اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|28 جولائی، 2026|13 منٹ مطالعہ

آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں شدید سیاسی کشیدگی

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔...

اس مضمون سے پوچھیں

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں انتخابات کے ابتدائی مرحلے کے نتائج کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے، جس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو اپنی شکست تسلیم کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس تنازع نے وفاق میں موجود اتحادی حکومت کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

ایک نظر میں

آزاد کشمیر انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں دھاندلی کے الزامات پر شدید سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات کے ابتدائی مرحلے کے بعد کیا تنازع پیدا ہوا ہے؟ آزاد کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اسے شکست تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
  • مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج پر کیا ردعمل دیا ہے؟ مسلم لیگ (ن) نے میرپور ڈویژن کے ۱۳ میں سے ۹ حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی جیت کو 'شاندار' قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی شکست تسلیم کرنے کی تلقین کی ہے۔
  • پیپلز پارٹی کے الزامات اور اس کے پیچھے کیا موقف ہے؟ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے اور اسے 'چوری شدہ مینڈیٹ' قرار دیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) پر غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے اور پنجاب میں 'جعلی مینڈیٹ' پر حکومت کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔

آزاد کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد، جس میں میرپور ڈویژن کے ۱۳ میں سے ۹ حلقوں پر مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • شدید کشیدگی: آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔
  • دھاندلی کے الزامات: پیپلز پارٹی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
  • مسلم لیگ (ن) کی کامیابی: ابتدائی نتائج کے مطابق، مسلم لیگ (ن) نے میرپور ڈویژن کے ۱۳ میں سے ۹ حلقوں پر کامیابی حاصل کی۔
  • مرکزی اتحادی: وفاق میں اتحادی ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان سخت بیان بازی جاری ہے۔
  • انتخابی عمل: امن و امان کے خدشات کے پیش نظر انتخابات تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کا موقف: 'شکست تسلیم کریں'

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کی 'شاندار کامیابی' کو سراہا اور پیپلز پارٹی کو اپنی شکست تسلیم کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی کو جمہوری روح کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیے تھی، لیکن ان کے رہنماؤں کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان سے دکھ ہوا۔

مریم نواز کی پیپلز پارٹی پر تنقید

مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دھاندلی کے الزامات کے جواب میں کہا کہ 'ریاست انتخابی نتائج کا فیصلہ نہیں کرتی؛ یہ فیصلہ صرف عوام کرتے ہیں۔' انہوں نے مزید کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی تو مسلم لیگ (ن) نے اسے تسلیم کیا تھا، مبارکباد دی تھی اور حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے پیپلز پارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 'اب آپ مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں؛ جب آپ گلگت بلتستان کا الیکشن جیتے تھے، وہاں کوئی دھاندلی نہیں تھی، لیکن چونکہ آپ آزاد کشمیر کا الیکشن بری طرح ہار گئے ہیں، اب آپ دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔' انہوں نے پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی پر کام کرنے، اپنا بیانیہ بنانے اور عوام کے لیے ایک پروگرام پیش کرنے کا مشورہ دیا۔

مریم نواز کے مطابق، پیپلز پارٹی کو سندھ میں جو 'تسلسل' حاصل ہوا وہ کسی اور جماعت کو نہیں مل سکا۔ 'اس کے باوجود، آپ کے پاس سندھ سے دکھانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں تھا؛ آپ اپنی کارکردگی کے بارے میں نہیں بتا سکے اور آزاد کشمیر کے عوام کو مستقبل کا کوئی روڈ میپ نہیں دے سکے'۔ انہوں نے زور دیا کہ 'اگر آپ ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ عوام کے سامنے رو نہیں سکتے؛ آج کل عوام بہت زیادہ باخبر ہیں۔'

وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی انتخابی تقریروں کے دوران وفاقی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتی رہی، حالانکہ وہ یہ بھول گئی کہ پیپلز پارٹی گزشتہ ایک سال سے آزاد کشمیر میں اقتدار میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ 'پیپلز پارٹی کے دور میں آزاد کشمیر کے حالات بدتر ہو گئے۔ آپ صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکے، اور اب آپ دھاندلی پر رو رہے ہیں۔' انہوں نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور سڑکوں کی حالت سدھارنے کا مشورہ دیا۔

مریم نواز نے سوال کیا کہ 'آپ آزاد کشمیر کی سڑکیں کیسے بنا سکتے ہیں جب آپ کے اپنے صوبے کی سڑکیں خراب ہیں؟' انہوں نے اپنے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے کا ذکر کیا کہ 'ہم آزاد کشمیر کو پنجاب جیسا بنائیں گے؛ تاہم، سندھ پر ۱۷ سال حکومت کرنے کے بعد، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کارکردگی کے لحاظ سے آزاد کشمیر کو سندھ جیسا بنائیں گے۔' انہوں نے نشاندہی کی کہ جب آزاد کشمیر میں انتخابات ہوتے ہیں تو وہاں کوئی عبوری سیٹ اپ نہیں ہوتا۔

