کراچی: عالمی بحرانوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران سونا ہمیشہ سے ایک 'محفوظ پناہ گاہ' سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سرمایہ کار اپنے اثاثوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے باوجود، سونے کی قیمتوں نے اس روایتی رجحان کے برعکس غیر متوقع گراوٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ عالمی منڈی میں فی اونس سونے کی قیمت میں ۲۴۳ ڈالر کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد یہ ۴,۷۶۷ ڈالر فی اونس پر آگئی ہے۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں مقامی منڈیوں میں بھی سونے کی قیمتیں تیزی سے گر گئی ہیں۔

ایک نظر میں

عالمی تنازعات کے باوجود سونے کی قیمتیں گر گئیں، پاکستان میں ۱۰ گرام سونا ۴۲۸,۲۰۸ اور ایک تولہ ۴۹۹,۴۶۲ روپے کا ہو گیا، جس نے 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت پر سوال اٹھا دیا۔

  • مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باوجود سونے کی قیمتیں کیوں گر رہی ہیں؟ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں امریکی ڈالر کی مضبوطی، شرح سود میں اضافے کے امکانات، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مارکیٹ میں یہ تاثر ہے کہ یہ تنازعات عالمی معیشت کو براہ راست بڑے پیمانے پر متاثر نہیں کریں گے۔
  • پاکستانی مقامی منڈی میں سونے کی قیمتوں پر اس گراوٹ کا کیا اثر پڑا ہے؟ عالمی منڈی میں گراوٹ کے بعد، پاکستان میں ۱۰ گرام سونے کی قیمت ۲۰,۸۳۳ روپے کی کمی سے ۴۲۸,۲۰۸ روپے اور ایک تولہ سونے کی قیمت ۲۴,۳۰۰ روپے گر کر ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر آ گئی ہے۔ یہ کمی ان افراد کے لیے خریداری کا موقع فراہم کرتی ہے جو سونا خریدنا چاہتے ہیں، لیکن ان سرمایہ کاروں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے جنہوں نے زیادہ قیمتوں پر سونا خریدا تھا۔
  • مستقبل میں سونے کی قیمتوں کے بارے میں کیا پیش گوئیاں ہیں؟ مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال، معیشت کی کارکردگی اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں پر ہو گا۔ اگر عالمی کشیدگی بڑھتی ہے یا معیشت کمزور ہوتی ہے تو سونا اپنی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم، مستحکم معیشت اور بلند شرح سود سونے پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔
  • عالمی منڈی میں سونا ۲۴۳ ڈالر گر کر ۴,۷۶۷ ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
  • مقامی منڈی میں ۱۰ گرام سونے کی قیمت ۲۰,۸۳۳ روپے کی کمی سے ۴۲۸,۲۰۸ روپے ہو گئی۔
  • ایک تولہ سونے کی قیمت ۲۴,۳۰۰ روپے گر کر ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر آ گئی۔
  • ۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مبینہ حملے کے بعد ۱۰ گرام سونا ۴۷۲,۰۱۸ روپے اور ایک تولہ ۵۵۰,۵۶۲ روپے پر تھا، جبکہ عالمی قیمت ۵,۲۷۸ ڈالر تھی۔
  • سونے کی روایتی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

خلاصہ: عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر متوقع گراوٹ نے سرمایہ کاروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود اس کی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت کمزور پڑ گئی ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, پاکستان میں طوفانی بارشوں اور آندھی سے 18 ہلاکتیں، کیا موسمیاتی تبدیلیوں کا یہ….

