میٹا پر بچوں کو لت لگانے کا الزام، امریکی عدالت میں اہم سماعت
امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) پر بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے کے سنگین الزامات کے تحت ایک اہم عدالتی مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔...
اس مضمون سے پوچھیں
امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) پر بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے کے سنگین الزامات کے تحت ایک اہم عدالتی مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔ میٹا نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ سوشل میڈیا کی لت جیسی کوئی چیز موجود ہی نہیں، جبکہ یہ مقدمہ دنیا بھر میں نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ٹیکنالوجی کے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو نمایاں کرتا ہے۔ اس عدالتی کارروائی کے نتائج عالمی سطح پر سوشل میڈیا کمپنیوں کے ضوابط اور ان کے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ایک نظر میں
امریکی ریاستوں نے میٹا پر فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے بچوں کو لت لگانے کا الزام لگایا ہے۔ کمپنی نے لت کے وجود سے انکار کیا۔
- میٹا کے خلاف یہ مقدمہ کس بارے میں ہے؟ یہ مقدمہ امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) پر بچوں اور نوجوانوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے کے الزامات کے حوالے سے ہے۔ مدعیان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر ایسے فیچرز ڈیزائن کیے جو نوجوانوں کی نفسیاتی کمزوریوں کا استحصال کرتے ہیں۔
- میٹا پر کیا الزامات لگائے گئے ہیں؟ میٹا پر الزام ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارمز کو لت لگانے والے انداز میں ڈیزائن کیا ہے، جس سے نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن، خود اعتمادی کی کمی اور نیند میں خلل جیسے ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی پر مالی مفادات کے لیے بچوں کی کمزوریوں کا استحصال کرنے کا بھی الزام ہے۔
- اس مقدمے کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ اگر مدعی ریاستیں مقدمہ جیت جاتی ہیں تو میٹا کو بھاری جرمانے اور اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فیصلہ دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف بھی اسی طرح کے مقدمات کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر سوشل میڈیا ضوابط کو سخت کر سکتا ہے۔
یہ عدالتی جنگ ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب والدین، اساتذہ اور ماہرین نفسیات کی جانب سے سوشل میڈیا کے بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کے حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا نے جان بوجھ کر ایسے فیچرز ڈیزائن کیے جو نوجوان صارفین کو ان کے پلیٹ فارمز پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اضطراب، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, فوری: میٹا کو بچوں کی پرائیویسی مقدمے میں بڑا دھچکا، پلیٹ فارمز میں تبدیلی کا….
- مقدمے کا آغاز: امریکی ریاستوں نے میٹا پر بچوں کو سوشل میڈیا کی لت لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے، جس کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔
- میٹا کا موقف: کمپنی نے سوشل میڈیا کی لت کے وجود سے انکار کیا ہے اور اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن کا دفاع کیا ہے۔
- بنیادی الزام: مدعیان کا دعویٰ ہے کہ میٹا نے ایسے فیچرز بنائے جو جان بوجھ کر نوجوان صارفین کو پلیٹ فارمز پر زیادہ وقت گزارنے پر راغب کرتے ہیں۔
- تشویش کا مرکز: یہ مقدمہ بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے عالمی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
- ممکنہ اثرات: عدالتی فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ضوابط اور ان کے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
مقدمے کی نوعیت اور میٹا کا دفاع
