اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|9 اگست، 2026|9 منٹ مطالعہ

گلگت بلتستان میں غیر قانونی سونے کی کان کنی: ڈیم اور ماحول کو فوری خطرہ

گلگت بلتستان کے نہروں اور دریاؤں میں سونے کی غیر منظم کان کنی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام، دیامر بھاشا ڈیم سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے، جس پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔...

اس مضمون سے پوچھیں

گلگت بلتستان میں غیر قانونی سونے کی کان کنی: ڈیم اور ماحول کو فوری خطرہ

گلگت بلتستان کے قدرتی نہروں اور دریاؤں میں سونے کی غیر منظم اور غیر قانونی کان کنی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے اثرات بنیادی ڈھانچے اور عوامی زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ سرگرمیاں خصوصاً دیامر بھاشا ڈیم، سڑکوں، پلوں اور آبادیوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر، حال ہی میں ہنزہ میں ایک پلاسر سونے کی غیر قانونی کھدائی کی جگہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ایک نظر میں

گلگت بلتستان میں غیر قانونی سونے کی کان کنی دیامر بھاشا ڈیم اور ماحول کے لیے فوری خطرہ بن چکی ہے، جس پر حکام نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • گلگت بلتستان میں سونے کی کان کنی کا مسئلہ کیا ہے؟ گلگت بلتستان میں دریاؤں اور ندیوں سے سونے کی غیر قانونی کان کنی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے اور دیامر بھاشا ڈیم سمیت بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ یہ سرگرمیاں بغیر کسی ماحولیاتی ضابطے کے جاری ہیں۔
  • غیر قانونی کان کنی دیامر بھاشا ڈیم کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟ غیر قانونی کان کنی سے پیدا ہونے والا ملبہ اور غیر علاج شدہ گندا پانی دریاؤں کے ذریعے دیامر بھاشا ڈیم کے ذخائر میں جمع ہو سکتا ہے، جس سے ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی اور اس کی عمر متاثر ہوگی۔
  • اس صورتحال سے گلگت بلتستان کے ماحولیاتی نظام پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ غیر قانونی کان کنی سے دریاؤں کا پانی آلودہ ہو رہا ہے، آبی حیات خطرے میں ہے، دریاؤں کے کناروں کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے، اور زرعی زمینیں متاثر ہو رہی ہیں، جو مجموعی طور پر خطے کے نازک ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔

یہ غیر قانونی کان کنی نہ صرف پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہی ہے بلکہ دریاؤں کے کناروں کے کٹاؤ میں بھی اضافہ کر رہی ہے، جس سے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، کان کنی کے دوران استعمال ہونے والے کیمیکلز اور مشینری سے نکلنے والے تیل کی وجہ سے دریاؤں کا پانی زہریلا ہو رہا ہے، جو انسانی صحت اور آبی حیات کے لیے تباہ کن ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, مونٹیری نے انٹر میامی کو شکست دے کر کونکاکاف چیمپئنز کپ سے باہر کر دیا.

  • گلگت بلتستان میں دریاؤں اور ندیوں میں سونے کی غیر قانونی کان کنی میں اضافہ۔
  • حکام نے دیامر بھاشا ڈیم، سڑکوں اور پلوں کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا۔
  • کان کنی سے پیدا ہونے والا غیر علاج شدہ گندا پانی، ملبہ اور تیل ماحولیات کے لیے تشویش کا باعث۔
  • ہنزہ میں ایک غیر قانونی سونے کی کھدائی کی جگہ کو حال ہی میں سیل کیا گیا۔
  • یہ سرگرمیاں خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

پس منظر اور موجودہ صورتحال

گلگت بلتستان اپنی قدرتی خوبصورتی اور معدنی وسائل کے لیے مشہور ہے۔ حالیہ برسوں میں، علاقے میں سونے کی تلاش اور اس کی غیر قانونی کان کنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ سرگرمیاں زیادہ تر دریاؤں اور ندیوں کے کناروں پر کی جاتی ہیں جہاں پلاسر سونے کے ذخائر موجود ہوتے ہیں۔

گلگت بلتستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (جی بی ای پی اے) کے حکام نے بتایا ہے کہ یہ غیر قانونی آپریشنز بغیر کسی ماحولیاتی جائزے یا حفاظتی اقدامات کے جاری ہیں، جس سے شدید ماحولیاتی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کان کنی کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے جو دریاؤں کے بستروں کو گہرا کرتی ہے اور ان کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کی سطح میں کمی آتی ہے اور آبی حیات کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ مزید برآں، کان کنی کے عمل سے پیدا ہونے والا ملبہ اور غیر علاج شدہ گندا پانی براہ راست دریاؤں میں پھینکا جاتا ہے، جو پانی کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ دریاؤں کی گنجائش کو بھی کم کر دیتا ہے، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: ماحولیاتی اور سماجی اثرات

ماہرین ماحولیات اور آبی وسائل کے ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد میں قائم ایک معروف ماحولیاتی تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد کمال کے مطابق، "گلگت بلتستان کا ماحولیاتی نظام انتہائی نازک ہے اور سونے کی غیر قانونی کان کنی جیسے عوامل اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دریاؤں کی آلودگی اور کٹاؤ نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو متاثر کرتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے پینے کے پانی کے مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔"

