نیپال میں تبت سرحد پر ہولناک سیلاب، 95 افراد ہلاک: فوری اپ ڈیٹ
نیپال میں تبت سرحد کے قریب آنے والے ایک ہولناک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ سینکڑوں سیاح اور پولیس اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ تباہی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مون سون کی بارشیں جنوبی ایشیا میں اکثر تباہی کا باعث بنتی ہیں۔...
اس مضمون سے پوچھیں
نیپال میں تبت سرحد کے قریب آنے والے ایک ہولناک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ سینکڑوں سیاح اور پولیس اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ تباہی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مون سون کی بارشیں جنوبی ایشیا میں اکثر تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، بدھ کو ہونے والے اس واقعے میں مٹی اور ملبے کا ایک تیز ریلا چین اور نیپال کے درمیان بہنے والے دریا کے کناروں سے پھٹ کر آبادی میں داخل ہو گیا، جس نے کئی عمارتوں کو بہا دیا۔
ایک نظر میں
نیپال میں تبت سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب سے 95 افراد ہلاک، سینکڑوں لاپتہ اور وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
- نیپال میں حالیہ سیلاب کی وجہ کیا ہے؟ ماہرین کے ابتدائی تجزیے کے مطابق، یہ سیلاب نیپال میں چٹانوں اور برفانی تودے کے گرنے سے دریائے لہندے میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد آیا، جس کے نتیجے میں پانی کا تیز ریلا آبادی میں داخل ہو گیا۔
- اس سیلاب کے انسانی اور بنیادی ڈھانچے پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ اس تباہ کن سیلاب سے کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں لاپتہ ہیں، جن میں سیاح بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے اور کئی اہم شاہراہیں بھی بند ہو گئی ہیں۔
- نیپال میں مستقبل میں ایسے واقعات کے کیا امکانات ہیں؟ آئی سی ایم او ڈی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیپال-چین سرحدی دریا پر موجود رکاوٹ کی وجہ سے دوسرا سیلاب بھی آ سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی ایشیا میں مون سون کے دوران ایسے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن متاثرہ علاقے کی وسیع پیمانے پر تباہی اور رابطوں کے منقطع ہونے کے باعث صورتحال انتہائی مشکل ہے۔ نیپال کے وزیراعظم نے قوم سے اتحاد کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
- ہلاکتیں: نیپال میں کم از کم 95 افراد ہلاک، جن میں 28 پولیس اہلکار لاپتہ ہیں۔
- لاپتہ افراد: 403 سیاح (341 غیر ملکی) تاحال لاپتہ، چین میں 265 افراد لاپتہ ہونے کی اطلاعات۔
- وجہ: ماہرین کے مطابق، نیپال میں چٹانوں اور برفانی تودے کے گرنے سے دریائے لہندے میں رکاوٹ کے بعد سیلاب آیا۔
- نقصانات: 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نقصان، کئی شاہراہیں بند۔
- بین الاقوامی ردعمل: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امداد کی پیشکش کی، چینی صدر شی جن پنگ نے 'ہر ممکن' امدادی کارروائیوں کا حکم دیا۔
تبت سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں اور نقصانات
نیپال پولیس کے ترجمان ابی نارائن کافل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کے روز تبت سرحد سے متصل علاقے میں سیلاب کی وجہ سے کم از کم 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً 28 پولیس اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔ تباہی کے کئی گھنٹے بعد بھی سینکڑوں سیاحوں سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا، جو اس علاقے میں موجود تھے۔
اس تباہ کن سیلاب کا آغاز چین اور نیپال کے درمیان بہنے والے ایک دریا سے ہوا، جہاں مٹی اور ملبے کا ایک تیز ریلا اچانک پھٹ پڑا۔ اس ریلے نے اپنے راستے میں آنے والی عمارتوں کو تہس نہس کر دیا اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے فوری اور وسیع پیمانے پر کوششوں کا آغاز ہوا۔ 56 سالہ راجو بھادل نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا، "مجھے آج صبح میرے بہنوئی کا فون آیا، وہ رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ان کا پورا گھر بہہ گیا ہے۔
خاندان کے تین افراد کو بچا لیا گیا ہے، لیکن ان کا بھائی اب بھی لاپتہ ہے۔ " یہ بیان متاثرین کی شدید ذہنی اذیت اور نقصانات کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کی جانب سے نقصانات کی تفصیلات