امریکی ریاستوں کے ایک گروپ نے، جس میں کیلیفورنیا اور فلوریڈا جیسی بڑی ریاستیں شامل ہیں، میٹا پر الزام لگایا ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس طرح سے ڈیزائن کیا ہے کہ وہ بچوں اور نوعمروں کو اپنی طرف راغب کریں اور انہیں لت میں مبتلا کریں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، مدعیان کا دعویٰ ہے کہ میٹا نے اپنے مالی مفادات کے لیے نوجوان صارفین کی نفسیاتی کمزوریوں کا استحصال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارمز پر 'لائیکس' اور 'شیئرز' کے نظام، لامتناہی اسکرولنگ، اور نوٹیفکیشن الرٹس جیسے فیچرز کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ ڈوپامائن کے اخراج کو متحرک کریں، جو لت کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، میٹا نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عدالت میں اپنا دفاع پیش کیا۔ کمپنی کے وکلاء کا موقف ہے کہ سوشل میڈیا کی لت جیسی کوئی سائنسی طور پر ثابت شدہ حالت موجود نہیں ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ ان کے پلیٹ فارمز صارفین کو ایک دوسرے سے جڑنے اور اپنی دلچسپیوں کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اور وہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے متعدد ٹولز اور پالیسیاں نافذ کر چکے ہیں۔
کمپنی نے یہ بھی دلیل دی کہ صارفین کا پلیٹ فارم پر گزارا گیا وقت ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے اور اس پر کمپنی کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔
عدالتی دلائل اور شواہد
مقدمے کی سماعت کے دوران، مدعی ریاستوں نے مختلف ماہرین نفسیات اور ڈیٹا سائنسدانوں کے شواہد پیش کیے ہیں۔ ان شواہد میں ان مطالعات کا حوالہ دیا گیا ہے جو سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال اور نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن، خود اعتمادی کی کمی اور نیند میں خلل کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکی اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (American Academy of Pediatrics) کی 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، نو سے بارہ سال کی عمر کے بچوں میں سے 95 فیصد روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، اور ان میں سے ایک تہائی بچے ایسے ہیں جو ہر وقت آن لائن رہتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
میٹا نے اپنے دفاع میں اندرونی تحقیقات اور ماہرین کی آراء پیش کیں، جن کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کے مثبت پہلو بھی ہیں، جیسے کہ سماجی حمایت حاصل کرنا اور معلومات تک رسائی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ بچوں کی عمر کی تصدیق کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور والدین کو کنٹرول فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی نگرانی کر سکیں۔ تاہم، مدعیان کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور میٹا کے ڈیزائن میں بنیادی نقائص موجود ہیں جو نوجوانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ماہرین کی آراء اور سائنسی شواہد
اس مقدمے نے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ٹیکنالوجی کے اثرات کے بارے میں ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ڈیزائن، جس میں مسلسل نوٹیفکیشنز، ورچوئل انعامات، اور سماجی موازنے کی ترغیب شامل ہے، انسانی دماغ کے ڈوپامائن سسٹم کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے لت لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ احمد، ایک معروف ماہر نفسیات جو بچوں اور نوعمروں کے رویوں پر تحقیق کرتی ہیں، نے اس حوالے سے کہا، "سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں کچھ ایسے عناصر شامل ہیں جو جوئے یا منشیات کی لت کے مشابہ ہیں۔ مسلسل تصدیق کی تلاش، نئے مواد کی امید، اور سماجی دباؤ نوجوانوں کے دماغ کو اس طرح سے متاثر کرتے ہیں کہ وہ بار بار پلیٹ فارمز پر واپس آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ " انہوں نے مزید کہا، "یہ محض 'پسند' یا 'ناپسند' کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی رجحان ہے جو نوجوانوں کی خود اعتمادی اور تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔
"
اسی طرح، ڈاکٹر عمران خان، ایک ٹیکنالوجی اخلاقیات کے ماہر، نے تبصرہ کیا، "کمپنیوں کے لیے یہ کہنا آسان ہے کہ لت جیسی کوئی چیز نہیں، لیکن اعداد و شمار اور طبی رپورٹس کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔ جب کسی پروڈکٹ کا ڈیزائن اس طرح سے کیا جائے کہ وہ صارف کو زیادہ سے زیادہ وقت تک مصروف رکھے، تو یہ اخلاقی حدود کو عبور کر جاتا ہے، خاص طور پر جب صارفین بچے ہوں۔" ان کے مطابق، 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جو بچے دن میں تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن اور اضطراب کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
نفسیاتی اثرات پر تحقیق
