گلوبل ٹیررازم انڈیکس (GTI) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جب کہ عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے نئے اور گمبھیر چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے جو نہ صرف سیکیورٹی بلکہ معاشی استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

ایک نظر میں

گلوبل ٹیررازم انڈیکس (GTI) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جب کہ عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے نئے اور گمبھیر چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے جو نہ صرف سیکیورٹی بلکہ م

  • گلوبل ٹیررازم انڈیکس (GTI) کے مطابق، پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔
  • ۲۰۲۳ میں عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں ۲۲ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کردار نمایاں رہا ہے۔
  • ماہرین کے مطابق، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی عوامل پاکستان میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کی بنیادی وجہ ہیں۔
  • دہشت گردی کا یہ بڑھتا رجحان ملکی معیشت، بیرونی سرمایہ کاری اور سماجی استحکام پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، جس میں ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا گیا۔ ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۵ کے دوران ملک کو دہشت گردی کی شدید لہر کا سامنا رہا، جس کے بعد فوجی کارروائیوں جیسے آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے ذریعے صورتحال پر کافی حد تک قابو پالیا گیا تھا۔ تاہم، گلوبل ٹیررازم انڈیکس ۲۰۲۴ کی رپورٹ (جو عام طور پر پچھلے سال کے اعداد و شمار پر مبنی ہوتی ہے) ایک پریشان کن تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اس رپورٹ کے اعداد و شمار انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP) نے جاری کیے ہیں، جو دہشت گردی کے عالمی رجحانات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں ۲۰۲۳ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۲۲ فیصد کم تھی۔ اس کے برعکس، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ملک کے شمال مغربی علاقوں اور بلوچستان میں۔ یہ اضافہ زیادہ تر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے حکام نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہ سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں، جو ملک کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے: اعلیٰ عسکری قیادت کا….

دہشت گردی کا بڑھتا رجحان اور پاکستان پر اس کے اثرات

پاکستان میں دہشت گردی کے رجحان میں اضافے کے کئی بنیادی اسباب ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کی مغربی سرحد پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں پناہ گاہیں ملنے کی اطلاعات ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ پاک فوج کے حکام نے متعدد مواقع پر اس تشویش کا اظہار کیا ہے اور افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "افغانستان میں عدم استحکام اور وہاں سے ملنے والی پناہ گاہیں ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔ یہ ایک سیکیورٹی چیلنج ہے جس کا حل علاقائی تعاون اور سرحدوں کی مؤثر نگرانی میں مضمر ہے۔" ان کے بقول، پاکستان کو نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگا بلکہ سفارتی سطح پر بھی افغانستان پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔ دوسری جانب، پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۳ میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ۶۰ فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔

دہشت گردی کے یہ واقعات صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہیں بنتے بلکہ ملکی معیشت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر ڈاکٹر عادل حسین کا کہنا ہے، "دہشت گردی بیرونی سرمایہ کاری کو روکتی ہے، تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے، اور سیکیورٹی اخراجات میں اضافہ کرتی ہے، جس سے ملک کی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، سیاحت اور سماجی شعبے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔" اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کو ۱۵۰ ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

اس صورتحال سے عام شہری بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کو مسلسل خوف اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ سکول، بازار اور عوامی مقامات غیر محفوظ تصور کیے جاتے ہیں، جس سے روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور اس کے نتیجے میں نقل مکانی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے کے جامع حل کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر بھی توجہ دے تاکہ شدت پسندی کی بنیادی وجوہات کو ختم کیا جا سکے۔

معاشی چیلنجز اور علاقائی حرکیات: آگے کیا ہوگا؟

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ پاکستان کی علاقائی حرکیات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اس وقت عروج پر ہے، جب کہ ایران کے ساتھ بھی سرحدی واقعات نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں دہشت گردی کا مسئلہ ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ ماہرین خارجہ امور کے مطابق، پاکستان کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن اور جامع خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو سفارتی سطح پر بھی فعال ہو۔

کیا پاکستان کی معیشت اس نئی لہر کو برداشت کر پائے گی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو بہت سے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی بلند افراط زر، کمزور روپے اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہر مزید معاشی دباؤ کا باعث بنے گی اور سرمایہ کاروں کو ملک سے دور رکھے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں جیسے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سیکیورٹی کی خراب صورتحال کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے حالیہ اجلاسوں میں دہشت گردی کے معاشی اثرات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے نئے سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی کے منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ مستقبل قریب میں پاکستان کو دہشت گردی کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، سرحدی انتظام کو مزید مؤثر بنانا، انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کرنا، اور دہشت گردی کے بیانیے کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر بامعنی مذاکرات کرنا اور عالمی برادری کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کرنا بھی پاکستان کے لیے اہم ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان اقدامات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہ کیا گیا تو ملک کو مزید شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہے کہ دہشت گردی کا براہ راست تعلق معاشی ترقی اور سماجی استحکام سے ہے۔ جب تک ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی، بیرونی سرمایہ کاری کا آنا مشکل ہوگا اور مقامی کاروبار بھی پھل پھول نہیں سکیں گے۔ اس لیے، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معاشی بقا اور سماجی فلاح کا بھی مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو قومی ترجیح دے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر ایک طویل المدتی حکمت عملی وضع کرے، جس میں نہ صرف دفاعی اقدامات شامل ہوں بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے انتہا پسندی کی جڑوں کو بھی کاٹا جائے۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

گلوبل ٹیررازم انڈیکس (GTI) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جب کہ عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے نئے اور گمبھیر چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے جو نہ صرف سیکیورٹی بلکہ م

یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