اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|30 جولائی، 2026|13 منٹ مطالعہ

بلاول کا انتباہ: آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع کر دے گی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی وفاقی حکومت کے لیے 'الٹی گنتی' کا آغاز کر دے گی۔...

اس مضمون سے پوچھیں

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے خلاف وفاقی حکومت کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو یہ وفاقی حکومت کی "الٹی گنتی" کا آغاز ہو گا۔ یہ بیان مظفرآباد میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران سامنے آیا جہاں انہوں نے آئندہ انتخابات میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔

ایک نظر میں

بلاول نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں وفاقی حکومت کی 'الٹی گنتی' شروع ہونے کا انتباہ دیا ہے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات میں پیپلز پارٹی کا موقف کیا ہے؟ پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی تو وفاقی حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز کا آغاز ہو جائے گا۔ پارٹی نے میرپور ڈویژن میں اپنی نمایاں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور انتخابی کمیشن سے شکایات پر عوامی سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
  • بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو کیا پیغام دیا؟ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کو بائیکاٹ کی سیاست ترک کر کے انتخابی عمل میں سرگرم حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سنجیدہ سیاست دانوں کو پیشکش کی کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پارلیمانی اصلاحات اور شفاف انتخابات کے ایجنڈے پر کام کریں۔
  • آزاد کشمیر کے لیے بلاول بھٹو زرداری کا کیا وژن ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کو ایک مضبوط اور آزاد خطہ بنانے کا وژن پیش کیا ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کو اپنے وسائل، فیصلوں اور مستقبل پر خودمختاری دینے، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے، اور پاکستان کے اہم اداروں جیسے قومی مالیاتی کمیشن اور مشترکہ مفادات کونسل میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے، جس سے ملک کی سیاسی صورتحال میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ انتباہ خطے میں شفاف انتخابی عمل اور جمہوری استحکام کو یقینی بنانے کے مطالبات کو اجاگر کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے دھاندلی کی صورت میں وفاقی حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

  • بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں وفاقی حکومت کی "الٹی گنتی" شروع ہونے کا انتباہ دیا ہے۔
  • آزاد کشمیر میں تین مراحل میں انتخابات جاری ہیں، پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔
  • بلاول نے پی ٹی آئی کو بائیکاٹ کی سیاست ترک کر کے انتخابی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی اور پارلیمانی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
  • پیپلز پارٹی نے میرپور میں ۹۰ سے ۱۰۰ فیصد ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور انتخابی کمیشن کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔
  • بلاول نے آزاد کشمیر کے لیے خودمختاری، وسائل پر ملکیت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

پس منظر اور موجودہ صورتحال

آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پیر کو میرپور ڈویژن میں پولنگ کا عمل مکمل ہوا، جو جھڑپوں، پرتشدد واقعات اور دھاندلی کے الزامات کی زد میں رہا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ایک دوسرے پر انتخابی بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا۔ اس صورتحال نے آئندہ مراحل کے لیے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماضی میں بھی آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستانی وفاق میں حکمران جماعتوں کے لیے اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ انتخابات نہ صرف خطے کی سیاسی قیادت کا تعین کرتے ہیں بلکہ وفاقی حکومت کے لیے بھی عوامی حمایت کا ایک پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک تلخ حصہ رہے ہیں، جس سے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

بلاول کا انتباہ اور سیاسی حکمت عملی

مظفرآباد میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو براہ راست مخاطب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) یہ سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان میں شکست کے بعد آزاد کشمیر میں شکست اس کی وفاقی حکومت کے لیے 'الٹی گنتی' کا باعث بنے گی۔ تاہم، بلاول نے اس خیال کو 'غلط فہمی' قرار دیا۔

انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا، "اگر آپ نے (الیکشن میں) دھاندلی کی... یہ لکھ لیں، میری ضمانت ہے، آپ کی وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔" بلاول نے مزید کہا، "اگر آپ میرا مینڈیٹ چوری کریں گے، تو میں آپ کے تخت کے پیچھے آؤں گا۔" یہ بیان پیپلز پارٹی کے انتخابی عزم اور دھاندلی کے خلاف مزاحمت کے واضح اشارے دیتا ہے۔

