اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|26 اگست، 2026|8 منٹ مطالعہ

پی آئی ایم ایس آتشزدگی: گیلانی کا گہرا دکھ، ۱۴ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں ہونے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں ۱۴ نوزائیدہ بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔...

اس مضمون سے پوچھیں

پی آئی ایم ایس آتشزدگی: گیلانی کا گہرا دکھ، ۱۴ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار

  • واقعہ: اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں آتشزدگی۔
  • نقصانات: نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی سے ۱۴ شیر خوار ہلاک ہوئے۔
  • ردِ عمل: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
  • اہمیت: یہ واقعہ ملک میں ہسپتالوں کی حفاظت اور ایمرجنسی ردعمل کے معیار پر سوالات اٹھاتا ہے۔

اسلام آباد کے معروف مستشفى پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں گزشتہ بدھ کو پیش آنے والے ایک المناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دلخراش واقعے میں ۱۴ نوزائیدہ بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، اور اس سانحے کو قومی نقصان قرار دیا۔

ایک نظر میں

پی آئی ایم ایس مستشفى میں آتشزدگی سے ۱۴ نوزائیدہ بچوں کی المناک ہلاکت پر چیئرمین سینیٹ گیلانی کا گہرا دکھ، تحقیقات کا مطالبہ۔

  • پی آئی ایم ایس میں آتشزدگی کا واقعہ کب پیش آیا؟ اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں آتشزدگی کا یہ المناک واقعہ گزشتہ بدھ کو پیش آیا، جس کی اطلاع فوری طور پر حکام کو دی گئی تھی۔
  • اس واقعے میں کتنے نوزائیدہ بچے ہلاک ہوئے؟ پی آئی ایم ایس میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی اس آگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر ۱۴ شیر خوار بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو ایک انتہائی دلخراش صورتحال ہے۔
  • چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا ردعمل کیا تھا؟ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ مستشفیٰ کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آیا، جس نے فوری طور پر ملک بھر میں صحت کے اداروں میں حفاظتی انتظامات کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, عید میلاد النبی: ملک بھر میں سکیورٹی اور ٹریفک کے جامع انتظامات.

سید یوسف رضا گیلانی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق، آتشزدگی کی ابتدائی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ سامنے آئے گی۔

واقعے کا پس منظر اور ابتدائی تفصیلات

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، جسے عام طور پر پی آئی ایم ایس کے نام سے جانا جاتا ہے، اسلام آباد کا ایک بڑا اور اہم سرکاری مستشفى ہے۔ یہ نہ صرف دارالحکومت بلکہ گرد و نواح کے علاقوں سے بھی ہزاروں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اے پی پی کے مطابق، آتشزدگی کا یہ واقعہ بدھ کی صبح نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پیش آیا۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا، لیکن تب تک بہت قیمتی جانیں ضائع ہو چکی تھیں۔

اس واقعے نے مستشفیٰ انتظامیہ اور حکومتی اداروں کی فوری توجہ حاصل کی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ نوزائیدہ بچوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ مستشفى ذرائع نے بتایا کہ وارڈ میں آکسیجن اور دیگر آتش گیر گیسوں کی موجودگی نے آگ کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث نقصان کی شدت میں اضافہ ہوا۔ یہ واقعہ پاکستان کے صحت کے ڈھانچے میں موجود کمزوریوں اور حفاظتی انتظامات کی ناکامی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔

ماہرین کا تجزیہ اور حفاظتی انتظامات پر سوالات

اس المناک واقعے کے بعد، ماہرین نے ملک بھر کے ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ کے اقدامات اور ایمرجنسی ردعمل کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد علی ، جو ایک معروف صحت پالیسی ماہر ہیں، نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ "پاکستان میں زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے معیارات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا۔ پرانے وائرنگ سسٹم، ناکافی فائر الارم، اور تربیت یافتہ عملے کی کمی ایسے واقعات کو دعوت دیتی ہے۔

" انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات نہ صرف پی آئی ایم ایس بلکہ دیگر تمام بڑے ہسپتالوں کے لیے ایک سبق ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر سارہ خان ، جو ایک ماہر نفسیات ہیں، نے متاثرہ خاندانوں پر پڑنے والے گہرے نفسیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ "نوزائیدہ بچوں کا یوں اچانک بچھڑ جانا والدین کے لیے ناقابل برداشت صدمہ ہے۔ حکومت کو نہ صرف مالی امداد بلکہ نفسیاتی مشاورت کی سہولیات بھی فراہم کرنی چاہییں تاکہ یہ خاندان اس جان لیوا صدمے سے نکل سکیں۔