تاریخی طور پر، سونا ہمیشہ سے مالیاتی عدم استحکام، افراط زر اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے خلاف ایک دفاعی اثاثہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب بھی عالمی معیشت پر خطرات منڈلاتے ہیں یا بڑے تنازعات سر اٹھاتے ہیں، سرمایہ کار اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ۲۰۰۸ کے عالمی مالیاتی بحران، ۹/۱۱ کے حملوں، یا دیگر بڑے عالمی واقعات کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، جو اس کی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت کا واضح ثبوت تھا۔ اسی وجہ سے، موجودہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، جہاں جنگی تناؤ عروج پر ہے، سونے کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بننا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

۲۸ فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مبینہ حملے کی خبریں سامنے آئیں، تو عالمی سطح پر سونے کی قیمت ۵,۲۷۸ ڈالر فی اونس تھی، جس کے مطابق مقامی مارکیٹ میں ۱۰ گرام سونا ۴۷۲,۰۱۸ روپے اور ایک تولہ سونا ۵۵۰,۵۶۲ روپے پر فروخت ہو رہا تھا۔ اس وقت مارکیٹ میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ تناؤ میں مزید اضافے کے ساتھ سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ تاہم، اس کے بعد سے صورتحال نے پلٹا کھایا ہے اور عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں ۲۴۳ ڈالر فی اونس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے اسے ۴,۷۶۷ ڈالر فی اونس پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس گراوٹ نے مقامی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں ۱۰ گرام سونے کی قیمت ۲۰,۸۳۳ روپے کی کمی سے ۴۲۸,۲۰۸ روپے ہو گئی ہے، جبکہ ایک تولہ سونے کی قیمت ۲۴,۳۰۰ روپے کم ہو کر ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر آ گئی ہے۔

عالمی منڈی میں بدلتے رجحانات اور سونے کی نئی حیثیت

سونے کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی گراوٹ کئی عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جو اس کی روایتی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق، امریکی ڈالر کی مضبوطی ایک اہم وجہ ہے۔ جب عالمی سطح پر ڈالر مضبوط ہوتا ہے، تو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب میں کمی آتی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے یا اس کے برقرار رہنے کے امکانات بھی سونے پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ بلند شرح سود بانڈز اور دیگر سود پر مبنی اثاثوں کو زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے، جس سے سرمایہ کار سونے سے نکل کر ان اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔

معروف مالیاتی تجزیہ کار احمد حسن کا کہنا ہے کہ، “بہت سے سرمایہ کار یہ سوال کر رہے ہیں کہ عالمی تنازعات کے باوجود سونے کی قیمتیں کیوں گر رہی ہیں؟ ماہرین اقتصادیات اس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں، سرمایہ کاروں کی توجہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے بجائے عالمی معیشت کی صحت اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں پر زیادہ مرکوز ہے۔ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یہ تنازعات عالمی معیشت کو براہ راست اور بڑے پیمانے پر متاثر نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں سونے کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔” انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سرمایہ کار مختصر مدت کے لیے منافع کمانے کی غرض سے بھی سونے کو فروخت کرتے ہیں، جس سے قیمتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں یہ گراوٹ عالمی سطح پر حصص بازاروں میں نسبتاً استحکام اور بعض دیگر کموڈٹیز میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف سونے کو ہی واحد 'محفوظ پناہ گاہ' نہیں سمجھتے بلکہ وہ مختلف اثاثہ جات میں سرمایہ کاری کرکے اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنا رہے ہیں۔

پاکستانی معیشت پر سونے کی گراوٹ کے ممکنہ اثرات

پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا عالمی منڈی سے گہرا تعلق ہے۔ عالمی قیمتوں میں کمی کا براہ راست اثر مقامی خریداروں اور سرمایہ کاروں پر ہوتا ہے۔ ان قیمتوں میں گراوٹ ان افراد کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتی ہے جو سونا خریدنے کے خواہشمند ہیں یا شادی بیاہ کے لیے زیورات بنوانا چاہتے ہیں۔ تاہم، یہ ان سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بھی ہے جنہوں نے زیادہ قیمتوں پر سونا خریدا تھا، کیونکہ انہیں اب نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر بھی سونے کی مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر عالمی سطح پر سونا گرتا ہے لیکن مقامی کرنسی کی قدر میں بھی کمی آجائے تو سونے کی قیمت میں گراوٹ کا اثر کم ہو سکتا ہے یا بعض صورتوں میں قیمت برقرار بھی رہ سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق، “پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، سونا نہ صرف ایک سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ثقافتی اور سماجی طور پر بھی اہم ہے۔ موجودہ گراوٹ قلیل مدتی خریداروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدتی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا ہو گا۔ عالمی منڈی میں استحکام اور ڈالر کی قدر کا رجحان پاکستانی سونے کی قیمتوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو سونے کی درآمدات اور برآمدات پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