پی ٹی آئی کو پیشکش

بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بھی ایک پیغام دیا، جو مبینہ دھاندلی کے خدشات پر آزاد کشمیر انتخابات کا بائیکاٹ کر چکی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو "سیاست کرنا شروع کرنے" اور "بائیکاٹ کی سیاست" کو ترک کرنے کی ترغیب دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "انتخابات کا بائیکاٹ، پارلیمنٹ کا بائیکاٹ، کمیٹیوں کا بائیکاٹ، اپنے کام کا بائیکاٹ، جدوجہد کا بائیکاٹ — اگر آپ بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں، تو گھر بیٹھ جائیں۔"

انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں حصہ لے اور ایک سیاسی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ بلاول نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سنجیدہ سیاست دانوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، "ہر سیاسی جماعت جو دھاندلی سے تنگ آ چکی ہے، ہر سیاسی کارکن جو اپنا فیصلہ خود کرنا چاہتا ہے، وہ آ کر میرے ساتھ ہاتھ ملائے۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ مل کر وہ پارلیمانی اصلاحات لا سکتے ہیں اور کشمیر اور پورے پاکستان میں شفاف انتخابات کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات

بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی دھاندلی کو روکنے کا ایک ہی راستہ بتایا: اتنی بڑی تعداد میں پولنگ میں حصہ لینا کہ جعلی ووٹوں کا "انجکشن" غیر مؤثر ہو جائے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ۲ اگست کو ہونے والے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بڑی تعداد میں باہر نکلیں۔ یہ حکمت عملی انتخابی نتائج کو عوامی شرکت کے ذریعے محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں مسلم لیگ (ن) کے کشمیر کو بسیں فراہم کرنے کے وعدے کا خیرمقدم کیا، لیکن ساتھ ہی طنزاً کہا، "اگر آپ لاہور میں جو کچھ کر چکے ہیں، اس کا تماشا لے کر مظفرآباد آئیں گے، تو لوگ پوچھیں گے: آپ نے مظفرآباد میں کیا کیا ہے؟" انہوں نے آزاد کشمیر میں سی ایم ایچ فلائی اوور منصوبے کا حوالہ دیا جو پانچ سال میں مکمل نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، پیپلز پارٹی نے کشمیر میں تمام تین میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کی تعمیر کا کریڈٹ لیا۔

انتخابی کمیشن پر سوالات

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی پارٹی نے میرپور میں ۹۰ سے ۱۰۰ فیصد ووٹ جیتنے کے ثبوت آزاد کشمیر انتخابی کمیشن میں جمع کرائے تھے، لیکن اس کے بجائے ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے انتخابی کمشنر سے پوچھا، "کیا آپ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی کمشنر ہیں، یا آزاد کشمیر کی ریاست کے؟" انہوں نے مزید کہا کہ ایک نوٹیفکیشن چوری کو چھپا نہیں سکتا اور نہ ہی انصاف کو روک سکتا ہے۔

بلاول نے مطالبہ کیا کہ ۲ اگست سے قبل انتخابات کے پہلے مرحلے سے متعلق شکایات کی عوامی سماعت کی جائے، اور پولنگ اسٹیشن کے نتائج اور بیلٹ کی گنتی عوام کے سامنے لائی جائے۔ انہوں نے زور دیا، "اگر یہ چوری نہیں ہے، تو آپ کیا چھپا رہے ہیں؟" انہوں نے کمیشن سے اپنی ساکھ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ الزامات آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھاتے ہیں اور ممکنہ طور پر انتخابی نتائج کو متنازعہ بنا سکتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے مستقبل کے لیے پیپلز پارٹی کا وژن

