اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|23 اگست، 2026|8 منٹ مطالعہ

خنجراب پاس پر درآمدی محاصل میں ریکارڈ ۱۵ ارب روپے جمع

مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے دوران خنجراب پاس کے ذریعے چین سے ہونے والی درآمدات پر پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا محصول اکٹھا کیا ہے، جو گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ گیا ہے۔ اسی عرصے میں چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو ۲.۸ ارب روپے کی برآمدات بھی کی گئیں۔...

اس مضمون سے پوچھیں

گلگت: مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے دوران چین سے خنجراب پاس کے راستے ہونے والی درآمدات پر پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا محصول جمع کیا ہے، جو پچھلے تمام ریکارڈ توڑ گیا ہے۔ حکام کے مطابق، اسی عرصے میں ۲.۸ ارب روپے مالیت کی مصنوعات چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار ملک کی سرحدی تجارت میں اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایک نظر میں

مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں خنجراب پاس پر درآمدی محاصل نے ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا ہندسہ عبور کر لیا، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔

  • خنجراب پاس سے مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں کتنا محصول جمع ہوا؟ مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے دوران خنجراب پاس پر درآمدات سے پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا محصول جمع کیا، جو گزشتہ ریکارڈ سے تقریباً ۹.۷ فیصد زیادہ ہے۔
  • خنجراب پاس کی تجارتی اہمیت کیا ہے؟ خنجراب پاس پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے اور گلگت بلتستان کی مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
  • مستقبل میں اس تجارتی راستے کے کیا امکانات ہیں؟ مستقبل میں خنجراب پاس کے ذریعے تجارت میں مزید اضافے کے وسیع امکانات ہیں، جس کے لیے حکومت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید کسٹمز نظام کے نفاذ اور سیکیورٹی انتظامات پر توجہ دے رہی ہے۔

خنجراب پاس پر درآمدی محاصل میں ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا حصول ملک کی معیشت اور تجارت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف سرحدی تجارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, مستونگ حملہ: سیکیورٹی اہلکار شہید، چھ زخمی، خطے میں کشیدگی.

  • ریکارڈ محصول: مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں خنجراب پاس سے ۱۵ ارب روپے کے درآمدی محاصل جمع ہوئے۔
  • پچھلا ریکارڈ: مالی سال ۲۰۲۴-۲۵ میں یہ رقم ۱۳.۶ ارب روپے تھی۔
  • برآمدات: اسی عرصے میں چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو ۲.۸ ارب روپے کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔
  • اہمیت: یہ اعداد و شمار پاکستان-چین تجارت میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
  • ذریعہ: پاکستان کسٹمز کلکٹر گلگت بلتستان، واجد علی کے مطابق۔

خنجراب پاس پر محصولات میں غیر معمولی اضافہ

پاکستان کسٹمز کلکٹر گلگت بلتستان، واجد علی نے ڈان کو بتایا کہ مالی سال ۲۰۲۶ میں سوست ڈرائی پورٹ پر خنجراب پاس کے ذریعے درآمدات پر ۱۴.۹۳ ارب روپے کا محصول جمع کیا گیا۔ یہ رقم مالی سال ۲۰۲۵ میں جمع کیے گئے ۱۳.۶ ارب روپے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو تقریباً ۹.۷ فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس ریکارڈ اضافے نے سرحدی تجارت کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ اضافہ پاکستان کی تجارتی پالیسیوں اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا براہ راست نتیجہ ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، تجارت میں سہولت کاری کے اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری نے اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ درآمدی اشیاء میں بنیادی طور پر چینی مصنوعات شامل ہیں جو پاکستان کی مقامی مارکیٹوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔

پاکستان-چین تجارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت

خنجراب پاس، جو دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی سرحدوں میں سے ایک ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پاس نہ صرف تجارتی سامان کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کو بھی فروغ دیتا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق، اس راستے سے ہونے والی تجارت سی پیک منصوبے کی کامیابی کی ایک اہم علامت ہے۔

اس تجارتی راستے کی اسٹریٹجک اہمیت گلگت بلتستان کے خطے کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ مقامی کاروباری برادری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے یہ آمدنی کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس راستے سے تجارت کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا تجزیہ اور اقتصادی اثرات

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، خنجراب پاس پر محصولات میں یہ ریکارڈ اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ اسلام آباد میں مقیم اقتصادی ماہر ڈاکٹر حسن نقوی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ اعداد و شمار نہ صرف ٹیکس وصولی کے اہداف کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ملک کے مجموعی تجارتی توازن پر بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ چین کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط پاکستان کی اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔"

