اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|31 جولائی، 2026|9 منٹ مطالعہ

کراچی: گینگسٹر عزیر بلوچ کا بھائی لیاری میں گولی لگنے سے شدید زخمی

کراچی کے لیاری علاقے میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کے بھائی زبیر بلوچ کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ اس حملے میں دو راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔...

اس مضمون سے پوچھیں

عزیر بلوچ کے بھائی زبیر بلوچ لیاری میں قاتلانہ حملے کا نشانہ

کراچی کے گنجان آباد علاقے لیاری میں ایک اہم پیشرفت کے تحت، کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے قید سربراہ عزیر بلوچ کے بھائی زبیر بلوچ کو جمعرات کی شام گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ پولیس حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، جس میں دو راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ لیاری میں امن و امان کی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

ایک نظر میں

لیاری میں گینگسٹر عزیر بلوچ کے بھائی زبیر بلوچ کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا، جس سے علاقے میں امن و امان پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

  • زبیر بلوچ پر حملہ کہاں اور کب ہوا؟ زبیر بلوچ پر حملہ کراچی کے علاقے لیاری میں مرکزی چاکیواڑہ روڈ پر جمعرات کی شام کو ہوا، جس میں وہ گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔
  • زبیر بلوچ کا پس منظر کیا ہے اور ان پر کتنے مقدمات درج ہیں؟ زبیر بلوچ کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے قید سربراہ عزیر بلوچ کے بھائی ہیں، اور ان کے خلاف سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں جن کی تصدیق پولیس حکام نے کی ہے۔
  • اس واقعے کے لیاری میں امن و امان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حملہ لیاری میں گینگ وار کے دوبارہ سر اٹھانے اور علاقے میں امن کی صورتحال کو خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

چاکیواڑہ پولیس کے مطابق، ۴۰ سالہ زبیر بلوچ کو مرکزی چاکیواڑہ روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔ انہیں فوری طور پر سول ہسپتال کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جنوبی کراچی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید اسد رضا نے بتایا ہے کہ زبیر بلوچ کے خلاف سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, اوپو اے سیون پرو میکس: پاکستانی اور خلیجی منڈی میں نئے سمارٹ فون کی آمد کے….

  • حملہ: عزیر بلوچ کے بھائی زبیر بلوچ کو لیاری میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔
  • زخمی: زبیر بلوچ کے علاوہ دو راہگیر بھی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔
  • مقام: واقعہ کراچی کے علاقے لیاری میں مرکزی چاکیواڑہ روڈ پر پیش آیا۔
  • پولیس کارروائی: چاکیواڑہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
  • پس منظر: زبیر بلوچ کے خلاف سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں، جس کی تصدیق ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے کی ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور پولیس کا مؤقف

چاکیواڑہ پولیس اسٹیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مسلح افراد نے زبیر بلوچ پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ چاکیواڑہ روڈ سے گزر رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں زبیر بلوچ کو متعدد گولیاں لگیں اور وہ زمین پر گر گئے۔ فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو طلب کیا گیا جنہوں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

سول ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ زبیر بلوچ کی حالت نازک ہے اور ڈاکٹرز انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تمام پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں ذاتی دشمنی اور گینگ وار کا دوبارہ سر اٹھانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

زبیر بلوچ کا پس منظر اور کالعدم تنظیم سے تعلق

زبیر بلوچ کا تعلق لیاری کے اس خاندان سے ہے جو ایک طویل عرصے سے علاقے کی سیاست اور گینگ وار میں نمایاں رہا ہے۔ ان کے بھائی عزیر بلوچ کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ تھے، جنہیں لیاری میں جاری گینگ وار کا مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔ عزیر بلوچ پر قتل، بھتہ خوری، اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد الزامات ہیں اور وہ اس وقت قید میں ہیں۔

پیپلز امن کمیٹی ۱۹۹۰ کی دہائی میں لیاری میں فعال ہوئی اور آہستہ آہستہ علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر علاقے کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ تھا، لیکن بعد میں یہ بھتہ خوری، منشیات فروشی، اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ہو گئی۔ زبیر بلوچ پر بھی اس نوعیت کے سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں، جو ان کے خاندان کے کریمنل پس منظر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

لیاری میں گینگ وار کا تاریخی سیاق و سباق

لیاری کراچی کا ایک قدیم اور تاریخی علاقہ ہے جو اپنی ثقافتی اہمیت کے ساتھ ساتھ گینگ وار اور جرائم کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ ۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں، لیاری میں مختلف گینگ گروہوں کے درمیان شدید تصادم ہوئے جن میں بالخصوص عزیر بلوچ اور ارشد پپو کے گروہ نمایاں تھے۔ ان تصادمات کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