متعدد تحقیقات نے سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال اور نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان براہ راست تعلق قائم کیا ہے۔ مثال کے طور پر، جریدے 'جرنل آف ایڈولیسنٹ ہیلتھ' میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جو نوعمر روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں خودکشی کے خیالات آنے کا امکان ان نوعمروں کے مقابلے میں دوگنا ہو جاتا ہے جو کم استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصان دہ اثرات کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ایک حالیہ مطالعے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ان کی نیند کے پیٹرن کو متاثر کرتا ہے، جس سے تعلیمی کارکردگی اور مجموعی مزاج پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ مطالعات میٹا کے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہیں کہ لت کا کوئی وجود نہیں، اور عدالتی مقدمے میں ان شواہد کا اہم کردار ہو گا۔
قانون سازی اور عالمی ردعمل
میٹا کے خلاف یہ مقدمہ امریکہ میں بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی قانون سازی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کئی امریکی ریاستیں اور وفاقی حکومت بچوں کو آن لائن نقصان سے بچانے کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے پر غور کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، یوتاہ اور آرکنساس جیسی ریاستوں نے ایسے قوانین منظور کیے ہیں جو بچوں کو والدین کی رضامندی کے بغیر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے سے روکتے ہیں اور رات کے اوقات میں ان کے استعمال پر پابندی لگاتے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین نے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) نافذ کیا ہے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کو ہٹانے کا پابند بناتا ہے، اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات پر زور دیتا ہے۔ برطانیہ میں آن لائن سیفٹی بل بھی منظور کیا گیا ہے جس کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومتیں اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ان کے پلیٹ فارمز پر ہونے والی سرگرمیوں کے لیے زیادہ جوابدہ ٹھہرا رہی ہیں۔
پاکستان اور خلیجی ممالک پر ممکنہ اثرات
پاکستان اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی خطے کے ممالک میں بھی سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں، اور ان پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے اسی طرح کے خدشات وہاں بھی موجود ہیں۔ اگر امریکہ میں میٹا کے خلاف فیصلہ آتا ہے، تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے اور یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کی حکومتوں کو بھی مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنے ہاں سوشل میڈیا کے استعمال اور بچوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین بنائیں۔
متحدہ عرب امارات میں ڈیٹا پرائیویسی پروٹیکشن لاء (PDPL) جیسے قوانین موجود ہیں جو صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں، لیکن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر براہ راست کنٹرول کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی پیمرا اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے سوشل میڈیا کے ضوابط پر کام جاری ہے، اور امریکی عدالتی فیصلے سے ان کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ اس سے مقامی ٹیک ایکو سسٹم میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے، جہاں سٹارٹ اپس کو اپنے پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے نئی گائیڈ لائنز پر عمل کرنا پڑ سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
میٹا کے خلاف یہ مقدمہ کئی سالوں تک جاری رہ سکتا ہے، اور اس کے نتائج دور رس ہوں گے۔ اگر مدعی ریاستیں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کہ میٹا نے جان بوجھ کر لت لگانے والے ڈیزائن استعمال کیے، تو کمپنی کو بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اسے اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فیصلہ دیگر ٹیک کمپنیوں کے خلاف بھی اسی طرح کے مقدمات کے دروازے کھول سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس مقدمے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری کی نئی تعریف کر سکتا ہے۔ اب تک، کمپنیاں اپنے آپ کو صرف ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے والا سمجھتی تھیں، لیکن یہ مقدمہ انہیں اپنے مواد اور ڈیزائن کے اثرات کے لیے زیادہ جوابدہ ٹھہرا سکتا ہے۔ اس سے ممکنہ طور پر انڈسٹری میں خود مختار ریگولیشنز میں اضافہ ہو گا یا حکومتی مداخلت مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، یہ مقدمہ والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بچوں میں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ اس سے ڈیجیٹل خواندگی کے پروگراموں کو تقویت ملے گی اور نوجوانوں کو آن لائن دنیا میں محفوظ رہنے کے طریقے سکھائے جائیں گے۔ آئندہ مہینوں میں عدالتی کارروائی کی پیش رفت پر عالمی میڈیا کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
