مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے ۲ مساجد نذر آتش کر دیں: فلسطینی حکام
فلسطینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں زیر تعمیر دو مساجد کو نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز، اکتوبر ۲۰۲۳، کے بعد سے مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کی تازہ کڑی ہے۔...
اس مضمون سے پوچھیں
فلسطینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں زیر تعمیر دو مساجد کو نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز، اکتوبر ۲۰۲۳، کے بعد سے مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کی تازہ کڑی ہے، جس نے علاقے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایک نظر میں
فلسطینی حکام کے مطابق، اسرائیلی آبادکاروں نے اتوار کی شب مغربی کنارے میں دو مساجد کو نذر آتش کر دیا، جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
- مغربی کنارے میں مساجد کو کس نے نذر آتش کیا؟ فلسطینی حکام کے مطابق، اتوار کی شب اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں زیر تعمیر دو مساجد کو آگ لگائی، جن میں سے ایک قصرہ قصبے میں تھی۔
- یہ واقعہ مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کیوں کرتا ہے؟ یہ واقعہ اکتوبر ۲۰۲۳ میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات اور فلسطینیوں پر حملوں میں نمایاں اضافے کی تازہ کڑی ہے۔
- بین الاقوامی برادری کا اس واقعے پر کیا ردعمل ہے؟ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں اور ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس حملے نے نہ صرف مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی ہے بلکہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات میں اضافے کی عکاسی بھی کی ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, بالائی خیبر پختونخوا میں سیلابی ریلوں کے دوران سیاحتی پولیس کی متاثرین کو ریسکیو.
- مساجد کو آگ: اسرائیلی آبادکاروں نے اتوار کی شب مغربی کنارے میں دو مساجد نذر آتش کیں۔
- مقام: ایک مسجد نابلوس کے جنوب میں واقع قصرہ قصبے میں، دوسری قریبی علاقے میں۔
- نقصان: قصرہ کی مسجد کا داخلی حصہ اور پتھر کا کام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
- پس منظر: اکتوبر ۲۰۲۳ سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ۔
- فلسطینی ردعمل: فلسطینی حکام نے واقعے کی شدید مذمت کی اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
قصرہ قصبے کے میئر عبد العظیم وادی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نابلوس شہر کے جنوب میں واقع ان کے قصبے میں زیر تعمیر ایک مسجد کو آبادکاروں نے آگ لگائی۔ وادی کے مطابق، "آگ نے مسجد کے داخلی حصے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس کے پتھر کے کام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ آبادکاروں نے قصرہ کے مغرب میں واقع المغير گاؤں میں ایک اور مسجد کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی، تاہم مقامی افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔
واقعے کی تفصیلات اور مقامی ردعمل
فلسطینی حکام نے ان حملوں کو مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فلسطینی وزارت اوقاف نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعات مغربی کنارے میں آبادکاروں کے منظم تشدد کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا اور ان کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا ہے۔ مقامی عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آور آبادکار سخت گیر قوم پرست نعرے لگا رہے تھے اور انہوں نے حملے کے بعد فرار ہونے سے قبل تخریبی کارروائیاں بھی کیں۔
قصرہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے اتوار کی رات دیر گئے مسجد سے دھواں اٹھتے دیکھا اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں پہنچنے سے پہلے ہی مقامی افراد نے کافی حد تک آگ بجھا دی تھی، لیکن اس وقت تک مسجد کا ایک بڑا حصہ جل چکا تھا۔ اس واقعے نے علاقے میں فلسطینیوں کے درمیان شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، اور انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
مغربی کنارے میں کشیدگی کا پس منظر
مقبوضہ مغربی کنارہ، جہاں فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، طویل عرصے سے اسرائیل-فلسطین تنازع کا مرکز رہا ہے۔ یہاں تقریباً پانچ لاکھ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھے جاتے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے، مغربی کنارے میں تشدد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹوں کے مطابق، آبادکاروں کے حملوں میں تقریباً ۷۵ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں فلسطینیوں کی املاک کو نقصان پہنچانا، فصلیں جلانا، اور حتیٰ کہ جان لیوا حملے بھی شامل ہیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اکثر آبادکاروں کے حملوں میں مداخلت نہیں کرتی اور بعض اوقات تو ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ یہ صورتحال فلسطینی آبادی میں بے بسی اور عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہی ہے۔ مغربی کنارے میں آبادکاروں کا تشدد ایک منظم حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا اور اسرائیلی بستیوں کو وسعت دینا ہے۔
حالیہ تشدد کے محرکات اور قانونی حیثیت
حالیہ تشدد کے محرکات میں غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر شامل ہے۔ اسرائیلی حکومت کے بعض وزراء آبادکاروں کی سرگرمیوں کی کھلے عام حمایت کرتے ہیں، جس سے انہیں مزید شہ ملتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور ان کی توسیع چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں طویل عرصے سے اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کرتی رہی ہیں اور انہیں امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے عالمی عدالت انصاف اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ آبادکاروں کے ان اقدامات کا نوٹس لیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔ تاہم، اسرائیل ان علاقوں کو متنازع سمجھتا ہے اور اپنے آبادکاروں کے دفاع کا دعویٰ کرتا ہے، حالانکہ ان کے پرتشدد اقدامات کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی جاتی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ اور بین الاقوامی ردعمل