'اگر آپ دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں، تو آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انتخابات سے پہلے آزاد کشمیر پر کون حکومت کر رہا تھا؟ وہاں مسلم لیگ (ن) حکومت میں نہیں تھی، بلکہ پیپلز پارٹی تھی،' انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام سے آئندہ مراحل میں بھی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

احسن اقبال کے 'غیر جمہوری' ریمارکس

مریم نواز کے بیان کے فوراً بعد، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے، وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو 'ناپختہ بیانات' سے گریز کرنے کی تلقین کی، اور ان کے دھاندلی کے الزامات کو 'غیر جمہوری' قرار دیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکمرانی پر سوال اٹھایا اور اس کا موازنہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں کارکردگی سے کیا۔

احسن اقبال نے ریمارکس دیے کہ 'ہر ایک کو ایک ہی سوال کا سامنا تھا: آیا وہ آزاد کشمیر کو کھنڈرات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے ساتھ کیا، یا اسے لاہور جیسا ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں۔' انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے الزامات کو 'غیر جمہوری' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'کل شام ۶ بجے تک سب کچھ ٹھیک تھا؛ دھاندلی کے کوئی الزامات سامنے نہیں آئے، اور کچھ بھی نوٹس میں نہیں لایا گیا، لیکن نتائج آتے ہی یہ سب بدل گیا۔'

اقبال نے یاد دلایا کہ جب پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں انتخابات جیتے تھے تو وزیر اعظم شہباز شریف نے پارٹی کو مبارکباد دی تھی اور اسے حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے بلاول کے 'ناپختہ' بیانات کو 'غیر جمہوری ذہنیت کی عکاسی' قرار دیا اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ وہ دھاندلی کے الزامات لگانے کے بجائے مسلم لیگ (ن) کو اس کی فتح پر مبارکباد دیں۔

پیپلز پارٹی کا ردعمل: 'جعلی مینڈیٹ'

مریم نواز کے ٹیلی ویژن بیان کے جواب میں، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) پر 'دھاندلی زدہ انتخابات' کے ذریعے آزاد کشمیر کے عوام کا 'مینڈیٹ چوری' کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے دوران کھلے عام ہتھیار استعمال کیے گئے اور پیپلز پارٹی کا ایک کارکن شہید ہوا، جس کی مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو مذمت کرنی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے اپنے ریمارکس میں تکبر کا مظاہرہ کیا۔

شرجیل میمن کے مسلم لیگ (ن) پر جوابی الزامات

شرجیل میمن نے مسلم لیگ (ن) پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے بغیر پنجاب میں حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی آزاد کشمیر میں بھی دھاندلی کے ذریعے نشستیں جیتنا چاہتی ہے۔ شرجیل نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ ایک جعلی مینڈیٹ کی وجہ سے اپنی پوزیشن پر بیٹھی ہیں۔'

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قوم کسی پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی ووٹر بیس 'ہر انتخاب کے ساتھ بڑھتی گئی ہے۔' مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا موازنہ ایک ایسے کرایہ دار سے کرتے ہوئے جس نے خود کو زمین کا مالک سمجھ لیا ہو، شرجیل میمن نے اپنے اتحادی شراکت داروں کو یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے 'قوم کے لیے قربانیاں دی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مشکلات کے وقت ملک سے فرار ہونے کے سودے کیے ہیں۔'

دونوں جماعتوں کی انتخابی مہمات کا موازنہ کرتے ہوئے، شرجیل میمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو 'پولنگ سے صرف تین دن پہلے تک کشمیر یاد نہیں تھا۔' انہوں نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'پیپلز پارٹی ذمہ داری سے کام کر رہی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اسے امن برقرار رکھنا چاہیے، لیکن آپ کی پارٹی انتخابات جیتنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، چاہے وہ بے گناہ جانوں کی قربانی ہو یا لوگوں کا مینڈیٹ چوری کرنا ہو۔'

پس منظر اور تاریخی تناظر

آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کا انعقاد ایک حساس سیاسی عمل ہے، جو ہمیشہ پاکستان کی مرکزی سیاست پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی یہاں کے انتخابی نتائج پر دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں، خصوصاً جب وفاق میں ایک مخلوط حکومت برسر اقتدار ہو۔ اس بار بھی، مرکزی اتحادیوں کے درمیان انتخابی نتائج پر شدید اختلافات نے وفاقی سطح پر ان کے تعلقات میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔

