اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

ٹرینڈنگ
پاکش نیوز|4 اپریل، 2,026|7 منٹ مطالعہ

حمیدہ سلیمانی افشار: مشرق وسطیٰ میں پانی کے بحران پر نئی تحقیق کا عالمی اثر

ایرانی ماحولیاتی سائنسدان حمیدہ سلیمانی افشار کی مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت کے حوالے سے حالیہ تحقیق نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس مطالعے میں خطے کو درپیش آبی چیلنجز اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس کے پاکستان اور خلیجی ممالک پر بھی گہرے اثرات متوقع ہیں۔...

ایرانی ماحولیاتی سائنسدان حمیدہ سلیمانی افشار کی مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت کے حوالے سے حالیہ تحقیق نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ تحقیق، جو مئی 2,024 میں تہران یونیورسٹی کے جرنل آف انوائرنمنٹل سائنس میں شائع ہوئی، خطے کو درپیش آبی چیلنجز اور ممکنہ حل پر گہرائی سے روشنی ڈالتی ہے، جس کے پاکستان اور خلیجی ممالک پر بھی گہرے اثرات متوقع ہیں۔ اس مطالعے کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں تازہ پانی کے ذخائر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اوسطاً 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو فوری علاقائی تعاون کا تقاضا کرتی ہے۔

ایک نظر میں

ایرانی سائنسدان حمیدہ سلیمانی افشار کی پانی کی قلت پر تحقیق نے مشرق وسطیٰ میں آبی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے، جو پاکستان اور خلیجی ممالک کے لیے بھی اہم ہے۔

    ڈاکٹر حمیدہ سلیمانی افشار کی یہ تحقیق اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کی قلت ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کے کام نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں آبی وسائل کے انتظام اور تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج نے اقوام متحدہ کے آبی وسائل سے متعلق حالیہ رپورٹوں کی تصدیق کی ہے، جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ 2,030 تک مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے 50 فیصد سے زائد رہائشیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    • حمیدہ سلیمانی افشار کی پانی کی قلت پر تحقیق مئی 2,024 میں شائع ہوئی، جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
    • مطالعے کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں تازہ پانی کے ذخائر میں 20 سالوں میں اوسطاً 30 فیصد کمی آئی ہے۔
    • تحقیق پاکستان، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے گہرے مضمرات رکھتی ہے۔
    • ڈاکٹر افشار نے علاقائی تعاون اور جدید آبی انتظام کی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیا ہے۔
    • اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی 2,030 تک خطے میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں۔

    حمیدہ سلیمانی افشار کی تحقیق: مشرق وسطیٰ میں پانی کے بحران کی سنگین صورتحال

    ڈاکٹر حمیدہ سلیمانی افشار کی تحقیق 'مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت: چیلنجز اور پائیدار حل' (Water Scarcity in the Middle East: Challenges and Sustainable Solutions) ایک جامع تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں سیٹلائٹ ڈیٹا، زمینی سروے اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ خطے میں زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، اور دریاؤں کا بہاؤ کم ہو رہا ہے۔ خاص طور پر، عراق، شام، اور ایران جیسے ممالک کو دریائے دجلہ و فرات اور ان کے معاون دریاؤں میں پانی کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ خلیجی ممالک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور صحرائی طوفانوں کی وجہ سے پانی کے مسائل سے دوچار ہیں۔

    تحقیق کے اہم نکات اور علاقائی مضمرات

    تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ پانی کی قلت صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔ ڈاکٹر افشار نے اپنی تحقیق میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پانی کے ذخائر پر بڑھتا ہوا دباؤ، غیر پائیدار زرعی طریقوں اور پانی کے ضیاع کے باعث خطے میں خوراک کی سیکیورٹی اور علاقائی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، پانی کے وسائل کے مشترکہ انتظام اور سرحد پار تعاون کے بغیر یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    اس مطالعے نے خطے کے ممالک کو ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی دعوت دی ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    پس منظر اور تاریخی سیاق و سباق

    مشرق وسطیٰ دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی قلت والے خطوں میں سے ایک ہے۔ تاریخی طور پر، اس خطے میں پانی کے وسائل ہمیشہ محدود رہے ہیں، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلیوں، آبادی میں غیر معمولی اضافہ، اور پانی کے غیر مؤثر انتظام نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی بینک کی 2,023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک اپنی جی ڈی پی کا تقریباً 2.

