اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|30 جولائی، 2026|8 منٹ مطالعہ

ملتان میں چناب کا سیلابی ریلا، بائیس علاقے زیرِ آب، ہزاروں بے گھر

دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث پنجاب کے ضلع ملتان میں کم از کم بائیس دیہی علاقے (موزے) تین سے چار فٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں، جس سے ہزاروں مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔

اس مضمون سے پوچھیں

ملتان میں چناب کا سیلابی ریلا: بائیس علاقے زیرِ آب، ہزاروں بے گھر

دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث پنجاب کے ضلع ملتان میں کم از کم بائیس دیہی علاقے (موزے) تین سے چار فٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں، جس سے ہزاروں مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی تازہ ترین رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے، جو حکام نے ڈان نیوز کو فراہم کی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی آبادی کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ علاقے کی زرعی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

ایک نظر میں

ملتان میں دریائے چناب کا سیلابی ریلا بائیس علاقوں کو ڈبو گیا، ہزاروں بے گھر، فصلیں تباہ۔ حکام امدادی کارروائیوں میں مصروف۔

  • ملتان میں موجودہ سیلاب کی کیا وجہ ہے؟ ملتان میں موجودہ سیلاب کی وجہ دریائے چناب میں بالائی علاقوں سے آنے والا اونچے درجے کا سیلابی ریلا اور رواں مون سون سیزن کی شدید بارشیں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، اس سے بائیس دیہی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
  • سیلاب سے ملتان میں کون سے علاقے متاثر ہوئے ہیں اور اس کا کیا اثر پڑا ہے؟ ملتان کے کم از کم بائیس دیہی موزے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں پانی تین سے چار فٹ گہرا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں مکین بے گھر ہو چکے ہیں اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں، جیسے مکئی اور چاول، تباہ ہو گئی ہیں۔
  • حکومت اور متعلقہ ادارے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ۱۱۲۲ کی ٹیمیں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں اور ان کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ ان کیمپوں میں خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ محکمہ صحت نے طبی کیمپ بھی لگائے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ملتان کے پچپن فیصد سے زائد علاقے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں، اور اس وقت بائیس موزے مکمل طور پر پانی کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال مون سون کی شدید بارشوں اور بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلے کا نتیجہ ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, آزاد کشمیر: پولیس کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر ۲۶ اہلکاروں کی شہادت کا الزام.

  • بائیس موزے زیرِ آب: ملتان کے بائیس دیہی علاقے دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے متاثر۔
  • ہزاروں بے گھر: سیلاب زدہ علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
  • فصلوں کو شدید نقصان: وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں تین سے چار فٹ پانی میں ڈوب کر تباہ ہو گئیں۔
  • ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ: اس صورتحال کی تصدیق اسسٹنٹ کمشنرز کی مرتب کردہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔
  • ۵۴۵ میں سے ۱۳۸ موزے سیلاب زدہ: ضلع ملتان میں کل ۵۴۵ موزوں میں سے ۱۳۸ سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سیلاب کی موجودہ صورتحال اور انتظامی ردِ عمل

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ضلع ملتان میں کل ۵۴۵ موزے ہیں جن میں سے ۱۳۸ موزے سیلاب کے خطرے سے دوچار سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ سیلابی صورتحال میں بائیس موزے مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ حکام نے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں مکینوں کو عارضی پناہ گاہوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں امدادی کیمپوں کا قیام اور خوراک و طبی امداد کی فراہمی شامل ہے۔

دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کا نتیجہ ہے، جس کے باعث نہ صرف ملتان بلکہ دیگر قریبی اضلاع میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں، جو سیلاب کی شدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔

فصلوں کی تباہی اور معاشی اثرات

سیلابی پانی نے ملتان کے زرعی علاقوں میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ضلعی زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، مکئی، چاول، اور سبزیوں کی فصلیں جو ہزاروں ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی تھیں، اب پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ کاشتکاروں کو اس نقصان سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زرعی لاگت سے پریشان تھے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق، فصلوں کی یہ تباہی مقامی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ کاشتکاروں کے لیے فوری امدادی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ انہیں اس قدرتی آفت کے اثرات سے نکلنے میں مدد مل سکے۔