" ان ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ، قومی سطح پر ہسپتالوں کی فائر سیفٹی آڈٹ کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

اثرات کا جائزہ: عوام، صحت کا نظام اور حکومتی ردعمل

پی آئی ایم ایس آتشزدگی کا واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک ذاتی سانحہ ہے بلکہ اس کے وسیع تر اثرات پاکستان کے صحت کے نظام اور عوام کے اعتماد پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات اور حفاظتی معیار پر عوامی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومتی سطح پر، چیئرمین سینیٹ کے علاوہ، دیگر اعلیٰ حکام نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ صحت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا مقصد آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات پیش کرنا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں صحت کے اداروں کی ایمرجنسی تیاریوں اور عملے کی تربیت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر مریضوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔

آگے کیا ہوگا: تحقیقاتی عمل اور ممکنہ اصلاحات

اس واقعے کے بعد، توقع ہے کہ ایک جامع تحقیقاتی عمل شروع کیا جائے گا۔ اس کمیٹی میں فائر سیفٹی ماہرین، انجینئرز اور طبی ماہرین شامل ہوں گے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ، حفاظتی انتظامات کی خامیوں اور ایمرجنسی ردعمل کے طریقہ کار میں موجود نقائص کی نشاندہی کی جا سکے۔ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں، ممکنہ طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ہسپتالوں کے لیے نئی حفاظتی گائیڈ لائنز مرتب کی جائیں گی۔

حکومت پر دباؤ ہوگا کہ وہ نہ صرف پی آئی ایم ایس بلکہ ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دے۔ اس میں پرانے بجلی کے نظام کو تبدیل کرنا، جدید فائر الارم سسٹم نصب کرنا، اور ہسپتال کے عملے کو فائر سیفٹی اور ایمرجنسی انخلا کی تربیت دینا شامل ہوگا۔ یہ طویل المدتی اصلاحات پاکستان کے صحت کے شعبے کو زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

اہم نکات

  • سید یوسف رضا گیلانی: چیئرمین سینیٹ نے پی آئی ایم ایس آتشزدگی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، ۱۴ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت پر سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔
  • پی آئی ایم ایس: اسلام آباد کا ایک بڑا سرکاری مستشفى جہاں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
  • نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت: اس واقعے میں ۱۴ شیر خوار بچوں کی جانیں چلی گئیں، جس نے قومی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا۔
  • تحقیقات: حکومتی سطح پر واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ وجوہات کا تعین اور ذمہ داروں کا احتساب ہو سکے۔
  • صحت کے نظام پر اثرات: اس واقعے نے پاکستان میں ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی ردعمل اور پرانے ڈھانچے کی خامیوں پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
  • مستقبل کی اصلاحات: ماہرین نے ملک بھر کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ اور جدید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عمومی سوالات (FAQs)

پی آئی ایم ایس میں آتشزدگی کا واقعہ کب پیش آیا؟

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں آتشزدگی کا یہ المناک واقعہ گزشتہ بدھ کو پیش آیا، جس کی اطلاع فوری طور پر حکام کو دی گئی تھی۔

اس واقعے میں کتنے نوزائیدہ بچے ہلاک ہوئے؟

پی آئی ایم ایس میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی اس آگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر ۱۴ شیر خوار بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو ایک انتہائی دلخراش صورتحال ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا ردعمل کیا تھا؟

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • پی آئی ایم ایس
  • آتشزدگی
  • یوسف رضا گیلانی
  • نوزائیدہ بچے
  • ہسپتال کی حفاظت
  • pakistan
  • Gilani
  • expresses
  • deep
  • grief
  • over

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

پی آئی ایم ایس میں آتشزدگی کا واقعہ کب پیش آیا؟

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں آتشزدگی کا یہ المناک واقعہ گزشتہ بدھ کو پیش آیا، جس کی اطلاع فوری طور پر حکام کو دی گئی تھی۔

اس واقعے میں کتنے نوزائیدہ بچے ہلاک ہوئے؟

پی آئی ایم ایس میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی اس آگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر ۱۴ شیر خوار بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو ایک انتہائی دلخراش صورتحال ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا ردعمل کیا تھا؟

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).