اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|29 جولائی، 2026|9 منٹ مطالعہ

پاکستان میں ۱۲۹ لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق، پاکستان میں اس وقت ۱۲۹ لاکھ افراد اس جان لیوا مرض کا شکار ہیں۔...

اس مضمون سے پوچھیں

پاکستان میں ۱۲۹ لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق، پاکستان میں اس وقت ۱.۲۹ کروڑ (ایک کروڑ انتیس لاکھ) افراد اس جان لیوا مرض کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ۲۰۳۰ تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کے ہدف کی جانب سائنسی بنیادوں پر فوری اقدامات کریں۔

ایک نظر میں

عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ۱.۲۹ کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں اور ۲۰۳۰ تک اس بیماری کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

  • پاکستان میں اس وقت کتنے افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان میں اس وقت تقریباً ۱.۲۹ کروڑ (ایک کروڑ انتیس لاکھ) افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں، جو ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے۔
  • عالمی ادارہ صحت نے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے کیا ہدف مقرر کیا ہے؟ عالمی ادارہ صحت نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ۲۰۳۰ تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر مکمل طور پر ختم کرنے کے ہدف کی جانب سائنسی بنیادوں پر فوری اقدامات کریں۔
  • پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات کیا ہیں؟ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں عوامی آگاہی کی کمی، غیر محفوظ طبی طریقوں کا استعمال، خون کی غیر معیاری اسکریننگ، اور علاج تک محدود رسائی شامل ہیں۔

اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کی ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی کوششوں کے لیے اپنی حمایت کی تجدید کی ہے۔ یہ بیماری نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملکی صحت کے نظام پر بھی گہرا دباؤ ڈال رہی ہے، جس کے لیے ہنگامی اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, ہیریئٹ فلپس کا موسم گرما کا انداز: شاہی تعلقات اور عالمی فیشن رجحانات.

  • عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا۔
  • ملک بھر میں ۱.۲۹ کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں۔
  • ڈبلیو ایچ او نے ۲۰۳۰ تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کے ہدف پر زور دیا۔
  • ادارے نے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی تجدید کی اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
  • ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی اور علاج تک رسائی ناگزیر ہے۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ اور عالمی ادارہ صحت کی تشویش

پاکستان کو دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ایک تخمینہ یہ ہے کہ ملک کی آبادی کا تقریباً ۵ سے ۷ فیصد اس وائرس کا شکار ہے۔ یہ تعداد نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ صحت کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی صحت کے منصوبوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی خاموش قاتل کے طور پر جانے جاتے ہیں کیونکہ اکثر اوقات ان کی علامات برسوں تک ظاہر نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ یہ تاخیر مرض کو جگر کے شدید نقصان، سروسس اور جگر کے کینسر کی جانب لے جاتی ہے، جو بالآخر موت کا سبب بنتا ہے۔

ہیپاٹائٹس کی اقسام اور ان کے صحت پر اثرات

ہیپاٹائٹس وائرل انفیکشن کی ایک قسم ہے جو جگر کی سوزش کا باعث بنتی ہے۔ اس کی سب سے عام اقسام میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای شامل ہیں۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے، جو خون کے ذریعے، غیر محفوظ طبی آلات کے استعمال، متاثرہ سرنجوں، اور جنسی تعلقات کے ذریعے پھیلتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس سی کے تقریباً ۷۰ سے ۸۰ فیصد کیسز دائمی شکل اختیار کر جاتے ہیں، جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے معاملے میں یہ شرح ۱۰ فیصد تک ہو سکتی ہے۔ دائمی ہیپاٹائٹس جگر کو بتدریج نقصان پہنچاتا ہے، جس سے جگر کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور طویل المدتی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان پیچیدگیوں میں جگر کا ناکارہ ہونا (لیور فیلیئر) اور جگر کا سرطان (ہیپاٹو سیلولر کارسینوما) شامل ہیں، جو مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے تدارک کے چیلنجز

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے تدارک کے لیے کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ عوامی آگاہی کی کمی ہے، جس کی وجہ سے لوگ بیماری کی علامات کو نظر انداز کرتے ہیں اور بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی۔ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور غیر معیاری طبی طریقوں کا رواج بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے۔

علاج کی بلند قیمتیں اور ادویات تک محدود رسائی بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ اگرچہ حکومت نے ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم ان کی رسائی اور پائیداری کو یقینی بنانا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، خون کی غیر معیاری اسکریننگ اور غیر محفوظ انجیکشن کے استعمال کا مسئلہ بھی تشویشناک ہے۔