    5 فیصد پانی کے انتظام پر خرچ کرتے ہیں، جو دنیا کے دیگر خطوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود، پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

    پاکستان، جو خلیجی خطے سے قریبی تعلقات رکھتا ہے اور خود بھی آبی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس تحقیق کے نتائج سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں پانی کی کمی، زیر زمین پانی کی بڑھتی ہوئی کھپت، اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن پاکستان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اسی طرح، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک، جو سمندری پانی کو میٹھا کرنے (desalination) پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، کے لیے بھی یہ تحقیق اہم ہے۔

    ماہرین کا تجزیہ: علاقائی تعاون کی ضرورت

    ڈاکٹر حمیدہ سلیمانی افشار کی تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے، اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر احمد رضا نے کہا، "یہ تحقیق مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بیداری کی گھنٹی ہے۔ پانی کے مسئلے کو اب انفرادی ممالک کی سطح پر حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے جامع علاقائی حکمت عملی اور تعاون درکار ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان آبی انتظام کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

    پاکستان اور خلیجی ممالک پر ممکنہ اثرات

    خلیجی خطے کے آبی وسائل کے ماہر، ڈاکٹر سارہ المحمدی، جو ابوظہبی میں مقیم ہیں، نے اس تحقیق کو سراہتے ہوئے کہا، "ڈاکٹر افشار کا کام انتہائی بروقت اور اہم ہے۔ خلیجی ممالک کو پہلے ہی پانی کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرنی پڑ رہی ہے، اور یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قدرتی آبی وسائل کا تحفظ کتنا ضروری ہے۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کو مشترکہ طور پر پانی کی بچت، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز جیسے ڈرپ اریگیشن کو فروغ دینے پر کام کرنا چاہیے۔

    " اس تحقیق کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پانی کی قلت کا مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے خطے کا مشترکہ مسئلہ ہے، اور اس کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

    آگے کیا ہوگا: مستقبل کے امکانات اور چیلنجز

    ڈاکٹر حمیدہ سلیمانی افشار کی تحقیق کے بعد، توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے درمیان پانی کے انتظام پر مزید بات چیت اور تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی اس مسئلے پر مزید توجہ دیں گے۔ مستقبل میں، جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی بارش (cloud seeding)، زیر زمین پانی کی ریچارجنگ، اور صاف پانی کی ری سائیکلنگ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    تاہم، سیاسی تنازعات اور سرحد پار آبی وسائل پر اختلافات ان کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق، اگر علاقائی تعاون کو فروغ نہ دیا گیا تو پانی کی قلت کے باعث ہجرت، خوراک کی عدم دستیابی، اور صحت کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ 2,025 تک، کئی ممالک میں پانی کی فی کس دستیابی خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔ اس لیے، ڈاکٹر افشار کی تحقیق ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے جو خطے کو اس اہم مسئلے پر غور کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے پر مجبور کرے گی۔

    اہم نکات

    • حمیدہ سلیمانی افشار کی تحقیق: ایرانی ماحولیاتی سائنسدان کی پانی کی قلت پر تحقیق نے مشرق وسطیٰ میں آبی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا۔
    • پانی کے ذخائر میں کمی: گزشتہ دو دہائیوں میں خطے میں تازہ پانی کے ذخائر میں اوسطاً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
    • علاقائی تعاون کی اہمیت: تحقیق نے پانی کے مشترکہ انتظام، تحفظ اور سرحد پار تعاون کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
    • پاکستان اور خلیجی ممالک پر اثرات: یہ تحقیق پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک کے لیے بھی اہم ہے جو خود آبی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
    • مستقبل کے چیلنجز: سیاسی اختلافات اور غیر مؤثر انتظام مستقبل میں پانی کے بحران کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
    • پائیدار حل: ماہرین نے جدید ٹیکنالوجیز اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے طریقوں کو اپنانے کی سفارش کی ہے۔

    اکثر پوچھے گئے سوالات

    اس خبر کا بنیادی خلاصہ کیا ہے؟

    ایرانی ماحولیاتی سائنسدان حمیدہ سلیمانی افشار کی مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت کے حوالے سے حالیہ تحقیق نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ تحقیق، جو مئی 2,024 میں تہران یونیورسٹی کے جرنل آف انوائرنمنٹل سائنس میں شائع ہوئی، خطے کو درپیش آبی چیلنجز اور ممکنہ حل پر گہرائی سے روشنی ڈالتی ہے، جس کے پاکستان اور خلیجی ممالک پر بھی گہ

    یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟

    یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات عوامی رائے، پالیسی فیصلوں اور علاقائی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

    قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

    سرکاری بیانات، مصدقہ حقائق اور وقتاً فوقتاً آنے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔

    Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.