متعدد عرب ممالک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, پاکیش نیوز: تازہ ترین عالمی و علاقائی پیشرفتیں — محدود وقت میں مکمل تصویر.

  • اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر سینکڑوں یہودیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
  • یہ واقعہ یہودی یوم سوگ تیشہ بآو کے موقع پر پیش آیا۔
  • فلسطینی حکام نے اسے تاریخی سٹیٹس کو کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
  • اس اقدام سے بیت المقدس اور خطے میں مذہبی و سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
  • عالمی برادری اور عرب ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پس منظر اور تاریخی حیثیت

مسجد اقصیٰ، جسے یہودی ہیکل سلیمانی یا ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں، اسلام اور یہودیت دونوں کے لیے ایک انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور مسلمانوں کے لیے پہلا قبلہ بھی تھا۔ یہودیت میں اسے ہیکل سلیمانی کی جگہ سمجھا جاتا ہے، جو ان کے عقیدے کے مطابق قدیم اسرائیل کے مقدس ترین معبد تھے۔ یہ مقام بیت المقدس کے پرانے شہر میں واقع ہے، جو ۱۹۶۷ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

اس مقام کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے، ۱۹۶۷ کے بعد ایک تاریخی معاہدہ طے پایا جسے سٹیٹس کو (Status Quo) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، مسجد اقصیٰ کے احاطے کے انتظامی امور اردن کے وقف بورڈ کے پاس ہیں، جبکہ اسرائیل بیرونی سیکیورٹی کا ذمہ دار ہے۔ اس معاہدے کے تحت مسلمانوں کو کسی بھی وقت یہاں نماز پڑھنے کی آزادی ہے، جبکہ غیر مسلموں کو صرف مخصوص اوقات میں اس مقام کا دورہ کرنے کی اجازت ہے، لیکن انہیں وہاں نماز پڑھنے یا مذہبی رسومات ادا کرنے کی سختی سے ممانعت ہے۔

اس سٹیٹس کو کا مقصد مذہبی تنازعات اور کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں اسرائیلی آباد کاروں اور بعض سیاستدانوں کی جانب سے اس سٹیٹس کو کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کا تعلق اوٹزما یہودی پارٹی سے ہے، جو ایک انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست جماعت ہے۔ بن گویر خود اس سے قبل بھی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوتے رہے ہیں، لیکن حکومتی وزیر کی حیثیت سے ان کا یہ دورہ ایک زیادہ سنگین اور اشتعال انگیز پیش رفت ہے۔ ان کے اس اقدام کو ان کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی خود مختاری کو مزید مستحکم کرنا شامل ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور ردعمل

جمعرات کی صبح، اے ایف پی کے فوٹیج میں بن گویر کو سینکڑوں دیگر اسرائیلی یہودیوں کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب یہودی یوم سوگ، تیشہ بآو منا رہے تھے، جو ہیکل سلیمانی کی تباہی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن یہودیوں کے لیے مقدس مقامات پر دعائیں اور عبادات کی جاتی ہیں۔

فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی پولیس نے اس دوران فلسطینی نمازیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا تاکہ بن گویر اور ان کے حامیوں کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اس دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرم" قرار دیا۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام "بیت المقدس میں جاری اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ہے" ۔ حماس نے بھی اس اقدام کو "فلسطینی عوام کے مذہبی جذبات پر حملہ" قرار دیتے ہوئے اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔

مسجد اقصیٰ کے نگران ادارے، اردن کے اسلامی وقف بورڈ نے بھی اس دورے کو سٹیٹس کو کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

ماہرین کا تجزیہ اور بین الاقوامی ردعمل

سیاسی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے اس واقعے کو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے والا قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر حسن عبید، جو مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ہیں، نے کہا، "بن گویر کا یہ اقدام محض ایک مذہبی زیارت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی پیغام ہے جو فلسطینیوں اور عالمی برادری کو دیا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت انتہائی دائیں بازو کے ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہے، جس کے خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔"

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مذہبی مقامات کی حرمت کو پامال کریں۔ متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت کئی عرب ممالک نے اس دورے کی مذمت کی اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا۔ ان ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس میں سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

