اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|25 جولائی، 2026|5 منٹ مطالعہ

گلگت بلتستان: سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے مواصلاتی رابطے منقطع

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلابوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) کے باعث مواصلاتی نظام چوتھے روز بھی بری طرح متاثر ہے۔ ہزاروں افراد ملک کے دیگر حصوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔...

اس مضمون سے پوچھیں

گلگت بلتستان میں سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے مواصلاتی رابطے منقطع

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلابوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) کے باعث مواصلاتی نظام چوتھے روز بھی بری طرح متاثر ہے۔ گلگت کے کئی اضلاع میں سڑکوں کا رابطہ مسلسل ہفتہ کو چوتھے دن بھی بحال نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کو اس غیر معمولی صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک نظر میں

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلابوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) کے باعث مواصلاتی نظام چوتھے روز بھی بری طرح متاثر ہے۔ گلگت کے کئی اضلاع میں سڑکوں کا رابطہ مسلسل ہفتہ کو چوتھے دن بھی بحال نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدی

  • گلگت بلتستان میں سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے مواصلاتی رابطے چوتھے روز بھی منقطع ہیں۔
  • تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور غیر معمولی بلند درجہ حرارت کو سیلاب کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
  • امدادی کارروائیاں سڑکوں کی بندش کے باعث متاثر ہو رہی ہیں، جس سے متاثرین تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
  • ڈائریکٹر جنرل گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق، بحالی کے کام جاری ہیں مگر موسمی حالات چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
  • ہزاروں افراد بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی اور غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے کئی علاقے اس وقت شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے زد میں ہیں، جہاں اچانک آنے والے سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات نے معمولات زندگی کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق، بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جا رہی ہے لیکن خراب موسم اور سڑکوں کو پہنچنے والے وسیع پیمانے پر نقصان کی وجہ سے پیشرفت سست ہے۔ یہ صورتحال خطے میں رہنے والے ہزاروں افراد کے لیے سنگین چیلنجز کھڑے کر رہی ہے۔

گلگت بلتستان میں مواصلاتی تعطل کی صورتحال

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش کا یہ سلسلہ ہفتہ کو چوتھے روز بھی جاری رہا۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ (GBDMA) کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ شاہراہیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جن میں قراقرم ہائی وے کے کئی حصے اور دیگر رابطہ سڑکیں شامل ہیں۔ ان سڑکوں کی بندش نے امدادی سامان کی ترسیل اور متاثرہ علاقوں تک رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, فوری: بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر….

مقامی انتظامیہ کے مطابق، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) کے واقعات اور فلیش فلڈز نے کئی پلوں اور سڑکوں کے بڑے حصوں کو بہا دیا ہے۔ یہ صورتحال خصوصاً بالائی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے انتہائی تشویشناک ہے، جہاں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی منقطع ہو چکی ہے۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بحالی کے کام جاری ہیں لیکن موسمی حالات اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ان کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں زندگی کے معمولات

گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں میں زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی افراد کو خوراک، پینے کے صاف پانی اور طبی امداد جیسی بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ کئی دیہاتوں کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے اور وہاں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

پاک فوج اور سول انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم سڑکوں کی بندش کے باعث ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی محدود ہو گیا ہے۔ مقامی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے مطابق، کئی علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر نقصان کے پیش نظر یہ کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔

سیلاب کی وجوہات اور موسمیاتی تبدیلی کا کردار

اس غیر معمولی سیلابی صورتحال کی بنیادی وجہ تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور غیر معمولی بلند درجہ حرارت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق، گلگت بلتستان میں گزشتہ چند برسوں سے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ برسوں میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقے اس کے براہ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • pakistan
  • Multiple
  • areas
  • remain
  • after
  • flash

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلابوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) کے باعث مواصلاتی نظام چوتھے روز بھی بری طرح متاثر ہے۔ گلگت کے کئی اضلاع میں سڑکوں کا رابطہ مسلسل ہفتہ کو چوتھے دن بھی بحال نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدی

یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).