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں مساجد پر حملہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جو مذہبی جنگ کو بھڑکا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر سمیع حماد نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ واقعات صرف املاک کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں ہیں؛ یہ فلسطینیوں کے مذہبی اور ثقافتی ورثے پر حملہ ہیں، جس کا مقصد انہیں نفسیاتی طور پر کمزور کرنا ہے۔ " انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان آبادکاروں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنا انہیں مزید پرتشدد کارروائیوں کی ترغیب دیتا ہے۔
"
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذہبی مقامات کے تقدس کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ نے بھی اپنے بیانات میں آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔ تاہم، فلسطینیوں کا مؤقف ہے کہ ان بیانات کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔
اثرات کا جائزہ: فلسطینیوں پر اور امن عمل پر
ان حملوں کے فلسطینی کمیونٹی پر گہرے نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مساجد، جو فلسطینی معاشرے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، پر حملے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور انہیں بے حرمتی کا احساس دلاتے ہیں۔ اس سے فلسطینیوں میں عدم تحفظ، غصہ اور مایوسی بڑھتی ہے۔ غزہ میں جاری جنگ کے سائے تلے، مغربی کنارے میں آبادکاروں کا تشدد فلسطینیوں کے لیے دوہری مشکل پیدا کر رہا ہے، جہاں انہیں نہ صرف اسرائیلی فوج بلکہ آبادکاروں کے حملوں کا بھی سامنا ہے۔
امن عمل کے حوالے سے، ایسے واقعات دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ فلسطینی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل آبادکاروں کے تشدد کو نہیں روکے گا اور بین الاقوامی قوانین کا احترام نہیں کرے گا، کسی بھی بامعنی امن مذاکرات کی امید نہیں کی جا سکتی۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ حملے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دھندلا رہے ہیں اور علاقے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
متاثرین اور سماجی اثرات
مساجد پر حملے نہ صرف عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ان علاقوں کے سماجی تانے بانے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ مقامی کمیونٹیز میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے، اور لوگ اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے اور بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔
یہ واقعات فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں، ان کی نقل و حرکت کو محدود کرتے ہیں، اور ان کی معیشت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زراعت مقامی آبادی کا اہم ذریعہ معاش ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کا رجحان جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ اسرائیلی حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ ان واقعات کو روکے، لیکن موجودہ سیاسی ماحول میں اس کی فوری امید کم ہے۔ فلسطینی اتھارٹی بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گی تاکہ عالمی برادری کو اسرائیلی آبادکاروں کے اقدامات کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔
مستقبل میں، مغربی کنارے میں مزید پرتشدد جھڑپوں کا امکان ہے، خاص طور پر حساس مذہبی مقامات کے گرد۔ یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل-فلسطین تنازع کو مزید پیچیدہ بنائے گی بلکہ وسیع تر مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ممکنہ طور پر اسرائیل سے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کریں گے، تاہم ان مطالبات کا عملی اثر کتنا ہوگا یہ وقت ہی بتائے گا۔
اہم نکات
- اسرائیلی آبادکار: اتوار کی شب مغربی کنارے میں دو فلسطینی مساجد کو نذر آتش کرنے کے ذمہ دار۔
- مغربی کنارہ: مقبوضہ فلسطینی علاقہ جہاں آبادکاروں کا تشدد غزہ جنگ کے بعد بڑھا ہے۔
- فلسطینی حکام: حملوں کی شدید مذمت کی اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
- قصرہ اور المغير: نابلوس کے جنوب میں واقع قصبے جہاں مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔
- غزہ تنازع: اکتوبر ۲۰۲۳ سے جاری غزہ جنگ نے مغربی کنارے میں تشدد کو مزید بھڑکا دیا ہے۔
- بین الاقوامی قانون: مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں
- اسرائیلی آبادکار
- مساجد کو نذر آتش
- مغربی کنارہ
- فلسطین
- تشدد
- نابلوس
- غزہ
- pakistan
- Israeli
- settlers
- torch
- mosques
- West
معتبر ذرائع:
متعلقہ خبریں
- بالائی خیبر پختونخوا میں سیلابی ریلوں کے دوران سیاحتی پولیس کی متاثرین کو ریسکیو
- ایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمانی مذاکرات میں پیش رفت
- فریڈی بریزیئر پر کتے کا حملہ: شدید زخمی ہونے کے باوجود پالو کو اپنا بیٹا قرار
آرکائیو دریافت
- پاکستان میں مہنگائی کا رجحان: گھرانوں پر شدید اقتصادی دباؤ
- سی پیک فیز ٹو: پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات اور آئندہ چیلنجز
- پاکستان میں آبی تحفظ اور ڈیم پالیسی: بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی
اکثر پوچھے گئے سوالات
مغربی کنارے میں مساجد کو کس نے نذر آتش کیا؟
فلسطینی حکام کے مطابق، اتوار کی شب اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں زیر تعمیر دو مساجد کو آگ لگائی، جن میں سے ایک قصرہ قصبے میں تھی۔
یہ واقعہ مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کیوں کرتا ہے؟
یہ واقعہ اکتوبر ۲۰۲۳ میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات اور فلسطینیوں پر حملوں میں نمایاں اضافے کی تازہ کڑی ہے۔
بین الاقوامی برادری کا اس واقعے پر کیا ردعمل ہے؟
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں اور ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.
یہ خبر شیئر کریں