مضمون سنیںیہ خبر سننے کے لیے پلے دبائیںمضمون سنیںآڈیو ڈاؤن لوڈ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کی تنظیم نو کی منظوری دے دی ہے، جس کا بنیادی مقصد قومی ایجنڈے کو برآمدی اہداف اور غذائی تحفظ کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ وزیراعظم آفس (PMO) سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، وزیراعظم کی یہ منظوری اسلام آباد میں PARC سے متعلق امور پر ہونے والے ایک اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی صدارت انہوں نے خود کی۔ اس فیصلے کو پاکستان کے زرعی شعبے میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں زرعی تحقیق اور ترقی کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔

**اہم نکتہ:** وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کی تنظیم نو کی منظوری ملک میں غذائی تحفظ اور زرعی برآمدات کے اہداف کے حصول کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

### ایک نظر میں * وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کی تنظیم نو کی باضابطہ منظوری دے دی۔ * تنظیم نو کا بنیادی مقصد قومی زرعی ایجنڈے کو برآمدی اہداف اور غذائی تحفظ کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ * وزیراعظم نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو PARC کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ * اس اقدام سے زرعی تحقیق اور ترقی میں جدت اور عالمی معیار کی مطابقت لانے کی توقع ہے۔ * ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور زرعی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, روس کی جانب سے پاکستان کو رعایتی تیل کی فراہمی کی پیشکش؛ کیا یہ ملک کے توانائی….

### پس منظر اور موجودہ صورتحال پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کی تقریباً ۶۰ فیصد آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) ملک میں زرعی تحقیق اور ترقی کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ۱۹۸۱ میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد جدید زرعی ٹیکنالوجی کی تحقیق، ترقی اور فروغ کے ذریعے ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا تھا۔ تاہم، گزشتہ چند دہائیوں سے PARC کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن میں فنڈز کی کمی، تحقیق و ترقی میں جدت کی سست روی، اور عالمی زرعی رجحانات سے ہم آہنگی کا فقدان شامل ہے۔ ان چیلنجز کے نتیجے میں پاکستان کا زرعی شعبہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکا، اور غذائی تحفظ کے مسائل کے ساتھ ساتھ زرعی برآمدات کے اہداف بھی متاثر ہوئے۔

عالمی بینک کی ۲۰۲۳ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں زرعی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ بہتری کی گنجائش موجود ہے، خصوصاً جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے۔ موجودہ صورتحال میں، پاکستان کو نہ صرف اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زرعی برآمدات کو بھی فروغ دینا ہے۔ یہ پس منظر ہی PARC کی تنظیم نو کی ضرورت کا سب سے بڑا محرک بنا ہے، تاکہ ایک ایسے ادارے کو از سر نو فعال کیا جا سکے جو ان قومی اہداف کے حصول میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

### پاکستان میں زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال اور چیلنجز پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً ۲۳ فیصد حصہ ڈالتا ہے اور لیبر فورس کے ۳۷ فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ تاہم، یہ شعبہ کئی اہم چیلنجز سے دوچار ہے۔ محکمہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں زرعی پیداوار میں اضافہ سست روی کا شکار رہا ہے، جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پانی کی قلت، روایتی کاشتکاری کے طریقے، معیاری بیجوں اور کھادوں تک کسانوں کی محدود رسائی، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات جیسے سیلاب اور خشک سالی نے زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ۲۰۲۲ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی زرعی برآمدات اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ عالمی معیار کے مطابق مصنوعات کی کمی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں رکاوٹیں ہیں۔

ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں تحقیق و ترقی کا شعبہ کلیدی کردار ادا کرے۔ PARC کی تنظیم نو کا مقصد ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جدید اور فعال ادارہ فراہم کرنا ہے جو نہ صرف جدید تحقیق کو فروغ دے بلکہ اسے کسانوں تک پہنچانے کے لیے مؤثر نظام بھی وضع کرے۔ وزیراعظم کے بیان کے مطابق، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ PARC کو جدید خطوط پر استوار کرے، جس میں اس کے ڈھانچے، افرادی قوت اور تحقیقی پروگراموں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس تنظیم نو سے زرعی شعبے کو درپیش مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

### ماہرین کا تجزیہ: ایک نئی امید کی کرن زرعی ماہرین اور پالیسی ساز اس تنظیم نو کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دے رہے ہیں۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے زرعی اقتصادیات کے پروفیسر ڈاکٹر فاروق احمد کا کہنا ہے، "PARC کی تنظیم نو ایک بروقت اور انتہائی ضروری اقدام ہے۔ ماضی میں یہ ادارہ اپنی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ اگر اس تنظیم نو کو درست سمت میں لے جایا گیا تو یہ نہ صرف ہماری غذائی تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ زرعی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر سکے گا۔" ان کے خیال میں، تنظیم نو میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فارمنگ کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IPRI) سے وابستہ فوڈ سیکیورٹی تجزیہ کار، محترمہ سارہ خان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، "اس تنظیم نو کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسے برآمدی اہداف اور غذائی تحفظ کے قومی ایجنڈے سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ حکومت زرعی شعبے کو صرف مقامی کھپت کے لیے نہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے بھی دیکھ رہی ہے۔ تاہم، کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا PARC کو واقعی خود مختاری اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ عالمی معیار کی تحقیق کر سکے اور اسے کسانوں تک پہنچا سکے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس تنظیم نو کے تحت نجی شعبے کی شمولیت بھی انتہائی اہم ہو گی تاکہ تحقیق اور ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