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ "کشمیر کو پنجاب یا سندھ نہیں بنانا چاہتے۔" ان کی خواہش ہے کہ "کشمیر کو ایک مضبوط کشمیر" بنایا جائے اور اسے "آزاد" دیکھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ منتخب حکومت کا پہلا کام آزاد کشمیر کے لوگوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کرنا ہو گا، جس میں سڑکیں کھولنا، ضروری اشیاء کی فراہمی اور انٹرنیٹ و بینکنگ خدمات کی بحالی شامل ہے۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پیپلز پارٹی خطے میں "تیز، جدید" انٹرنیٹ لانا چاہتی ہے تاکہ اسے دنیا سے منسلک رکھا جا سکے۔ اپنی پوری تقریر میں، انہوں نے کشمیر کے اپنے مستقبل، ووٹوں اور وسائل کے بارے میں فیصلے کرنے کے حق کے ساتھ ساتھ اس کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے عزم پر زور دیا۔

وسائل اور نمائندگی کا مطالبہ

انہوں نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو "خودمختاری، ملکیت اور روزگار" فراہم کرنے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا۔ بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ان اداروں میں جہاں کشمیر کے "پانی، بجلی، معیشت، بجٹ اور مستقبل" کے بارے میں فیصلے کیے جاتے ہیں، وہاں کشمیر کی جائز نمائندگی اور اپنی آواز ہونی چاہیے۔

بلاول نے کہا، "انتخابی فیصلے گولیوں سے نہیں بلکہ بیلٹ سے ہونے چاہئیں۔ انتخابات کے دوران ووٹوں کی گنتی ہونی چاہیے، لاشوں کی نہیں۔" انہوں نے یاد دلایا کہ بے نظیر بھٹو نے کشمیریوں کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں مبصر کا درجہ دیا تھا، اور انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کشمیریوں کو مبصر کا درجہ دلانے کا بھی عہد کیا۔

بلاول نے پناہ گزینوں کو بھی اسی خودمختاری اور ملکیت فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، انہیں "ہمارے وجود، ہماری تاریخ اور ہماری تحریک کا حصہ" قرار دیا۔ انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی میں ان کی جائز متناسب نمائندگی کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری شہری خطے کے قدرتی وسائل کے "حقیقی مالک" ہیں، اور ان کے دریاؤں اور ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے وسائل کے استعمال کے لیے خطے کو ایک منصفانہ مالی حصہ ملنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں منصوبوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ملازمتوں پر پہلا حق اس کے اپنے نوجوانوں کا ہونا چاہیے۔

ماہرین کا تجزیہ

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق، "آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات ایک معمول بن چکے ہیں، لیکن بلاول کا یہ سخت انتباہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنی سیاسی موجودگی کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے اور ساتھ ہی حکمران جماعت کو ایک پیغام بھی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بیانات انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

معروف قانون دان اور آئینی ماہر، جسٹس (ر) نذیر احمد شیخ نے کہا، "انتخابی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت کو ہر قیمت پر یقینی بنائے۔ اگر شکایات کی عوامی سماعت نہیں کی جاتی اور نتائج کو مشکوک سمجھا جاتا ہے، تو یہ جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔" ان کے مطابق، انتخابی کمیشن کو فوری طور پر تمام الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرنی چاہیے۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر، پروفیسر ڈاکٹر سمیع اللہ خان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "آزاد کشمیر کے انتخابات پر پاکستان کے اندرونی سیاسی اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ بلاول کا یہ بیان نہ صرف اندرونی سیاست پر اثر انداز ہو گا بلکہ عالمی سطح پر بھی کشمیر کے تنازعے کے حوالے سے پاکستان کی جمہوری ساکھ پر سوالات اٹھا سکتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت عالمی برادری کے لیے بھی ایک اہم عنصر ہے۔

اثرات کا جائزہ

بلاول بھٹو زرداری کے اس انتباہ کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے انتخابی عمل میں غیر جانبداری کو یقینی بنائے۔ اگر دھاندلی کے الزامات ثابت ہوتے ہیں، تو یہ وفاقی حکومت کی قانونی حیثیت اور عوامی حمایت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