ماہرین کا تجزیہ اور ماحولیاتی تبدیلیاں

ماہرین ماحولیات کے مطابق، پاکستان میں سیلاب کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعدد عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ خان، ایک ممتاز ماحولیاتی سائنسدان، نے ایک حالیہ سیمینار میں بتایا کہ ”دریائی نظام میں سیلاب کا بڑھنا اور مون سون کے پیٹرن میں غیر معمولی تبدیلیاں پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ ہمیں نہ صرف ہنگامی اقدامات بلکہ طویل مدتی حکمت عملیوں پر بھی توجہ دینی ہوگی جس میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق زرعی طریقوں کو اپنانا شامل ہے۔

آفات سے نمٹنے کے ماہرین نے بھی نشاندہی کی ہے کہ ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning Systems) کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی رپورٹ میں اکثر ان علاقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جو ہر سال سیلاب کی زد میں آتے ہیں، لیکن ان علاقوں میں پائیدار حل ابھی تک فراہم نہیں کیے جا سکے۔

مکینوں کی منتقلی اور امدادی کارروائیاں

ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ۱۱۲۲ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ سینکڑوں خاندانوں کو عارضی کیمپوں میں پناہ دی گئی ہے جہاں انہیں خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ضلعی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تعاون کریں اور سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہیں۔

ایک مقامی رہائشی، محمد اسلم، جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، نے بتایا، ”ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پانی اتنی تیزی سے ہمارے گھروں میں داخل ہو جائے گا۔ ہمارے پاس اب کچھ نہیں بچا، صرف اللہ کا شکر ہے کہ ہم سب محفوظ ہیں۔“ ان کا یہ بیان ہزاروں دیگر متاثرین کے احساسات کی عکاسی کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ مستقبل کا تجزیہ

موجودہ صورتحال کے پیش نظر، محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں ملتان اور دیگر زیریں علاقوں میں سیلاب کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید تیز کریں اور متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے جامع منصوبے بنائیں۔

طویل مدتی نقطہ نظر سے، پاکستان کو سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لیے دریائی بندوں کی مضبوطی، ڈیموں کی تعمیر، اور جدید سیلاب انتباہی نظام میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بات زور دیا گیا ہے کہ موسمیاتی لچک (Climate Resilience) کو قومی پالیسیوں کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔

صحت اور انسانی حقوق کے چیلنجز

سیلاب کے بعد، متاثرہ علاقوں میں صحت کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہے۔ آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اور ڈینگی بخار عام ہو سکتے ہیں۔ محکمہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپ قائم کیے ہیں اور ویکسینیشن کی مہم شروع کی ہے۔ تاہم، صاف پانی اور حفظان صحت کی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بے گھر ہونے والے افراد کے حقوق پر زور دیا ہے، خاص طور پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے مناسب پناہ گاہوں اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق، سیلاب متاثرین کو بنیادی انسانی وقار کے ساتھ سلوک کیا جانا چاہیے۔

اہم نکات

  • ملتان سیلاب: ضلع ملتان کے بائیس دیہی علاقے دریائے چناب کے سیلابی پانی میں تین سے چار فٹ تک ڈوب گئے۔
  • بے گھر افراد: ہزاروں مکینوں کو محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
  • زرعی نقصان: وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں، بشمول مکئی اور چاول، تباہ ہو چکی ہیں۔
  • انتظامی ردِ عمل: ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے اور امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
  • موسمیاتی تبدیلی: ماہرین ماحولیات نے سیلاب کی شدت کو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جوڑا ہے۔
  • مستقبل کا چیلنج: مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سیلاب کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • ملتان سیلاب
  • دریائے چناب
  • پنجاب سیلاب
  • فصلوں کی تباہی
  • بے گھر افراد
  • پاکستان سیلاب
  • موسمیاتی تبدیلی
  • pakistan
  • areas
  • Punjab
  • Multan
  • district
  • partially

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

ملتان میں موجودہ سیلاب کی کیا وجہ ہے؟

ملتان میں موجودہ سیلاب کی وجہ دریائے چناب میں بالائی علاقوں سے آنے والا اونچے درجے کا سیلابی ریلا اور رواں مون سون سیزن کی شدید بارشیں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، اس سے بائیس دیہی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔

سیلاب سے ملتان میں کون سے علاقے متاثر ہوئے ہیں اور اس کا کیا اثر پڑا ہے؟

ملتان کے کم از کم بائیس دیہی موزے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں پانی تین سے چار فٹ گہرا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں مکین بے گھر ہو چکے ہیں اور وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں، جیسے مکئی اور چاول، تباہ ہو گئی ہیں۔

حکومت اور متعلقہ ادارے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ۱۱۲۲ کی ٹیمیں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں اور ان کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ ان کیمپوں میں خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ محکمہ صحت نے طبی کیمپ بھی لگائے ہیں۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).