### تنظیم نو کے مقاصد اور علاقائی اثرات سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تنظیم نو کس طرح بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ تنظیم نو میں PARC کے تحقیقی پروگراموں کو عالمی بہترین طریقوں (best practices) کے مطابق ڈھالنا ہوگا، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موافق فصلوں کی اقسام، پانی کی بچت کی ٹیکنالوجی اور زرعی مصنوعات کی قدر میں اضافے (value addition) پر تحقیق شامل ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے اندر غذائی تحفظ کو مستحکم کرے گا بلکہ خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمدات کو بھی فروغ دے گا۔ خلیجی خطہ اپنی غذائی ضروریات کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور ایک مضبوط PARC پاکستان کو اس منڈی میں ایک قابل اعتماد سپلائر کے طور پر ابھرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تنظیم نو کے تحت PARC کے ڈھانچے کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے جدید انتظامی اصولوں اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس سے ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور تحقیق کے نتائج کو تیزی سے کسانوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف مقامی کھپت پوری ہوگی بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ بھی بڑھے گی۔ اس تنظیم نو کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے زرعی شعبے میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، خصوصاً تحقیق اور ترقی کے شعبے میں، جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولے گا۔

### اثرات کا جائزہ: کون متاثر ہوتا ہے اور کیسے اس تنظیم نو سے پاکستان کے زرعی شعبے سے وابستہ ہر فرد متاثر ہوگا۔ سب سے پہلے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ بہتر بیجوں، جدید کاشتکاری کی تکنیکوں، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مزاحم فصلوں تک رسائی سے ان کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور فصلوں کا نقصان کم ہوگا۔ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اوسطاً فی ایکڑ پیداوار اب بھی علاقائی ممالک کے مقابلے میں کم ہے، اور PARC کی مؤثر تحقیق اس خلا کو پر کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ جب کسانوں کی آمدنی بڑھے گی تو دیہی معیشت مستحکم ہوگی اور غربت میں کمی آئے گی۔

دوسرے نمبر پر، زرعی صنعت اور برآمد کنندگان اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ جب PARC عالمی معیار کے مطابق تحقیق کرے گا اور معیاری مصنوعات کی پیداوار میں مدد دے گا، تو پاکستانی زرعی مصنوعات جیسے چاول، پھل اور سبزیاں عالمی منڈیوں میں زیادہ آسانی سے جگہ بنا سکیں گی۔ اس سے ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی زرعی برآمدات ۲۰۲۳ میں تقریباً ۵ ارب ڈالر تک پہنچیں، اور اس تنظیم نو کے ذریعے یہ ہدف ۲۰۲۶ تک دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تیسرے نمبر پر، عام شہری اور صارفین بھی اس سے مستفید ہوں گے۔ غذائی تحفظ بہتر ہونے سے خوراک کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور ملک میں غذائی اشیاء کی دستیابی یقینی ہوگی۔ یہ خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے اہم ہے جو خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ آخر میں، یہ پاکستان کی مجموعی معیشت کو بھی مضبوط کرے گا، کیونکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

### آگے کیا ہوگا: مستقبل کے امکانات اور کسانوں کے لیے امید PARC کی تنظیم نو کا عمل ایک پیچیدہ اور وقت طلب کام ہے، لیکن اس کے ممکنہ نتائج پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی روشن ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرے گی۔ اس روڈ میپ میں نہ صرف PARC کے ڈھانچے میں تبدیلیاں شامل ہوں گی بلکہ اس کے تحقیقی پروگراموں کو بھی جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ آئندہ ۱۲ سے ۱۸ ماہ میں اس تنظیم نو کے ابتدائی اثرات نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

**کسانوں کی تقدیر کیسے بدلے گی؟** اس تنظیم نو کے نتیجے میں کسانوں کو نہ صرف بہتر بیج اور جدید تکنیکیں میسر آئیں گی بلکہ انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔ ایک مؤثر PARC کسانوں کو ایسی فصلیں اگانے میں مدد دے گا جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں، اور ایسی اقسام متعارف کروائے گا جو بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں۔ یہ براہ راست ان کی آمدنی میں اضافہ کرے گا اور انہیں زیادہ منافع بخش فصلیں اگانے کے قابل بنائے گا۔ مزید برآں، یہ تنظیم نو زرعی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن میں بھی کسانوں کی مدد کرے گی، جس سے انہیں اپنی محنت کا بہتر معاوضہ مل سکے گا۔ یہ تمام عوامل مل کر کسانوں کی تقدیر بدلنے اور انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس اقدام سے پاکستان میں زرعی انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جو نہ صرف ملک کی غذائی ضروریات پوری کرے گا بلکہ اسے ایک اہم زرعی برآمد کنندہ کے طور پر بھی عالمی سطح پر متعارف کرائے گا۔

متعلقہ خبریں

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کی تنظیم نو کی منظوری دے دی ہے، جس کا بنیادی مقصد قومی ایجنڈے کو برآمدی اہداف اور غذائی تحفظ کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ وزیراعظم آفس (PMO) سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، وزیراعظم کی یہ منظوری اسلام آباد میں PARC سے متعلق امور پر ہونے و

یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