دوم، یہ پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ دھاندلی کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ پیش کرے۔ یہ دیگر اپوزیشن جماعتوں، بشمول پی ٹی آئی، کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکتا ہے تاکہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ سوم، آزاد کشمیر کے لوگوں کے لیے، شفاف انتخابات ان کے حقوق اور خود مختاری کے مطالبات کو تقویت دیں گے، جبکہ دھاندلی ان کے احساس محرومی میں اضافہ کر سکتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آزاد کشمیر میں ۲ اگست کو ہونے والے انتخابات کا دوسرا مرحلہ انتہائی اہم ہو گا۔ انتخابی کمیشن پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے کی شکایات پر فوری اور شفاف کارروائی کرے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر انتخابی نتائج پر شدید اختلافات سامنے آتے ہیں اور پیپلز پارٹی اپنے انتباہ پر عمل کرتی ہے، تو وفاقی حکومت کو ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کے وسیع تر سیاسی منظر نامے پر بھی اثر انداز ہو گی، جہاں اگلے عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج وفاقی سطح پر سیاسی اتحادوں اور حکمت عملیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے پی ٹی آئی کو دی گئی پیشکش بھی مستقبل کی سیاسی صف بندیوں میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے، جس سے ملک میں ایک نئی سیاسی تحریک کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اہم نکات

  • بلاول بھٹو زرداری کا انتباہ: پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں وفاقی حکومت کے لیے "الٹی گنتی" شروع ہونے کی دھمکی دی ہے۔
  • آزاد کشمیر انتخابات: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تین مراحل میں منعقد ہو رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پرتشدد واقعات اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔
  • پی ٹی آئی کو دعوت: بلاول نے پاکستان تحریک انصاف کو بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر انتخابی عمل میں حصہ لینے اور پارلیمانی اصلاحات کے لیے تعاون کرنے کی پیشکش کی۔
  • انتخابی کمیشن پر سوالات: پیپلز پارٹی نے میرپور ڈویژن میں اپنی کامیابی کے دعوؤں کے باوجود نوٹیفکیشن جاری ہونے پر انتخابی کمیشن کی غیر جانبداری پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔
  • آزاد کشمیر کا وژن: بلاول نے خطے کے لیے خودمختاری، وسائل پر ملکیت، نوجوانوں کے لیے روزگار، سڑکوں کی بحالی، انٹرنیٹ کی فراہمی اور اہم اداروں میں نمائندگی کا وعدہ کیا۔
  • سیاسی اثرات: یہ انتباہ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور وفاقی حکومت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خصوصاً اگر انتخابی نتائج پر شدید اختلافات سامنے آتے ہیں۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • بلاول بھٹو زرداری
  • آزاد کشمیر انتخابات
  • وفاقی حکومت
  • دھاندلی
  • پیپلز پارٹی
  • پی ٹی آئی
  • انتخابی کمیشن
  • سیاسی بحران
  • pakistan

بنیادی ذریعہ: none@none.com (نیوز Desk)

معتبر ذرائع:

اکثر پوچھے گئے سوالات

آزاد کشمیر انتخابات میں پیپلز پارٹی کا موقف کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی تو وفاقی حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز کا آغاز ہو جائے گا۔ پارٹی نے میرپور ڈویژن میں اپنی نمایاں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور انتخابی کمیشن سے شکایات پر عوامی سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو کیا پیغام دیا؟

بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کو بائیکاٹ کی سیاست ترک کر کے انتخابی عمل میں سرگرم حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سنجیدہ سیاست دانوں کو پیشکش کی کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پارلیمانی اصلاحات اور شفاف انتخابات کے ایجنڈے پر کام کریں۔

آزاد کشمیر کے لیے بلاول بھٹو زرداری کا کیا وژن ہے؟

بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کو ایک مضبوط اور آزاد خطہ بنانے کا وژن پیش کیا ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کو اپنے وسائل، فیصلوں اور مستقبل پر خودمختاری دینے، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے، اور پاکستان کے اہم اداروں جیسے قومی مالیاتی کمیشن اور مشترکہ مفادات کونسل میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).