کراچی میں خسرہ اور ڈپتھیریا سے ۱۴۴ بچوں کی ہلاکت، ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر
کراچی کے چار بڑے سرکاری ہسپتالوں میں رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران خسرہ اور ڈپتھیریا کے باعث ۱۴۴ بچوں کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے، جو ویکسین کے ذریعے قابل علاج بیماریوں سے بچاؤ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صحت کے نظام اور والدین کی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔...
اس مضمون سے پوچھیں
کراچی میں خسرہ اور ڈپتھیریا سے بڑھتی اموات: ایک سنگین چیلنج
کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رواں سال کے پہلے سات ماہ (جنوری تا جولائی) کے دوران خسرہ اور ڈپتھیریا جیسی ویکسین کے ذریعے قابل علاج بیماریوں نے کم از کم ۱۴۴ بچوں کی جان لے لی ہے۔ یہ تشویشناک اعداد و شمار شہر کے چار بڑے طبی مراکز سے سامنے آئے ہیں اور صحت عامہ کے حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بروقت حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
ایک نظر میں
کراچی میں رواں سال خسرہ اور ڈپتھیریا سے ۱۴۴ بچوں کی ہلاکت، والدین کی لاپرواہی اور صحت کے نظام کی خامیوں کو اجاگر کرتی ہے۔
- کراچی میں رواں سال کتنے بچے خسرہ اور ڈپتھیریا سے ہلاک ہوئے ہیں؟ کراچی کے چار بڑے ہسپتالوں میں رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران خسرہ اور ڈپتھیریا کے باعث کل ۱۴۴ بچوں کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے ۱۲۵ اموات خسرہ کی وجہ سے اور باقی ۱۹ ڈپتھیریا سے ہوئیں۔
- بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ کیا بتائی گئی ہے؟ ماہرین صحت نے ان اموات کی بنیادی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو خسرہ اور ڈپتھیریا کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی تجویز کردہ خوراکیں بروقت نہ دلوانے کو قرار دیا ہے۔ یہ ویکسین سے قابل علاج بیماریاں ہیں۔
- حکومت اس صورتحال پر کیا اقدامات کر رہی ہے؟ حکومت سندھ نے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں صحت کارکنوں کی تربیت اور ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ تاہم، ماہرین مزید جامع حکمت عملی اور عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
محکمہ صحت سندھ کے ذرائع اور ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، ان اموات میں سے ۱۲۵ خسرہ کے باعث اور بقیہ ۱۹ ڈپتھیریا کی وجہ سے رپورٹ ہوئیں۔ ماہرین صحت نے والدین کی جانب سے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی تجویز کردہ خوراکیں بروقت نہ دلوانے کو ان اموات کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, پاکستان نے علاقائی مشاورت کے لیے ایرانی وفد کو مدعو کر لیا.
- رواں سال کراچی کے چار بڑے ہسپتالوں میں خسرہ اور ڈپتھیریا سے ۱۴۴ بچوں کی اموات۔
- خسرہ سے ۱۲۵ اور ڈپتھیریا سے ۱۹ اموات کی تصدیق۔
- ماہرین صحت نے والدین کی جانب سے حفاظتی ٹیکوں کی بروقت عدم دستیابی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
- توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکوں (EPI) نے رواں سال کیسز میں کمی کا دعویٰ کیا۔
- یہ اموات ویکسین سے قابل علاج بیماریوں کے خلاف جاری قومی مہم کی افادیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔
بڑھتی اموات اور صحت عامہ کا بحران
کراچی میں بچوں کی اموات کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی قومی مہمات جاری ہیں۔ طبی حلقوں کے مطابق، جنوری سے جولائی تک کی مدت میں خسرہ کے کل ۱۹۱۵ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ۱۲۵ بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف پریشان کن ہیں بلکہ صحت کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی آگاہی مہمات کی خامیوں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے رہنما اصولوں کے مطابق، خسرہ اور ڈپتھیریا جیسی بیماریاں مکمل طور پر قابل بچاؤ ہیں۔ پاکستان میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکوں (EPI) کا مقصد تمام بچوں کو ان مہلک بیماریوں سے بچانا ہے، تاہم ان اموات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پروگرام کی رسائی اور عمل درآمد میں اب بھی بڑے خلا موجود ہیں۔ یہ صورتحال فوری اور مؤثر حکومتی مداخلت کا تقاضا کرتی ہے۔
ماہرین کی آراء اور حفاظتی ٹیکوں کا کردار
ڈاکٹر فیصل محمود، جو ایک معروف ماہر امراض اطفال ہیں، نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی تجویز کردہ خوراکیں بروقت نہیں دلواتے۔ یہ محض لاپرواہی نہیں بلکہ معلومات کی کمی اور بعض اوقات غلط فہمیوں کا نتیجہ بھی ہے۔" انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی صحت کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے والدین اور صحت کے نظام دونوں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسی طرح، ڈاکٹر سارہ خان، جو پبلک ہیلتھ کی ماہر ہیں، نے بتایا کہ "حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں رسائی کے مسائل، ویکسین سے متعلق غلط معلومات کا پھیلاؤ، اور صحت کے مراکز پر عدم اعتماد شامل ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ان تمام عوامل پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ مستقبل میں ایسی اموات کو روکا جا سکے۔
والدین کی ذمہ داریاں اور آگاہی مہمات