ڈیجیٹل ذمہ داری کا بڑھتا ہوا چیلنج
جیسے جیسے ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے، ڈیجیٹل ذمہ داری کا تصور بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ میٹا جیسے بڑے اداروں کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور ان کے صارفین پر پڑنے والے اثرات کا از سر نو جائزہ لیں۔ اس مقدمے کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، یہ واضح ہے کہ سوشل میڈیا کے بچوں کی ذہنی صحت پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اس مسئلے کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں، حکومتوں، والدین اور ماہرین کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
پاکستان اور خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ ایک سبق ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے فعال اقدامات کریں۔ اس میں نہ صرف قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا شامل ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سیفٹی کی تعلیم کو بھی فروغ دینا ہو گا۔
اہم نکات
- میٹا کے خلاف مقدمہ: امریکی ریاستوں نے بچوں کو سوشل میڈیا کی لت لگانے پر میٹا کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
- کمپنی کا انکار: میٹا نے سوشل میڈیا لت کے وجود سے انکار کیا اور اپنے پلیٹ فارم ڈیزائن کا دفاع کیا۔
- ذہنی صحت کے خدشات: مقدمہ نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل میں سوشل میڈیا کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
- ماہرین کی رائے: ڈاکٹر فاطمہ احمد اور ڈاکٹر عمران خان جیسے ماہرین نے سوشل میڈیا کے لت لگانے والے ڈیزائن اور اس کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
- ممکنہ نتائج: عدالتی فیصلے سے میٹا کو بھاری جرمانے اور پلیٹ فارم ڈیزائن میں تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور دیگر کمپنیوں پر بھی اثر پڑے گا۔
- عالمی اور علاقائی اثرات: امریکہ میں فیصلے کے بعد پاکستان اور خلیجی ممالک میں بھی سوشل میڈیا کے ضوابط اور بچوں کے تحفظ کے قوانین سخت ہو سکتے ہیں۔
اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں
- میٹا
- سوشل میڈیا
- لت
- بچوں کی ذہنی صحت
- امریکی عدالت
- فیس بک
- انسٹاگرام
- ٹیکنالوجی کے اثرات
- ٹیکنالوجی
- Meta
- hooked
- children
معتبر ذرائع:
متعلقہ خبریں
- فوری: میٹا کو بچوں کی پرائیویسی مقدمے میں بڑا دھچکا، پلیٹ فارمز میں تبدیلی کا امکان
- وال اسٹریٹ کا این ویڈیا کو اے آئی منصوبوں کے لیے ۵۰۰ ارب ڈالر فراہم
- اے آئی ایجنٹ نے پائلٹس کلاس میں جگہ حاصل کرنے کے لیے جم ہیک کیا
آرکائیو دریافت
- پلے اسٹیشن نیٹ ورک کی عالمی بندش، ہزاروں گیمرز متاثر
- ٹرمپ کا یورپی یونین کی ٹیک کمپنیوں پر جرمانے کی تحقیقات کا اعلان
- فوری: کاغذ ری سائیکلنگ میں چپکنے والے مواد کا خاتمہ، نئی ٹیکنالوجی متعارف
اکثر پوچھے گئے سوالات
میٹا کے خلاف یہ مقدمہ کس بارے میں ہے؟
یہ مقدمہ امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) پر بچوں اور نوجوانوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے کے الزامات کے حوالے سے ہے۔ مدعیان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر ایسے فیچرز ڈیزائن کیے جو نوجوانوں کی نفسیاتی کمزوریوں کا استحصال کرتے ہیں۔
میٹا پر کیا الزامات لگائے گئے ہیں؟
میٹا پر الزام ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارمز کو لت لگانے والے انداز میں ڈیزائن کیا ہے، جس سے نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن، خود اعتمادی کی کمی اور نیند میں خلل جیسے ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی پر مالی مفادات کے لیے بچوں کی کمزوریوں کا استحصال کرنے کا بھی الزام ہے۔
اس مقدمے کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟
اگر مدعی ریاستیں مقدمہ جیت جاتی ہیں تو میٹا کو بھاری جرمانے اور اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فیصلہ دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف بھی اسی طرح کے مقدمات کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر سوشل میڈیا ضوابط کو سخت کر سکتا ہے۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.
یہ خبر شیئر کریں