عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر، پاکستان اور خلیج متاثر
عالمی اقتصادی غیر یقینی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے پاکستان اور خلیجی ممالک کے صارفین اور سرمایہ کار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔...
گزشتہ چند ہفتوں سے عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اب یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس غیر معمولی اضافے نے پاکستان سمیت متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے صارفین اور سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک نظر میں
گزشتہ چند ہفتوں سے عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اب یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس غیر معمولی اضافے نے پاکستان سمیت متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے صارفین اور سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے
عالمی اقتصادی غیر یقینی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں، جن میں افراط زر کا دباؤ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری بھی شامل ہے۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق، سونے کی فی اونس قیمت 2,400 امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس نے مقامی منڈیوں میں بھی نئی ریکارڈ سطحیں قائم کی ہیں۔
- عالمی منڈی میں سونے کی قیمت فی اونس 2,400 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے۔
- پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے خریداروں کی قوت خرید متاثر ہوئی۔
- متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
- عالمی اقتصادی غیر یقینی، افراط زر کا دباؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی اس اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
- ماہرین آئندہ چند ماہ میں سونے کی قیمتوں میں مزید استحکام یا ممکنہ اضافے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
عالمی اقتصادی مبصرین کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ یہ عالمی اقتصادی ڈھانچے میں گہری تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مرکزی بینکوں نے 2,023 میں ریکارڈ مقدار میں سونا خریدا، اور یہ رجحان 2,024 میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ اقدام ڈالر پر انحصار کم کرنے اور اپنے ذخائر کو متنوع بنانے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس کے علاوہ، مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں، سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جہاں سرمایہ کار اپنے اثاثوں کو افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی سے بچانے کے لیے منتقل کرتے ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل (WGC) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2,024 کی پہلی سہ ماہی میں سونے کی عالمی طلب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر اثرات
پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا براہ راست تعلق عالمی منڈی سے ہوتا ہے، تاہم روپے کی قدر میں کمی اس کے اثرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد، پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس سے عام خریداروں خصوصاً شادی بیاہ کے لیے خریداری کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق، قیمتوں میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں سونے کی خرید و فروخت 40 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
مقامی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مہنگا سونا نہ صرف زیورات کی صنعت کو متاثر کر رہا ہے بلکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کی قوت خرید کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین مانیٹری پالیسی رپورٹ میں بھی افراط زر کے دباؤ کو سونے کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم محرک قرار دیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک میں سونے کی صورتحال
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک عالمی سونے کی تجارت کے اہم مراکز ہیں۔ یہاں سونے کی قیمتیں عالمی رجحانات کے مطابق ہی بڑھ رہی ہیں، تاہم مقامی کرنسیوں کی ڈالر کے ساتھ جکڑ بندی (peg) کی وجہ سے مقامی صارفین پر فوری اثرات قدرے مختلف ہو سکتے ہیں۔ دبئی گولڈ اینڈ جیولری گروپ کے مطابق، عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود سیاحوں کی جانب سے سونے کی خریداری میں کمی نہیں آئی، کیونکہ اسے ابھی بھی ایک پرکشش سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، مقامی افراد کے لیے، خصوصاً رمضان اور عید کی خریداری کے موسم میں، سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ بحرین، کویت اور قطر میں بھی سونے کی قیمتوں میں اسی طرح کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں سرمایہ کار اور عام شہری دونوں ہی قیمتوں میں استحکام کا انتظار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی مستحکم معیشتیں اس صدمے کو بہتر طور پر جذب کر سکتی ہیں، لیکن طویل مدتی رجحان مقامی مارکیٹوں کو بھی متاثر کرے گا۔
سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کیوں سمجھا جاتا ہے؟
سونا صدیوں سے ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جب بھی عالمی اقتصادی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے، حصص بازاروں میں گراوٹ آتی ہے، یا کرنسیوں کی قدر میں کمی ہوتی ہے، سرمایہ کار سونے کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سونا ایک ایسی اثاثہ کلاس ہے جو کسی بھی حکومت یا مرکزی بینک کی پالیسیوں سے براہ راست متاثر نہیں ہوتی، اور اس کی اپنی ایک اندرونی قدر ہوتی ہے۔
ماضی میں بھی کئی عالمی بحرانوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2,008 کے عالمی مالیاتی بحران اور کووڈ-19 وبا کے دوران بھی سونے نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سرمایہ کاری ماہرین کے مطابق، سونے کی محدود دستیابی اور اس کی ٹھوس شکل اسے افراط زر کے خلاف ایک بہترین ہیج بناتی ہے۔
ماہرین کی آراء اور آئندہ رجحانات
معروف اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق، "سونے کی موجودہ قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی افراط زر اور مرکزی بینکوں کی محتاط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جب تک عالمی معیشت استحکام حاصل نہیں کرتی، سونے کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "سرمایہ کاروں کو طویل مدتی نقطہ نظر سے سونے کو اپنے پورٹ فولیو کا حصہ بنانا چاہیے، لیکن قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔"
دوسری جانب، دبئی میں مقیم گولڈ مارکیٹ کے ماہر، مسٹر احمد العجمان کا کہنا ہے کہ "خلیجی خطے میں سونے کی طلب میں کمی نہیں آئی ہے، بلکہ سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال سونے کی قیمتوں کے لیے ایک اہم محرک بنی رہے گی۔" ان کا خیال ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی نہیں آتی تو سونا اپنی موجودہ بلند سطح پر برقرار رہ سکتا ہے، یا اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے لائحہ عمل
موجودہ صورتحال میں، صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ محتاط حکمت عملی اپنائیں۔ سونے کو محض زیور کے طور پر خریدنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات کو ترجیح دیں اور قیمتوں میں ممکنہ کمی کا انتظار کریں۔ تاہم، سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے، ماہرین سونے کو اپنے اثاثوں کا ایک معقول حصہ بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سونے کی خریداری اب بھی ایک پرکشش آپشن ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی معیشت غیر یقینی کا شکار ہے۔ تاہم، قلیل مدتی منافع کے لیے سونے میں سرمایہ کاری میں زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں اور کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے مالیاتی ماہرین سے مشورہ کریں۔
مستقبل میں، عالمی اقتصادی بحالی یا جغرافیائی سیاسی تنازعات میں کمی سونے کی قیمتوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، لیکن فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟
گزشتہ چند ہفتوں سے عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اب یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس غیر معمولی اضافے نے پاکستان سمیت متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے صارفین اور سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے
یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟
یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔
قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔
Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.