ماہرین کا تجزیہ اور حکومت کی حکمت عملی

عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے، ڈاکٹر پلئتھا ماہیپالا، نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "پاکستان نے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قابل ستائش کوششیں کی ہیں، لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ ہمیں سائنسی بنیادوں پر مداخلتوں کو تیز کرنا ہوگا، جس میں تشخیص، علاج اور روک تھام کی جامع حکمت عملی شامل ہے۔" ان کے بقول، عالمی ادارہ صحت پاکستان کے ساتھ مل کر ۲۰۳۰ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسلام آباد کے ایک معروف ہیپاٹولوجسٹ، ڈاکٹر فرقان احمد، نے اس مسئلے کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "ہیپاٹائٹس ایک خاموش وبا ہے جو پاکستان کے صحت کے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہمیں نہ صرف علاج بلکہ روک تھام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ اس میں حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام، خون کی اسکریننگ، اور عوام کو غیر محفوظ طبی طریقوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہمات شامل ہیں۔"

عوامی آگاہی اور روک تھام کی اہمیت

ماہرین صحت کے مطابق، ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی آگاہی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ عوام کو بیماری کی وجوہات، علامات، اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں تعلیم دینا انتہائی ضروری ہے۔ محفوظ خون کی منتقلی، ڈسپوزیبل سرنجوں کا استعمال، اور ذاتی حفظان صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

حکومت پاکستان نے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں تشخیصی مراکز کا قیام اور ادویات کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم، ان پروگراموں کی رسائی کو دور دراز علاقوں تک بڑھانا اور ان کی پائیداری کو یقینی بنانا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

صحت عامہ پر اثرات اور معاشی بوجھ

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا وسیع پھیلاؤ نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ بیماری کے علاج پر آنے والے اخراجات، مریضوں کی پیداواری صلاحیت میں کمی، اور صحت کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ ملکی ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، ہیپاٹائٹس سے متعلقہ بیماریوں پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

یہ بیماری غریب اور پسماندہ طبقے کو زیادہ متاثر کرتی ہے، جہاں علاج کی سہولیات تک رسائی مشکل اور مہنگی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور سماجی ناہمواری مزید بڑھتی ہے۔ بیماری کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں صحت عامہ کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی کے پہلو بھی شامل ہوں۔

آگے کیا ہوگا: ۲۰۳۰ کے اہداف اور مستقبل کی راہیں

عالمی ادارہ صحت اور حکومت پاکستان نے ۲۰۳۰ تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے جس میں ٹیسٹنگ، علاج اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں کو وسیع کرنا شامل ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے فنڈنگ اور تکنیکی مدد بھی اس مقصد کے لیے اہم ثابت ہو گی۔

مستقبل میں، پاکستان کو ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ میں مزید پیش رفت حاصل کرنے کے لیے سیاسی عزم، وسائل کی مؤثر تقسیم، اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی ضرورت ہوگی۔ عوامی آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنانا اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا بھی اس ہدف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

اہم نکات

  • ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ: پاکستان میں ۱.۲۹ کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں، جو ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔
  • عالمی ادارہ صحت کا ہدف: ڈبلیو ایچ او نے ۲۰۳۰ تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
  • اہم چیلنجز: عوامی آگاہی کی کمی، علاج کی بلند قیمتیں، اور طبی سہولیات تک محدود رسائی ہیپاٹائٹس کے تدارک میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
  • ماہرین کی سفارشات: بروقت تشخیص، علاج، حفاظتی ٹیکے، اور خون کی اسکریننگ کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
  • معاشی اثرات: ہیپاٹائٹس نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈال رہا ہے۔
  • مستقبل کی حکمت عملی: سیاسی عزم، وسائل کی مؤثر تقسیم، اور بین الاقوامی تعاون ۲۰۳۰ کے اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • ہیپاٹائٹس پاکستان
  • عالمی ادارہ صحت
  • صحت عامہ
  • ہیپاٹائٹس کا علاج
  • پاکستان میں صحت
  • pakistan
  • million
  • people
  • living
  • with
  • hepatitis

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں اس وقت کتنے افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان میں اس وقت تقریباً ۱.۲۹ کروڑ (ایک کروڑ انتیس لاکھ) افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں، جو ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے کیا ہدف مقرر کیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ۲۰۳۰ تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر مکمل طور پر ختم کرنے کے ہدف کی جانب سائنسی بنیادوں پر فوری اقدامات کریں۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں عوامی آگاہی کی کمی، غیر محفوظ طبی طریقوں کا استعمال، خون کی غیر معیاری اسکریننگ، اور علاج تک محدود رسائی شامل ہیں۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).