ماہرین کے مطابق، بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف (UNICEF) کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بچوں کو پیدائش کے بعد مقررہ اوقات پر تمام ضروری حفاظتی ٹیکے لگوانا لازمی ہے۔ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بچے نہ صرف خود بیماری کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
صحت عامہ کے حکام کو چاہیے کہ وہ والدین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے موثر مہمات چلائیں۔ ان مہمات میں نہ صرف ویکسین کے فوائد اجاگر کیے جائیں بلکہ غلط معلومات کی بھی تردید کی جائے۔ اس کے علاوہ، موبائل ویکسینیشن یونٹس اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے دور دراز علاقوں تک رسائی کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
حکومتی اقدامات اور مستقبل کا لائحہ عمل
ایک ای پی آئی (EPI) اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال خسرہ اور ڈپتھیریا کے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، اموات کی تعداد اس دعوے کی نفی کرتی نظر آتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کیسز میں کمی کے باوجود شدت زیادہ ہے یا رپورٹنگ کا نظام مکمل طور پر فعال نہیں۔ حکومت سندھ نے حال ہی میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں صحت کارکنوں کی تربیت اور ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
مستقبل میں ایسی اموات کو روکنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے۔ اس میں صحت عامہ کے بجٹ میں اضافہ، صحت کے مراکز کی کارکردگی کو بہتر بنانا، اور کمیونٹی کی سطح پر صحت کے کارکنوں کو متحرک کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی عوامی آگاہی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
عالمی تناظر اور وبائی امراض پر قابو
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ویکسین کے ذریعے قابل علاج بیماریوں کا بوجھ اب بھی نمایاں ہے۔ عالمی سطح پر، خسرہ اور ڈپتھیریا کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، اور کئی ممالک نے ان بیماریوں پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے سیکھتے ہوئے اپنی قومی حکمت عملیوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ بچوں کو ان مہلک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اگر عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کی کوریج ۹۵ فیصد تک پہنچ جائے تو خسرہ جیسی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ پاکستان کو اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، خاص طور پر شہروں کی گنجان آبادیوں اور دیہی علاقوں میں جہاں رسائی کے مسائل زیادہ ہیں۔
اہم نکات
- بچوں کی اموات: کراچی میں خسرہ اور ڈپتھیریا سے ۱۴۴ بچوں کی ہلاکت، جو کہ ویکسین سے قابل علاج بیماریوں سے بچاؤ کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
- ویکسینیشن کی اہمیت: ماہرین نے بروقت اور مکمل حفاظتی ٹیکوں کو ان اموات کو روکنے کا واحد مؤثر ذریعہ قرار دیا ہے۔
- والدین کا کردار: زیادہ تر والدین کی جانب سے بچوں کو تجویز کردہ ویکسین کی خوراکیں بروقت نہ دلوانا ایک اہم چیلنج ہے۔
- ای پی آئی کا دعویٰ: توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکوں (EPI) کے ایک اہلکار نے رواں سال کیسز میں کمی کا دعویٰ کیا، تاہم اموات کی تعداد اس دعوے کے برعکس ہے۔
- صحت عامہ کا نظام: یہ صورتحال صحت عامہ کے نظام کی خامیوں، آگاہی کی کمی، اور رسائی کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
- حکومتی اقدامات: حکومت کو ویکسینیشن کوریج بڑھانے، آگاہی مہمات چلانے، اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔
اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں
- کراچی
- خسرہ
- ڈپتھیریا
- بچوں کی اموات
- ویکسین
- حفاظتی ٹیکے
- pakistan
- children
- lost
- diphtheria
- measles
- since
معتبر ذرائع:
متعلقہ خبریں
- پاکستان نے علاقائی مشاورت کے لیے ایرانی وفد کو مدعو کر لیا
- وانا میں بم دھماکہ: معروف عالم دین جاں بحق، سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
- بلاول کا ن لیگ کو 'ٹِک ٹاک' انتباہ، آزاد کشمیر کے پونچھ میں جلسے کا اعلان
آرکائیو دریافت
- پاکستان میں مہنگائی کا رجحان: گھرانوں پر شدید اقتصادی دباؤ
- سی پیک فیز ٹو: پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات اور آئندہ چیلنجز
- پاکستان میں آبی تحفظ اور ڈیم پالیسی: بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی
اکثر پوچھے گئے سوالات
کراچی میں رواں سال کتنے بچے خسرہ اور ڈپتھیریا سے ہلاک ہوئے ہیں؟
کراچی کے چار بڑے ہسپتالوں میں رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران خسرہ اور ڈپتھیریا کے باعث کل ۱۴۴ بچوں کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے ۱۲۵ اموات خسرہ کی وجہ سے اور باقی ۱۹ ڈپتھیریا سے ہوئیں۔
بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ کیا بتائی گئی ہے؟
ماہرین صحت نے ان اموات کی بنیادی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو خسرہ اور ڈپتھیریا کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی تجویز کردہ خوراکیں بروقت نہ دلوانے کو قرار دیا ہے۔ یہ ویکسین سے قابل علاج بیماریاں ہیں۔
حکومت اس صورتحال پر کیا اقدامات کر رہی ہے؟
حکومت سندھ نے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں صحت کارکنوں کی تربیت اور ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ تاہم، ماہرین مزید جامع حکمت عملی اور عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.
یہ خبر شیئر کریں