پروفیسر عائشہ خان، جو ایک معروف ماہر ارضیات ہیں، نے روشنی ڈالی کہ "بڑے پیمانے پر دریاؤں کے بستر سے مٹی اور پتھر نکالنے سے ان کی ڈھلوان اور ساخت متاثر ہوتی ہے، جو سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کی پائیداری کے لیے یہ ایک سنگین چیلنج ہے۔" ان کے بقول، اس کے نتیجے میں زمین کا کٹاؤ بڑھتا ہے، جس سے زرعی زمینیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم اور بنیادی ڈھانچے کو خطرہ

دیامر بھاشا ڈیم، جو پاکستان کے بڑے آبی منصوبوں میں سے ایک ہے، اس غیر قانونی کان کنی سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق، دریاؤں میں بڑھتا ہوا ملبہ ڈیم کے ذخائر کو بھر سکتا ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی اور اس کی عمر کم ہو جائے گی۔ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے حکام نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر یہ سرگرمیاں نہ روکی گئیں تو ڈیم کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس کے علاوہ، دریاؤں کے کناروں کا کٹاؤ سڑکوں اور پلوں کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے جو ان دریاؤں کے ساتھ ساتھ بنے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مطابق، کئی مقامات پر سڑکوں کو دریا کے کٹاؤ سے نقصان پہنچا ہے، جس سے سفر میں مشکلات اور حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی آبادی کے مکانات اور زرعی زمینیں بھی دریاؤں کے کٹاؤ کی زد میں ہیں، جس سے ان کی روزی روٹی اور سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔

قانونی اور انتظامی چیلنجز

اگرچہ گلگت بلتستان میں معدنی وسائل کے استخراج کے لیے قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ گلگت بلتستان مائنز اینڈ منرلز ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "غیر قانونی کان کن اکثر دور دراز علاقوں میں کام کرتے ہیں جہاں نگرانی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ عملے کی کمی اور وسائل کے فقدان کی وجہ سے ان سرگرمیوں کو مکمل طور پر روکنا ایک مشکل کام ہے۔

" انہوں نے مزید کہا کہ مقامی اثر و رسوخ بھی بعض اوقات ان غیر قانونی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں غیر قانونی سائٹس کو سیل کرنا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنا شامل ہے۔ تاہم، انفرادی کارروائیاں مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے کافی نہیں۔ ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں کمیونٹی کی شمولیت، متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ شامل ہو۔

آگے کیا ہوگا: مستقبل کے امکانات اور سفارشات

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ حکومت کو ایک جامع معدنی پالیسی تیار کرنی چاہیے جو ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دے اور غیر قانونی کان کنی کو روکنے کے لیے سخت قوانین وضع کرے۔ گلگت بلتستان حکومت کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور دیگر متعلقہ محکموں کے وسائل میں اضافہ کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں۔

مستقبل میں، مقامی آبادی کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ غیر قانونی کان کنی کی طرف راغب نہ ہوں۔ سیاحت اور دیگر پائیدار معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر علاقے کی اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عوام میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ وہ خود بھی ان غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

اہم نکات

  • ماحولیاتی خطرہ: گلگت بلتستان میں غیر قانونی سونے کی کان کنی دریاؤں کے نازک ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
  • بنیادی ڈھانچے کو نقصان: دیامر بھاشا ڈیم، سڑکیں اور پل غیر علاج شدہ گندے پانی اور کٹاؤ کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔
  • آلودگی کا مسئلہ: کان کنی سے پیدا ہونے والا ملبہ، کیمیکلز اور تیل آبی حیات اور پینے کے پانی کو آلودہ کر رہے ہیں۔
  • قانونی چیلنجز: قوانین پر عمل درآمد میں مشکلات اور وسائل کی کمی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں رکاوٹ ہے۔
  • متبادل روزگار: مقامی آبادی کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنا غیر قانونی کان کنی کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
  • جامع حکمت عملی: ماحولیاتی تحفظ اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکومتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • گلگت بلتستان سونے کی کان کنی
  • غیر قانونی کان کنی پاکستان
  • دیامر بھاشا ڈیم خطرات
  • ماحولیاتی آلودگی گلگت بلتستان
  • دریاؤں کا کٹاؤ
  • جی بی ای پی اے اقدامات
  • pakistan
  • Unregulated
  • placer
  • gold
  • mining
  • raises

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

گلگت بلتستان میں سونے کی کان کنی کا مسئلہ کیا ہے؟

گلگت بلتستان میں دریاؤں اور ندیوں سے سونے کی غیر قانونی کان کنی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے اور دیامر بھاشا ڈیم سمیت بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ یہ سرگرمیاں بغیر کسی ماحولیاتی ضابطے کے جاری ہیں۔

غیر قانونی کان کنی دیامر بھاشا ڈیم کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

غیر قانونی کان کنی سے پیدا ہونے والا ملبہ اور غیر علاج شدہ گندا پانی دریاؤں کے ذریعے دیامر بھاشا ڈیم کے ذخائر میں جمع ہو سکتا ہے، جس سے ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی اور اس کی عمر متاثر ہوگی۔

اس صورتحال سے گلگت بلتستان کے ماحولیاتی نظام پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

غیر قانونی کان کنی سے دریاؤں کا پانی آلودہ ہو رہا ہے، آبی حیات خطرے میں ہے، دریاؤں کے کناروں کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے، اور زرعی زمینیں متاثر ہو رہی ہیں، جو مجموعی طور پر خطے کے نازک ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).