۲۰۱۳ میں، سندھ رینجرز اور پولیس نے کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا، جس کا ایک بڑا حصہ لیاری کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنا تھا۔ اس آپریشن کے دوران کئی اہم گینگ لیڈرز کو گرفتار کیا گیا یا ہلاک کر دیا گیا، جن میں عزیر بلوچ کی گرفتاری بھی شامل تھی۔ اس آپریشن کے بعد لیاری میں نسبتاً امن بحال ہوا تھا، تاہم حالیہ واقعہ ایک بار پھر علاقے کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: لیاری میں امن کی صورتحال اور ممکنہ اثرات

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، زبیر بلوچ پر ہونے والا حملہ لیاری میں گینگ وار کے دوبارہ سر اٹھانے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ نامور سیکیورٹی تجزیہ کار، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے پاکستان میں جاری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ حملہ ایک بار پھر لیاری کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لیاری میں زیر زمین کام کرنے والے گروہ اب بھی موجود ہیں اور موقع ملتے ہی دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

" انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے اور فوری طور پر ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات علاقے میں رہنے والے عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کے پروفیسر ڈاکٹر عارف حسن نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "لیاری کے لوگوں نے بہت مشکلات کے بعد کچھ حد تک امن دیکھا ہے۔ اس قسم کے حملے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور انہیں دوبارہ ماضی کے تاریک دور کی یاد دلاتے ہیں۔

حکومت کو لیاری میں امن کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو صرف آپریشنز تک محدود نہ ہو۔ "

اثرات کا جائزہ: مقامی آبادی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے

زبیر بلوچ پر حملے کے فوری اثرات لیاری کی مقامی آبادی پر مرتب ہوئے ہیں۔ علاقے میں خوف کی فضا ہے اور لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں محتاط نظر آ رہے ہیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز معمول سے جلد بند ہو گئے جبکہ سڑکوں پر آمد و رفت کم ہو گئی۔ اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لیاری میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود، کچھ عناصر اب بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیس اور رینجرز کو اس واقعے کے بعد اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ انہیں نہ صرف حملہ آوروں کی تلاش کرنی ہے بلکہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی یا گینگ وار کے دوبارہ ابھرنے کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور اسے مزید سخت کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

آگے کیا ہوگا: تحقیقات اور ممکنہ جوابی اقدامات

پولیس حکام نے زبیر بلوچ پر حملے کے بعد لیاری میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور مشتبہ افراد کی تلاشی کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، پولیس اس حملے کو گینگ وار کے پرانے تنازعات کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہی ہے، جہاں مختلف گروہوں کے درمیان بدلے کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات ضروری ہیں تاکہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اگر اس حملے کے پیچھے گینگ وار کے عناصر ملوث پائے جاتے ہیں تو یہ لیاری میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لیاری میں امن کی پائیداری کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔

اہم نکات

  • زبیر بلوچ: کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کے بھائی، جو کراچی کے علاقے لیاری میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔
  • مجرمانہ ریکارڈ: زبیر بلوچ کے خلاف سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں، جو ان کے پس منظر کو نمایاں کرتے ہیں۔
  • لیاری گینگ وار: یہ واقعہ لیاری میں گینگ وار کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات کو جنم دیتا ہے، جہاں ماضی میں خونریز تصادم ہوتے رہے ہیں۔
  • پولیس تحقیقات: چاکیواڑہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
  • علاقائی اثرات: حملے کے بعد لیاری میں خوف و ہراس کی فضا ہے اور مقامی آبادی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
  • ماہرین کا انتباہ: سیکیورٹی اور سماجی ماہرین نے لیاری میں امن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • زبیر بلوچ
  • لیاری فائرنگ
  • عزیر بلوچ بھائی
  • کراچی گینگ وار
  • پیپلز امن کمیٹی
  • pakistan
  • police

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

زبیر بلوچ پر حملہ کہاں اور کب ہوا؟

زبیر بلوچ پر حملہ کراچی کے علاقے لیاری میں مرکزی چاکیواڑہ روڈ پر جمعرات کی شام کو ہوا، جس میں وہ گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔

زبیر بلوچ کا پس منظر کیا ہے اور ان پر کتنے مقدمات درج ہیں؟

زبیر بلوچ کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے قید سربراہ عزیر بلوچ کے بھائی ہیں، اور ان کے خلاف سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں جن کی تصدیق پولیس حکام نے کی ہے۔

اس واقعے کے لیاری میں امن و امان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حملہ لیاری میں گینگ وار کے دوبارہ سر اٹھانے اور علاقے میں امن کی صورتحال کو خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).