چینی حکام نے، ریاستی میڈیا کے مطابق، ابتدائی اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ مٹی کے تودے گرنے کے بعد تین افراد ہلاک اور 265 دیگر لاپتہ ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اس واقعے کے بعد 'ہر ممکن' امدادی کارروائیوں کا حکم دیا ہے۔ تاہم، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چینی اور نیپالی اعداد و شمار میں کوئی اوورلیپ ہے یا نہیں، کیونکہ ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کے مخصوص اعداد و شمار کی اب بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔
چین کے ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ "نیپالی جانب مٹی کے تودے گرنے سے تبت کے جیرونگ پورٹ پر بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور لاپتہ افراد سامنے آئے ہیں۔ "
امدادی کارروائیاں اور حکومتی ردعمل
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے اس تباہ کن سیلاب کے بعد ہمالیائی قوم سے متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا، "آپ کو جو درد اور نقصان پہنچا ہے وہ کم نہیں ہے۔ لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس مشکل وقت میں آپ اکیلے نہیں ہیں— ریاست اپنے تمام وسائل اور ذرائع کے ساتھ آپ کے ساتھ ہے۔" یہ بیان حکومتی سطح پر عوام کو یقین دہانی کرانے کی کوشش ہے۔
وزیراعظم شاہ نے مزید کہا، "براہ کرم صبر کریں۔ حکومت آپ کی امداد، علاج، خوراک اور پناہ گاہ کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے۔ ایسی آفت کے وقت، ہم سب کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔" ثقافت، سیاحت اور شہری ہوا بازی کی وزارت کے مطابق، تباہی کے کئی گھنٹے بعد تک تقریباً 403 سیاح— جن میں 341 غیر ملکی شامل تھے— لاپتہ تھے۔ نیپال کے سیاحتی بورڈ نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والوں میں امریکی، ہندوستانی، ایک آسٹریلوی، ملائیشیائی اور برطانوی شہری شامل تھے۔
نیپالی فوج کی تعیناتی اور بین الاقوامی امداد
نیپالی پولیس کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں سیلابی پانی کو دریا میں تیزی سے بہتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو اپنے راستے میں آنے والے گھروں کو بہا کر لے جا رہا تھا۔ اے ایف پی کی تصاویر میں ایک گھر کا اوپر والا حصہ مٹی کے دلدل سے باہر نکلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ پولیس ترجمان نے اے ایف پی کو پہلے بتایا تھا کہ حکام کو نقصان کی حد معلوم نہیں تھی لیکن انہوں نے کہا کہ انہوں نے "دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو منتقل ہونے کے لیے الرٹ کر دیا تھا۔
" نیپال آرمی نے متاثرہ علاقے میں ہیلی کاپٹر اور ڈیزاسٹر رسپانس اہلکار تعینات کیے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نیپال کے وزیراعظم شاہ سے بات کی اور تعزیت کے ساتھ ساتھ امدادی کوششوں میں مدد کی پیشکش کی۔ مودی نے ایک بیان میں کہا، "ہندوستان کے لوگ اس مشکل وقت میں نیپال میں اپنی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا، "ہندوستان نیپال کو ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہماری ٹیمیں امداد اور راحت کی کوششوں پر قریبی تعاون کر رہی ہیں۔"
بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور بجلی کی صورتحال
نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی نے بتایا کہ تقریباً 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت، جس میں ہائیڈرو پاور اور سولر سہولیات شامل ہیں، کو نقصان پہنچا ہے۔ اتھارٹی نے کہا، "آفت نے اتھارٹی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی سہولیات کو نقصان پہنچایا ہے… جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔" یہ نقصان نیپال کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ بجلی کی فراہمی میں کمی سے صنعتی اور گھریلو سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
ماہرین کا تجزیہ اور ماحولیاتی عوامل
کھٹمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (ICIMOD) میں ریموٹ سینسنگ اور جیو-انفارمیشن کے تجزیہ کار سارتھک شریستھا نے بتایا کہ ایک ابتدائی جائزے سے "چین کی سرحد کی جانب سے کوئی غیر معمولی بات" سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم سمجھتے ہیں کہ نیپال میں ایک چٹان-برفانی تودہ گرا، جس نے دریائے لہندے کو روک دیا اور اس کے نتیجے میں سیلاب کا یہ سلسلہ وار واقعہ پیش آیا۔"
مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ کئی شاہراہوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے، نیپالی حکام نے بتایا۔ تبت کے شیگاتسے میں ٹریفک حکام نے بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ علاقے میں سڑکیں "مٹی کے تودے گرنے کے خطرے میں ہیں اور گزرنے کے لیے غیر محفوظ ہیں۔" گزشتہ سال جولائی میں بھی، جیرونگ پورٹ کے قریب مٹی کے تودے گرنے سے 17 افراد لاپتہ ہو گئے تھے، جیسا کہ سنہوا نے اس وقت رپورٹ کیا تھا۔
موسمیاتی تبدیلی اور مستقبل کے خطرات
جون سے ستمبر تک مون سون کی بارشیں جنوبی ایشیا میں باقاعدگی سے مہلک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خطے میں شدید موسمی واقعات کی تعدد اور شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔ آئی سی ایم او ڈی کے آب و ہوا اور ماحولیاتی خطرات کے سربراہ کیانگ گونگ ژانگ نے خبردار کیا ہے کہ دوسرا سیلاب بھی قریب ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "نیپال-چین سرحدی دریا پر اب بھی ایک رکاوٹ موجود ہونے کی وجہ سے، حکام نے خبردار کیا ہے کہ دوسرا سیلاب آ سکتا ہے۔ " یہ صورتحال متاثرہ علاقوں کے لیے مزید خطرات کا باعث بن سکتی ہے اور امدادی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
آگے کیا ہوگا: مستقبل کے چیلنجز اور امکانی خطرات
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد، مستقبل میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے اہم چیلنج لاپتہ افراد کی تلاش اور انہیں بچانے کی کوششیں ہیں، جو کہ شدید موسمی حالات اور مشکل جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے انتہائی پیچیدہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، متاثرین کی بحالی، انہیں خوراک، پناہ گاہ اور طبی امداد فراہم کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، خاص طور پر بجلی کی فراہمی اور شاہراہوں کی بحالی، طویل المدتی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر، نیپال اور خطے کے دیگر ممالک کو مستقبل میں ایسے ہی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مزید مضبوط اور پائیدار حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کی جانب سے دوسرے سیلاب کے خدشے نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے، جس کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
اہم نکات
- ہلاکتوں کی تعداد: نیپال میں تبت سرحد کے قریب سیلاب سے کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
- لاپتہ افراد: 28 پولیس اہلکاروں سمیت سینکڑوں سیاح اور افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
- بجلی کا نقصان: نیپال میں 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
- سبب: ماہرین کے مطابق، دریائے لہندے میں چٹان-برفانی تودے کے گرنے سے رکاوٹ سیلاب کا سبب بنی۔
- بین الاقوامی تعاون: بھارت اور چین نے نیپال کو امداد اور تعاون کی پیشکش کی ہے۔
- مستقبل کا خطرہ: موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے واقعات کی شدت میں اضافہ اور دوسرے سیلاب کا خدشہ موجود ہے۔
اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں
- نیپال سیلاب
- تبت سرحد
- ہلاکتیں
- لاپتہ افراد
- ماحولیاتی تبدیلی
- قدرتی آفات
- pakistan
- Massive
- flood
- near
- Tibet
- border
بنیادی ذریعہ: none@none.com (AFP)
معتبر ذرائع:
اکثر پوچھے گئے سوالات
نیپال میں حالیہ سیلاب کی وجہ کیا ہے؟
ماہرین کے ابتدائی تجزیے کے مطابق، یہ سیلاب نیپال میں چٹانوں اور برفانی تودے کے گرنے سے دریائے لہندے میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد آیا، جس کے نتیجے میں پانی کا تیز ریلا آبادی میں داخل ہو گیا۔
اس سیلاب کے انسانی اور بنیادی ڈھانچے پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
اس تباہ کن سیلاب سے کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں لاپتہ ہیں، جن میں سیاح بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے اور کئی اہم شاہراہیں بھی بند ہو گئی ہیں۔
نیپال میں مستقبل میں ایسے واقعات کے کیا امکانات ہیں؟
آئی سی ایم او ڈی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیپال-چین سرحدی دریا پر موجود رکاوٹ کی وجہ سے دوسرا سیلاب بھی آ سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی ایشیا میں مون سون کے دوران ایسے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.
یہ خبر شیئر کریں