یورپی یونین نے بھی ایک بیان میں کہا کہ وہ بیت المقدس میں مذہبی مقامات کے سٹیٹس کو کے احترام کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

اثرات کا جائزہ اور انسانی پہلو

اس طرح کے واقعات کے فوری اثرات میں بیت المقدس کے پرانے شہر اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے، مسجد اقصیٰ ان کی قومی اور مذہبی شناخت کا مرکز ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی اسرائیلی مداخلت کو اپنی سرزمین پر قبضے کی ایک اور علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے مقامی آبادی میں بے چینی اور احتجاج میں اضافہ ہوتا ہے۔

طویل مدتی اثرات میں، یہ واقعات اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ اسٹیٹس کو کی بار بار خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں پر عدم اعتماد پیدا کرتی ہے، جس سے امن مذاکرات کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہ علاقائی استحکام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے، کیونکہ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ پورے مسلم دنیا کے لیے ایک حساس ترین معاملہ ہے۔

انسانی سطح پر، بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کو روزمرہ کی زندگی میں سیکیورٹی پابندیوں اور تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی نفسیاتی اور سماجی بہبود پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ مستقبل کا تجزیہ

اسرائیلی وزیر بن گویر کے اس اقدام کے بعد، آئندہ دنوں میں بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ فلسطینی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جا سکتا ہے، جس سے مزید جھڑپوں کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی سطح پر، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کی جانب سے مذمتی بیانات اور سفارتی دباؤ جاری رہے گا۔ تاہم، اس دباؤ کی عملی تاثیر محدود ہو سکتی ہے، کیونکہ اسرائیلی حکومت کی موجودہ اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک مسجد اقصیٰ کے سٹیٹس کو کا احترام یقینی نہیں بنایا جاتا، اس طرح کے واقعات خطے میں عدم استحکام کا باعث بنتے رہیں گے۔

مستقبل میں، اس حساس مسئلے پر عالمی طاقتوں اور علاقائی اداکاروں کی جانب سے مزید فعال سفارت کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

اہم نکات

  • ایتمار بن گویر: اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر دیرینہ سٹیٹس کو کی خلاف ورزی کی۔
  • مسجد اقصیٰ: اسلام اور یہودیت دونوں کے لیے ایک انتہائی مقدس مقام، جو کئی دہائیوں سے ایک حساس سٹیٹس کو کے تحت ہے۔
  • تیشہ بآو: یہودی یوم سوگ، جس کے موقع پر یہ اشتعال انگیز دورہ کیا گیا، جس سے مذہبی حساسیت میں مزید اضافہ ہوا۔
  • فلسطینی ردعمل: فلسطینی اتھارٹی، حماس اور وقف بورڈ کی جانب سے شدید مذمت اور اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار۔
  • بین الاقوامی تشویش: اقوام متحدہ، عرب ممالک اور یورپی یونین کی جانب سے تحمل اور سٹیٹس کو کے احترام پر زور۔
  • علاقائی اثرات: اس اقدام سے بیت المقدس اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ کا خدشہ۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر
  • مسجد اقصیٰ
  • بیت المقدس
  • فلسطین
  • اسرائیل
  • سٹیٹس کو
  • pakistan
  • Far-right
  • Israeli
  • minister
  • Gvir
  • storms

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ میں کیا کیا؟

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے سینکڑوں اسرائیلی یہودیوں کے ہمراہ جمعرات کو بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر اس مقام کے دیرینہ سٹیٹس کو کی خلاف ورزی کی۔ یہ دورہ یہودی یوم سوگ تیشہ بآو کے موقع پر کیا گیا۔

مسجد اقصیٰ کا 'سٹیٹس کو' کیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کے کیا معنی ہیں؟

مسجد اقصیٰ کا 'سٹیٹس کو' ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کے تحت غیر مسلموں کو احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بن گویر کا داخلہ اور ان کے ساتھ یہودیوں کی موجودگی کو اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، جو مذہبی مقامات کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔

اس واقعے کے علاقائی سطح پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

اس واقعے سے بیت المقدس، مقبوضہ مغربی کنارے اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں سیاسی و مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینیوں میں غم و غصہ بڑھا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).