ایک اور ماہر تجارت، پروفیسر سارہ احمد، جو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) سے وابستہ ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ "محصولات میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چینی مصنوعات کی پاکستانی مارکیٹ میں مانگ برقرار ہے، اور یہ کہ سرحد پر کسٹمز کے نظام میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، ہمیں برآمدات کو مزید بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی تاکہ تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔" ان کے مطابق، مقامی صنعتوں کو معیاری مصنوعات تیار کرنے کی ترغیب دینا ضروری ہے جو عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔

گلگت بلتستان اور مقامی معیشت پر اثرات

گلگت بلتستان کے لیے خنجراب پاس سے حاصل ہونے والے محصولات کی اہمیت دوگنی ہے۔ یہ نہ صرف مقامی حکومت کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ ہے بلکہ علاقے میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ہول سیل کے شعبوں میں سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت میں آسانی سے ان کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے ہیں جن میں سڑکوں کی مرمت اور توسیع شامل ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرائی پورٹ پر جدید سہولیات کی فراہمی سے تجارتی حجم میں مزید اضافہ ممکن ہوگا۔

آگے کیا ہوگا؟ مستقبل کے امکانات اور چیلنجز

خنجراب پاس سے حاصل ہونے والے ریکارڈ محصولات مستقبل میں پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع امکانات پیش کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس تجارتی راستے کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے کئی منصوبے زیر غور ہیں۔ ان میں جدید کسٹمز کلیئرنس کے نظام کا نفاذ اور سرحدی علاقوں میں بہتر سیکیورٹی انتظامات شامل ہیں۔

تاہم، کچھ چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ان میں خنجراب پاس پر موسمیاتی رکاوٹیں، سڑکوں کی دیکھ بھال، اور تجارتی سہولیات کی مزید توسیع شامل ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق، ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے چین کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ مالی سالوں میں بھی یہ تجارتی حجم اسی طرح برقرار رہے گا یا اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

سوال: خنجراب پاس سے مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں کتنا محصول جمع ہوا؟

جواب: مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے دوران خنجراب پاس پر درآمدات سے پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا محصول جمع کیا، جو گزشتہ ریکارڈ سے تقریباً ۹.۷ فیصد زیادہ ہے۔

سوال: خنجراب پاس کی تجارتی اہمیت کیا ہے؟

جواب: خنجراب پاس پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے اور گلگت بلتستان کی مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

سوال: مستقبل میں اس تجارتی راستے کے کیا امکانات ہیں؟

جواب: مستقبل میں خنجراب پاس کے ذریعے تجارت میں مزید اضافے کے وسیع امکانات ہیں، جس کے لیے حکومت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید کسٹمز نظام کے نفاذ اور سیکیورٹی انتظامات پر توجہ دے رہی ہے۔

اہم نکات

  • ریکارڈ محصول: مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں خنجراب پاس پر درآمدات سے ۱۵ ارب روپے کا ریکارڈ محصول جمع ہوا، جو گزشتہ سال سے تقریباً ۹.۷ فیصد زیادہ ہے۔
  • برآمدات کی صورتحال: اسی عرصے میں چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو ۲.۸ ارب روپے مالیت کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔
  • اقتصادی اہمیت: یہ اضافہ پاکستان-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت تجارتی سرگرمیوں کی کامیابی اور ملک کے لیے اقتصادی استحکام کی علامت ہے۔
  • مقامی ترقی: گلگت بلتستان کی مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
  • مستقبل کے امکانات: حکومت تجارتی سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مستقبل میں تجارتی حجم میں مزید اضافہ ہو سکے۔
  • ماہرین کی رائے: اقتصادی ماہرین نے اس پیش رفت کو ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت قرار دیا ہے۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • خنجراب پاس
  • پاکستان کسٹمز
  • درآمدی محاصل
  • چین پاکستان اقتصادی راہداری
  • گلگت بلتستان
  • pakistan
  • Khunjerab
  • Pass
  • generates
  • record
  • Rs15

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

خنجراب پاس سے مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں کتنا محصول جمع ہوا؟

مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے دوران خنجراب پاس پر درآمدات سے پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ ۱۵ ارب روپے کا محصول جمع کیا، جو گزشتہ ریکارڈ سے تقریباً ۹.۷ فیصد زیادہ ہے۔

خنجراب پاس کی تجارتی اہمیت کیا ہے؟

خنجراب پاس پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے اور گلگت بلتستان کی مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

مستقبل میں اس تجارتی راستے کے کیا امکانات ہیں؟

مستقبل میں خنجراب پاس کے ذریعے تجارت میں مزید اضافے کے وسیع امکانات ہیں، جس کے لیے حکومت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید کسٹمز نظام کے نفاذ اور سیکیورٹی انتظامات پر توجہ دے رہی ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).