سونے کی قیمتوں میں کمی کا اثر ملک کی مجموعی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر سونا سستا ہوتا ہے تو اس سے زیورات کی صنعت کو فائدہ ہو سکتا ہے، جہاں طلب میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ صنعت روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ تاہم، اگر لوگ سونے میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں اور دیگر اثاثوں کا رخ کرتے ہیں، تو یہ سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ یہ تبدیلی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے لیکن ساتھ ہی کچھ روایتی شعبوں پر دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔

مستقبل کی پیش گوئیاں: سونے کی قدر کا اگلا رخ کیا ہوگا؟

مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا رخ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال، عالمی معیشت کی کارکردگی، اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں پر منحصر ہو گا۔ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگتا ہے، تو سونا ایک بار پھر اپنی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر عالمی معیشت مستحکم رہتی ہے اور مرکزی بینک شرح سود میں کمی نہیں کرتے، تو سونے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

بینکنگ سیکٹر کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری ایک اہم عنصر ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر مرکزی بینک اپنے ذخائر میں اضافہ جاری رکھتے ہیں، تو یہ سونے کی قیمتوں کو سہارا دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی افراط زر کا رجحان بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو گا۔ اگر افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے، تو سونا اس کے خلاف ایک بہترین ہیج کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کو متنوع رکھیں اور صرف ایک اثاثے پر انحصار نہ کریں۔ طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے سونا اب بھی ایک قابل قدر اثاثہ ہے، لیکن قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

بالآخر، سونے کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔ 'محفوظ پناہ گاہ' کے روایتی تصورات اب ہمیشہ یکساں نہیں رہتے اور سرمایہ کاروں کو بدلتے ہوئے رجحانات اور عوامل کو سمجھنا ہو گا۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عالمی اور مقامی دونوں سطح پر ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں اور اپنے مالیاتی فیصلوں کو ٹھوس معلومات اور ماہرین کے تجزیے کی بنیاد پر کریں۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باوجود سونے کی قیمتیں کیوں گر رہی ہیں؟

جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں امریکی ڈالر کی مضبوطی، شرح سود میں اضافے کے امکانات، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مارکیٹ میں یہ تاثر ہے کہ یہ تنازعات عالمی معیشت کو براہ راست بڑے پیمانے پر متاثر نہیں کریں گے۔

پاکستانی مقامی منڈی میں سونے کی قیمتوں پر اس گراوٹ کا کیا اثر پڑا ہے؟

عالمی منڈی میں گراوٹ کے بعد، پاکستان میں ۱۰ گرام سونے کی قیمت ۲۰,۸۳۳ روپے کی کمی سے ۴۲۸,۲۰۸ روپے اور ایک تولہ سونے کی قیمت ۲۴,۳۰۰ روپے گر کر ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر آ گئی ہے۔ یہ کمی ان افراد کے لیے خریداری کا موقع فراہم کرتی ہے جو سونا خریدنا چاہتے ہیں، لیکن ان سرمایہ کاروں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے جنہوں نے زیادہ قیمتوں پر سونا خریدا تھا۔

مستقبل میں سونے کی قیمتوں کے بارے میں کیا پیش گوئیاں ہیں؟

مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال، معیشت کی کارکردگی اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں پر ہو گا۔ اگر عالمی کشیدگی بڑھتی ہے یا معیشت کمزور ہوتی ہے تو سونا اپنی 'محفوظ پناہ گاہ' کی حیثیت دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم، مستحکم معیشت اور بلند شرح سود سونے پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