پیپلز پارٹی گزشتہ ایک سال سے آزاد کشمیر میں حکمران جماعت تھی، اور اس دوران اس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا پنجاب میں مضبوط سیاسی بنیاد اور حکومت میں ہونا، اسے آزاد کشمیر میں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے ایک اضافی فائدہ فراہم کرتا ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس کی قبولیت کا حوالہ دینا، موجودہ تنازع کو ایک نیا رخ دیتا ہے، جہاں ماضی کے رویوں کو بطور مثال پیش کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: اتحادیوں میں بڑھتی کشیدگی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان یہ کشیدگی وفاقی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر سکتی ہے۔ اسلام آباد میں مقیم ایک سینئر سیاسی مبصر، ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق، 'یہ تنازع محض آزاد کشمیر کے انتخابات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قومی سطح پر دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو متاثر کرے گا۔ ' انہوں نے مزید کہا کہ 'اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان اس نوعیت کی کھلی بیان بازی حکومتی استحکام کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔

'

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاسی تجزیہ کار، سمیع اللہ خان نے کہا کہ 'پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات اور مسلم لیگ (ن) کا جوابی حملہ دونوں جماعتوں کی آئندہ انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔' ان کے بقول، 'دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر دباؤ ڈال کر آئندہ عام انتخابات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔' یہ صورتحال سیاسی ماحول میں مزید گرما گرمی پیدا کر سکتی ہے اور عوام میں انتخابی عمل پر شکوک و شبہات کو جنم دے سکتی ہے۔

اثرات کا جائزہ: قومی سیاست پر ممکنہ اثرات

اس سیاسی کشیدگی کے متعدد اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ وفاقی حکومت کے اندرونی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے، جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔ اس سے قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ دوم، یہ آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے، جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پہلے ہی موجود ہے۔

سوم، یہ عوام میں انتخابی نظام پر اعتماد کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔ دھاندلی کے الزامات، چاہے وہ درست ہوں یا نہ ہوں، جمہوری عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چہارم، دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی آئندہ عام انتخابات میں ان کے ممکنہ اتحاد پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے، جس سے سیاسی صف بندی میں نئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

آگے کیا ہوگا: مستقبل کا تجزیہ

آزاد کشمیر انتخابات کے بقیہ دو مراحل اور ان کے نتائج اس سیاسی کشیدگی کی شدت کا تعین کریں گے۔ اگر مسلم لیگ (ن) اپنی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو پیپلز پارٹی کے لیے اپنے دھاندلی کے الزامات کو مزید مؤثر طریقے سے پیش کرنا مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب، اگر پیپلز پارٹی آئندہ مراحل میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو اس کے الزامات کو تقویت مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، دونوں جماعتیں آئندہ دنوں میں اپنے بیانات کی شدت کو کم کر سکتی ہیں تاکہ وفاقی سطح پر اپنے اتحاد کو برقرار رکھ سکیں، یا پھر یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اگر دونوں فریق اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔ آئندہ چند ہفتے آزاد کشمیر کی سیاست اور وفاق میں اتحادیوں کے تعلقات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تنازع اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ وفاق میں سیاسی استحکام برقرار رہے۔

اہم نکات

  • پیپلز پارٹی: آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا، جسے مسلم لیگ (ن) نے مسترد کر دیا۔
  • مسلم لیگ (ن): میرپور ڈویژن کے ۱۳ میں سے ۹ حلقوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا، پیپلز پارٹی کو شکست تسلیم کرنے کا مشورہ دیا۔
  • مریم نواز: پیپلز پارٹی کی سندھ میں کارکردگی پر سوال اٹھائے اور دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
  • احسن اقبال: بلاول بھٹو کے بیانات کو 'غیر جمہوری' قرار دیا اور انہیں 'ناپختہ' قرار دیا۔
  • شرجیل میمن: مسلم لیگ (ن) پر 'جعلی مینڈیٹ' کے ذریعے حکومت کرنے اور آزاد کشمیر میں مینڈیٹ چوری کرنے کا الزام لگایا۔
  • سیاسی کشیدگی: وفاقی اتحادی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • آزاد کشمیر انتخابات
  • پیپلز پارٹی
  • مسلم لیگ ن
  • مریم نواز
  • بلاول بھٹو زرداری
  • دھاندلی کے الزامات
  • سیاسی کشیدگی
  • وفاقی حکومت
  • پاکستان
  • pakistan
  • Coalition
  • partners
  • PML-N
  • spar
  • after

بنیادی ذریعہ: none@none.com (نیوز Desk)

معتبر ذرائع:

اکثر پوچھے گئے سوالات

آزاد کشمیر انتخابات کے ابتدائی مرحلے کے بعد کیا تنازع پیدا ہوا ہے؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اسے شکست تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج پر کیا ردعمل دیا ہے؟

مسلم لیگ (ن) نے میرپور ڈویژن کے ۱۳ میں سے ۹ حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی جیت کو 'شاندار' قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی شکست تسلیم کرنے کی تلقین کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے الزامات اور اس کے پیچھے کیا موقف ہے؟

پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے اور اسے 'چوری شدہ مینڈیٹ' قرار دیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) پر غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے اور پنجاب میں 'جعلی مینڈیٹ' پر حکومت کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).