سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ 'ایران جنگ' کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں ہے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسی دوران، اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مضافاتی علاقے میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس سے خطے میں ایک نئے تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب علاقائی طاقتیں پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ پیش رفت علاقائی سلامتی کے لیے سنگین مضمرات رکھتی ہے اور پاکستان، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے تہران اور بیروت پر کیے گئے حملے، جو کہ ایک غیر معمولی اقدام ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ایران کے ساتھ مستقبل کے کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے 'لامحدود' نقطہ نظر کی بات کی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا رہی ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری پراکسی جنگ اب براہ راست تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
ٹرمپ کا "لامحدود جنگ" بیان اور اس کے مضمرات
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ 'ایران جنگ' کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کی جائے گی، واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں ایران پر 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی اپنائی تھی اور 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کو یکطرفہ طور پر دستبردار کر لیا تھا۔ ان کا حالیہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں ان کی ایران پالیسی مزید جارحانہ ہو سکتی ہے، اور وہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی سمیت کسی بھی آپشن کو خارج نہیں کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی برادری، خاص طور پر ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ امریکہ ایران کے معاملے میں مستقل اور فیصلہ کن موقف اختیار کر سکتا ہے۔ اس بیان کے علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایران کو اپنے دفاعی موقف کو مزید سخت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایک ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں میں خلل اور پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ایک علاقائی دفاعی ماہر نے پاکش نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا،
"ٹرمپ کا بیان محض سیاسی بیان بازی نہیں ہے، بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں امریکی مداخلت کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔"
اسرائیلی حملے: تہران اور بیروت میں اہداف
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد اسرائیل کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مضافاتی علاقے پر کیے گئے اسرائیل حملہ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تہران میں کیے گئے حملوں کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے فوجی اور سائنسی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جن کا تعلق بظاہر اس کے جوہری یا میزائل پروگرام سے ہو سکتا ہے۔ ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
بیروت کے مضافاتی علاقے میں کیے گئے حملوں کا ہدف ممکنہ طور پر حزب اللہ کے ٹھکانے تھے۔ حزب اللہ، جو کہ ایران کی حمایت یافتہ ایک مضبوط ملیشیا ہے، طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ پراکسی جنگ میں ملوث رہی ہے۔ لبنان کی حکومت نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کو روکے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور غزہ میں جاری جنگ کے بعد سے خطے میں عمومی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ان حملوں کے پیچھے اسرائیل کا مقصد ایران کو اس کے جوہری عزائم اور علاقائی اثر و رسوخ سے باز رکھنا ہو سکتا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کو کسی بھی قیمت پر روکنے کا عزم رکھتا ہے۔ بیروت پر حملہ حزب اللہ کو ایک سخت پیغام دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیوں کو محدود کرے۔
خطے پر بڑھتی کشیدگی کے اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی پاکستان، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے گہرے اقتصادی اور سلامتی کے مضمرات رکھتی ہے۔ تیل کی عالمی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے، خطرے میں پڑ سکتی ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
علاقائی استحکام پہلے ہی نازک حالت میں ہے، اور کسی بھی بڑی فوجی کارروائی سے ایک وسیع تر علاقائی تصادم بھڑک سکتا ہے۔ یہ صورتحال علاقائی طاقتوں کو اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے پر مجبور کر سکتی ہے اور انہیں مختلف بلاکس میں تقسیم کر سکتی ہے، جس سے طویل مدتی امن کے امکانات مزید دھندلا جائیں گے۔ عالمی طاقتیں، جن میں امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ شامل ہیں، نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، فوری طور پر کسی ٹھوس سفارتی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
مستقبل کا منظرنامہ غیر یقینی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور اسرائیل کے حالیہ اسرائیل حملہ نے علاقائی سیاست میں ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ بصورت دیگر، خطہ ایک ایسے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے نتائج نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی ہوگی اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